پرویز ملک کے جنازے میں کیا ہوا؟

لاہور (ویب ڈیسک)ثاقب نثار کے لیے یہ بھی شاید خوشی کا مقام ہوگا جتنی شہرت بطور چیف جسٹس میڈیا میں وہ اپنا آئینی حق سمجھ کر لیتے تھے تقریباً اُتنی ہی ’’شہرت ‘‘ اب مفت میں اُنہیں مِل رہی ہے، اُن کے لیے شرمساری کی کوئی بات نہیں جس پر خود پر لگنے والے الزامات پر خود ہی اپنے ادارے سے وہ رجوع کرلیں،

نامور کالم نگار توفیق بٹ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ ملنا تو اُنہیں ریلیف ہی ہے حکمران بھی اُن کے اِس قدر ہم نواہیں کہ ثاقب نثار اگرخود بھی یہ کہہ دیں جوکچھ آڈیو میں ہے وہ سب سچ ہے، اِس کے باوجود حکمران کہیں گے نہیں یہ سب جھوٹ ہے …البتہ اُن کے لیے ایک بات ضرور باعث تشویش ہوسکتی ہے کہ ماضی میں وہ جنہیں اپنا ’’دوست‘‘ سمجھتے رہے وہ اُن کی مزید آڈیوزلیک نہ کروادیں… سو اِس ’’متوقع لیکیج‘‘ کو بند کرنے کے لیے جوکچھ اُن سے بن پڑے اُنہیں ضرور کرنا چاہیے… اگر یہ سلسلہ نہ رُکا جس ادارے کا تقریباً آدھی عمر وہ کھاتے رہے ہیں اُسے مزید رسوائیوں سے کوئی نہیں بچا سکتا، ویسے اُن کی اپنی رسوائی (اگر وہ محسوس کریں) یہی کافی ہے اب جس محفل میں وہ جاتے ہیں لوگ اُن پر انگلیاں اُٹھاتے ہیں، ہماری دعا یہ ہے معاملہ صرف اُنگلیاں اُٹھانے تک ہی محدود رہے، لوگ اُن سے سوال کرتے ہیں، اب کس کس کو منیر نیازی کا یہ شعر اپنی اپنی ناقص نثر میں وہ سناتے رہیں گے ’’کسی کو اپنے عملوں کا حساب کیا دیتے …سوال سارے غلط تھے جواب کیا دیتے ‘‘ …یہاں نہیں تو کہیں نہ کہیں جواب اُنہیں دینا پڑے گا، اور عمر کے وہ جس حصے میں ہیں جلدی دینا پڑے گا، …نون لیگ کی ایم این اے ملک پرویز مرحوم کے جنازے میں اُنہیں میں نے دیکھا، کوئی اُنہیں منہ نہیں لگا رہا تھا،’’گواچی گاں‘‘ کی طرح جنازہ پڑھ کروہان سے وہ فرار ہوگئے، …’’اِس طرح تو ہونا ہے اِس طرح کے کاموں میں ‘‘

…وہ یقیناً یہ سوچ رہے ہوں گے اِس معاشرے یا عوام کی یاداشت بہت کمزور ہے، اُن کی جو آڈیو لیک ہوئی ہے اُس کے اثرات چند دنوں میں خود بخود ختم ہو جائیں گے اور یہ معاملہ اُن کی جھاگ کی طرح بیٹھ جائے گا، ممکن ہے لوگ اِس معاملے کو واقعی بھول جائیں مگر ایک متنازعہ جج کے طورپر تاریخ اُنہیں ہمیشہ یاد رکھے گی، اُن کا شمار اب ملک قیوم جیسے ججوں میں ہوگا اورمیرے خیال میں زندگی میں اُن کی یہ خواہش بھی کبھی نہیں رہی کہ اُن کا شمار جسٹس کارنیلس، جسٹس صمدانی یا جسٹس بھگوان داس جیسے عظیم ججوں میں ہو، اگر یہ اُن کی خواہش ہوتی بطور چیف جسٹس آف پاکستان خالی ’’ رولا شولا‘‘ پاکے یا صرف نمائشی کام کرکے ریٹائرڈ ہونے کے بجائے کچھ ایسے کارنامے کرکے وہ ریٹائرڈ ہوئے جن سے عدلیہ پر لگے ہوئے کچھ داغ ختم ہو جاتے، … میں سوچ رہا ہوں کچھ لوگ کتنے محروم کتنے بدقسمت ہوتے ہیں کہ تاریخ اُنہیں ایک منفرد وباوقار مقام دینے کے لیے تیار ہوتی ہے اور اِس سنہری موقع کو اپنی بداعمالیوں سے وہ ضائع کردیتے ہیں، اصل میں عہدے سنبھالنے کے بعد وہ اتنے بدنیت اتنے منافق اتنے جھوٹے ہو جاتے ہیں قدرت نے اُن کے لیے جو نیک نامیاں سوچی ہوتی ہیں وہ بدنامیوں میں بدل جاتی ہیں، رسوائیوں میں بدل جاتی ہیں، ریٹائرمنٹ کے بعد کچھ لوگوں کی بدیاں لوگوں کوہمیشہ یاد رہتی ہیں، مگر اِس حوالے سے جو منفرد مقام افتخار محمد چوہدری اورثاقب نثار نے حاصل کیا اُس کی الگ ایک شناخت ہے، افتخار محمد چودھری کے زمانے میں، میں نے عرض کیا تھا ’’پہلے قانون اندھا ہوتا تھا اب کانا ہوتا ہے، اورثاقب نثار کو دیکھ کر مجھے ہمیشہ جسٹس نسیم حسن شاہ یاد آئے تھے، وہ بھٹو کو تختہ دار کی سزا دینے والے ججوں میں شامل تھے، یہ سزا اُنہوں نے اصل میں بھٹو کو نہیں اپنے ادارے کو دی تھی، … افتخار محمد چودھری اورثاقب نثار سے لوگوں نے بے پناہ اُمیدیں وابستہ کرلی تھیں، افسوس یہ بھی عدلیہ کے عمران خان ہی نکلے۔ہم نے پھولوں کی آرزوکی تھی۔۔۔آنکھ میں ’’موتیا‘‘ اُتر آیا۔۔

Comments are closed.