پلان بنانے والے کون تھے ؟ بڑے کام کا انکشاف

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار سینیٹر (ر) طارق چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا اس قوم پر ایک احسان تو یہ ہے کہ انہوں نے اس ملک کے تحفظ کے لیے ایٹمی ہتھیار بنایا ۔مگر پرویز مشرف کے دباؤ پر ناکردہ گناہوں کا اعتراف پاکستان کیلئے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا ایک اور احسان ہے

جس کا کوئی بدل نہیں ہوسکتا ، یہ احسان ایٹمی ہتھیار کی تخلیق سے کم نہیں۔وہ بوجھ جو حکومت پاکستان اور پوری قوم کے اٹھانے کا تھا وہ ڈاکٹر خان نے تنہا اپنے سر لے لیا، اس کی تفصیل تو شائد ممکن نہ ہو مگر اجمالاً ذکر آئندہ پر اٹھائے رکھتے ہیں۔ڈاکٹر خان نے پاکستان آنے کے بعد اپنی ساری عمر ایک طرح سے قید میں بسر کی،یہ الگ بات کہ شروع زمانے میں ان کی قید رضاکارانہ تھی اور بعد میں انہیں قیدی رہنے پر مجبور کردیا گیا،یہ زمانہ بڑا تلخ اور مشکلات سے بھرا ہوا ہے،وہ جس جذبے کے ساتھ پاکستان میںآئے،پاکستان کی1988ء کے بعد کی قیادت نے ان کی کوئی قدر نہ کی اور ان کے احسانات کو الزامات میں بدل دیا۔ اس کی تفصیلات آئندہ کالم میں لکھی جائیںگی۔ضیا ء الحق کی موت کے چند دن بعد ستارہ شناس پروفیسر غنی سے’’چکوال‘‘میں ملاقات ہوئی، انہیں نام بتائے بغیر راقم نے دو تاریخ پیدائش لکھوائی، ان میں سے ایک ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی تھی اور دوسری اعجاز الحق کی۔مگر پروفیسر کو ان کے نام نہیں بتائے گئے تھے۔ اس نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے تاریخ پیدائش پر غور کرنے کے بعد کہا ، اس شخص نے کوئی ایسی ایجاد کی ہے کہ پوری دنیا میں اس کی شہرت پھیل گئی ہے مگر اس شہرت اور نیک نامی کے باوجود یہ قید میں ہیں۔ اس کی یہ قید جبری نہیں ، رضاکارانہ ہے، اور یہ ایسی ہی ایک اور ایجاد کرے گا، جس سے اس کی شہرت بلندیوں پر ہوگی مگر اس کے

حاسد اور دشمن بھی بے شمار ہیں، اسے بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ناکردہ گناہوں کی بدنامی اٹھانا ہوگی۔ اس کی ایجادات پر نظر ڈالوں تو یوں لگتا ہے کہ یہ کوئی سائنس دان ہے اور اس نے فی الواقع کوئی ایسا کارنامہ انجام دیا ہے کہ اس کے دوست بے شمار اور دشمن بھی کچھ کم نہیں۔ پاکستان کی فوج اور ایجنسیوں کی داد دیئے بنا نہیں رہ سکتے کہ مسلم دنیا میں مصر، عراق ، ایران سمیت جس ملک نے جدید ٹیکنالوجی خصوصاً ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کی کوشش کی اس کے سائنس دانوں کو چن چن کر ختم کردیا گیا اور ان کی تنصیبات کو براہ راست نشانہ بنا کر تباہ کیا گیا لیکن پاکستان سائنس دانوں ، انجینئروں اور دفاعی تنصیبات کی حفاظت میں پاکستان کا کردار شاندار اور بے داغ ہے۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور ان کے ساتھیوں کی زندگیاں برسہا برس تک خطرے میں تھیں، ان کو اٹھا لے جانے اور زندگی سے محروم کرنے کے لیے کیا کیا سازشیں اور منصوبے نہیں بنائے گئے لیکن ہمارے اداروں نے دشمنوں کے ارادے خاک میں ملادئیے، کہوٹہ پر اٹیک کی متعدد بار منصوبہ بندی کی گئی اور اس میں اسرائیل اور بھارت آلہ کار تھے اور امریکہ منصوبہ ساز۔امریکہ کی انہیں ساری اطلاعات اور معلومات فراہم کرتا رہا،ہر بار پاکستان کی دفاعی اور جوابی تیاروں کو دیکھ کر خود ہی انہیں منع کیا کرتا تھا،وہ جانتا تھا کہ پاکستان کا جوابی وار اس قدر جلد،بروقت اور تباہ کن ہوگا کہ انڈیا اور اسرائیل دونوں اپنے اثاثہ جات کے ساتھ،شائد سلامتی سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں۔

Comments are closed.