پنجاب سے پیپلز پارٹی کا صفایا ہونے میں غلام مصطفیٰ کھر کا کیا کردار ہے ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور پاکستانی سیاستدان ، پی پی رہنما اور سینیٹر رحمان ملک اپنے ایک خصوصی آرٹیکل میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔جب اگست میں 1973 کا آئین منظور ہو اور پی پی پی اقتدار میں آئی تو کھر کو صوبہ پنجاب کے وزیراعلیٰ کا قلمدان دیا گیا۔ پی پی پی کے اندر سے شکایات پر،

کھر کی جگہ بائیں بازو کی طرف جھکاؤ رکھنے والے اور دانشور حنیف رامے نے لے لی۔ کھر کو مارچ 1975ء میں مختصر طور پر دوبارہ گورنر مقرر کیا گیا اور آخر کار جولائی 1975ء میں برطرف کر دیا گیا۔ کھر کے مشکوک عزائم پر بھٹو کے شہبات نے پنجاب میں پی پی پی کے اندر گہری تقسیم کی اور پھر کھر کو لاہور میں رامے کی نشست پر انتخاب لڑنے کی اجازت سے انکار کر دیا گیا اور کھر کی آزاد حیثیت سے اس نشست پر انتخاب لڑنے کی کوششیں ناکام ہو گئیں۔ 1976ء تک پی پی پی کے اندر سابق حریف، کھر اور رامے پیر آف پگارو کی پاکستان مسلم لیگ (ایف) کے اندر مل کر کام کر رہے تھے۔ مسٹر کھر نے دوبارہ پارٹی جوائن کی اور انہوں نے میری موجودگی میں پی پی پی پنجاب کے صدر کے عہدے کے لیے درخواست کی تھی جسے مسترد کر دیا گیا تھا۔ یہ ملاقات ٹرین میں ہوئی تھی جس میں انتہائی قابل مسٹر واجد شمس الحسن اور میں موجود تھے۔ حیات شیر پاؤ پاکستان کے سابق صدر اور وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے قریبی ساتھی اور پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے شریک بانی تھے۔ بھٹو کے پاکستان کے صدر بننے کے فوراً بعد 25 دسمبر 1971 کو شیرپاؤ خیبرپختونخوا کے 15 ویں گورنر بنے۔ 34 سال کی عمر میں شیر پاؤ پاکستان کی تاریخ میں کسی صوبے کے گورنر کے عہدے پر فائز ہونے والے سب سے کم عمر شخص تھے۔ وہ 30 اپریل 1972 ء تک اس عہدے پر فائز رہے۔ شیر پاؤ ذوالفقار علی بھٹو کی کابینہ میں وفاقی وزیر اور خیبرپختونخوا کابینہ میں سینئر وزیر بھی رہے۔

خیبرپختونخوا کے ساتھ ساتھ باقی پاکستان میں ان کی مقبولیت میں اضافے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس پر کئی حاسد نگائیں پڑی اور انہوں نے کئی دشمن بنا لیے، جو اکثر دیگر مرکزی دھارے کی سیاسی جماعتوں کے تجربہ کار اور پہلے سے قائم سیاستدانوں کی شکل میں ہوتے ہیں۔ تاہم اس مقبولیت اور سیاسی کامیابی نے انہیں ذوالفقار علی بھٹو کے ذریعہ ’’سرحد کا شیر‘‘ بنا دیایا‘‘ شیر سرحد‘‘ کہا گیا انہیں 8 فروری 1975ء کو پشاور یونیورسٹی کے کیمپس میں نشانہ بنا دیا گیا تھا۔ ان کی موت آج بھی تازہ ہے اور تاریخ کا حصہ ہے۔ عبدالحفیظ پیرزادہ ایک پاکستانی وکیل، قانونی تھیوریسٹ، اور سیاست دان تھے، جنہوں نے 1971 سے 1977 تک صدر اور بعد میں وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں وزیر اطلاعات، وزیر قانون، وزیر خزانہ اور وزیر تعلیم کے طور پر کام کیا۔ انہیں 1973 میں منظور ہونے والے آئین پاکستان کے پرنسپل ڈرافٹ مین کے طور پر جانا جاتا ہے۔ پیرزادہ پاکستان پیپلزپارٹی کے بانی رکن تھے اور 1970 کے انتخابات میں قومی اسمبلی کے لیے منتخب ہوئے، انہوں نے بھٹو حکومت میں کئی وزارتی قلمدان سنبھالے۔ 1977 میں جنرل ضیاء الحق کی جانب سے حکومت کو معزول کرنے کے بعد، انہوں نے مبینہ طور پر ایک سنگین کیس میں ذوالفقار بھٹو کے دفاع کی ناکام مدد کی۔ انہوں نے ضیا دور حکومت میں قید ہونے سے قبل پیپلزپارٹی کی مختصر قیادت کی، آخر کار بے نظیر بھٹو سے اختلافات پر پارٹی چھوڑ دی، اور سیاست سے ریٹائر ہو گئے۔ درحقیقت سندھ کے سیاستدانوں کا گروپ جی ایم جتوئی، ممتاز علی بھٹو حفیظ پیرزادہ اور مولانا نیازی جنرل ضیاء کی طرف وفاداریاں تبدیل کر گیا تھا۔ درحقیقت یہ وہ چند رہنما تھے جنہوں نے ذوالفقار علی بھتو کی پیٹھ پر وار کیا اور بھٹو کو دھکیلنا آسان ہو گیا۔ بنیادی طور پر پی پی پی کا دوبارہ جنم شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی بے مثال جدوجہد سے ہوا تھا اور بھٹو خاندان کے افراد نے پی پی پی کے لیے اپنا خون دیا تھا اور محترمہ نے یہاں اور بیرون ملک ایک عظیم ٹیم کھڑی کی تھی اور پی پی پی نے ان کی پہلی لاہور آمد پر اپنی طاقت دکھائی تھی۔

ذوالفقار بھٹو کے مذکورہ قریبی ساتھیوں کے علاوہ پی پی پی کے بہت سے سینئر رہنما اور بھٹو کے قریبی ساتھیوں میں حفیظ پیرزادہ، ستار گبول، قاسم پٹیل، پیار علی الانا، جام صادق، حفیظ چیمہ، حبیب اللہ اور مصطفی جتوئی شامل تھے۔انہوں نے اپنی وفاداریاں تبدیل کر کے فوجی آمریت کا ساتھ دیا اور ان کے والد کی پھانسی کے خلاف بی بی کی مزاحمتی تحریک کو چھوڑ دیا۔ ضیاء حکومت نے پیپلزپارٹی کے کارکنوں اور رہنماؤں کو خوف زدہ کر دیا اور اسی وجہ سے درمیانی سطح کی قیادت روپوش ہو گئی۔ محترمہ بے نظیر بھٹو (اپنے والد کے الفاظ میں پنکی) نے اپنے پایا کو بچانے کے لیے جدوجہد کرنے کا فیصلہ کیا لیکن انھیں بند کر دیا گیا اور سکھر قید خانے کی اونچی دیواروں کے پیچھے ان کی آواز کو دبا دیا گیا اور کبھی گھر میں نظر بند کر دیاگیا۔ اس نے قید خانے میں اپنے بابا کے ساتھ اپنا وعدہ پورا کیا اور وہ ایک لیڈر بن کر ابھریں۔ دوبارہ وزیراعظم رہی مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ میں اپنی پہلی حکومت میں ڈائریکٹر ایف آئی اے اور انکے دوسرے دور میں ایڈیشنل ڈی جی ایف آئی اے کے طور پر کام کیا اور پھر آمریت کے خلاف جدوجہد میں جلاوطنی میں ان کی مدد کی۔ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) پاکستان کی واحد سیاسی جماعت ہے جس کو نچلی سطح پر حمایت حاصل ہے اور غالباً سب سے زیادہ تعداد میں قربانیاں دینے والوں کی جماعت ہے۔ یہ واحد بڑی سیاسی جماعت ہے جس کے پاس پارٹی قیادت کا جانشین ہے‘ بلاول بھٹو۔ اس کے پاس نوجوان قیادت ہے جو حقیقت میں پارٹی کے ساتھ ساتھ ریاست کا مستقبل بھی بدل سکتی ہے۔ پیپلز پارٹی کا سندھ کی دیہی آبادی اور شہری مراکز میں عوام کے ساتھ مضبوط رشتہ ہے۔ بھٹو کی میراث آج بھی مضبوط ہے اور پیپلز پارٹی اسے کامیابی سے کیش کر رہی ہے۔