پنجاب میں تبدیلی کے لیے ترین گروپ کی (ن) لیگ کے ساتھ خفیہ بات چیت کا انکشاف

لاہور (ویب ڈیسک) نامور صحافی ایس اے زاہد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ترین گروپ نے اپنے وجود کو تسلیم کیا ہے اور ’’ دوسروں‘‘ کو تسلیم کرانے کے لئے پنجاب اسمبلی میں’’ نظریاتی گروپ‘‘ کا الگ تشخص قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ گزشتہ رات جہانگیر ترین کے گھر ایک

عشائیے میں32اراکین قومی وصوبائی اسمبلی نے پنجاب اسمبلی میں الگ پارلیمانی کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جبکہ جہانگیر ترین نے اگلے روز عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگومیں براہ راست وزیر اعلیٰ عثمان بزدار پر شدید تنقید کی ۔ بعض باخبر ذرائع کے مطابق پنجاب میں حکومتی تبدیلی کے حوالے سے ان کی مسلم لیگ(ن) کے ساتھ بات چیت چل رہی ہے۔ذرائع کے مطابق ترین فیکٹر آئندہ بجٹ کی منظوری میں بھی مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔ بعض قومی وصوبائی اراکین اسمبلی بھی درپردہ جہانگیر ترین کو اپنی حمایت کا یقین دلا چکے ہیں۔ دوسری طرف یہ بھی خبریں ہیں کہ وفاقی حکومت نے بجٹ تک جہانگیر ترین کے حوالے سے ہتھ ہولا رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وفاقی وزرا اور وفاقی وصوبائی مشیران کے تازہ بیانات سے ان خبروں کی تصدیق ہوتی ہے۔ ترین گروپ کے بعض اراکین اور خود جہانگیر ترین کے تحریک انصاف میں رہنے کے بیانات بھی بڑے معنی خیز ہیں۔ اور سمجھنے والے سمجھتے ہیں کہ ’’ تحریک انصاف میں تھے، ہیں اور رہیں گے‘‘۔ کے بیانات کا کیا مقصد ہے اور آگے کیا ہونیوالا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ پی ٹی آئی میں ایک اور گروپ جلد سامنے آجائے ۔راولپنڈی رنگ روڈ کامعاملہ بھی مزید آگے جارہا ہے۔ جن حکومتی عہدیداروں کے نام سامنے آئےہیں ان کے علاوہ مزید افراد کے نام بھی سامنے آسکتے ہیں۔ بعض وجوہات کی بنا پر یہ معاملہ نہ تو ٹھنڈا کیا جاسکے گا اور نہ ہی اس پر حسبِ روایت مٹی ڈالی جاسکے گی۔

راولپنڈی روڈ کا معاملہ جس طرح کھولا گیاہے وہ کوئی حادثاتی نہیں ہے۔ اس کے نتائج بھی دوررس ہوسکتے ہیں۔ بعض ذرائع کا خیال ہے کہ آنیوالے بجٹ کے بعد مہنگائی میں مزید اور ناقابلِ برداشت اضافہ ہوسکتا ہے۔ کورونا کے اگست کے آخرتک رہنے کا امکان ہے اور اس دوران اس میں مزید تیزی آسکتی ہے۔ ستمبر کے بعد کورونا کی کوئی نئی قسم یا کوئی نئی وبا پھر دنیا کو متاثر کرسکتی ہے۔اس لئے لوگوں کو چاہئے کہ احتیاط کا دامن نہ چھوڑیں۔پی ڈی ایم حکومت کے خلاف فیصلہ کن کردار ادا کرنے کی تیاریوں میں ہے۔ باخبر ذرائع کا خیال ہے کہ اس بار پی ڈی ایم کا ٹھوس حکمت عملی کے ساتھ میدان میں اترنے کا ارادہ ہے۔ وزیر اعظم صاحب کو سب اچھا ہے کی خبر دینے والے یقیناً ان کے خیر خواہ نہیں ہوسکتے۔عوامی مشکلات بیوروکریسی کے ساتھ بڑھتے اختلافات، بےپناہ مہنگائی اور سیاسی صف بندیاں یہ اشارے ہیں کہ سب اچھا نہیں ہے۔ وزیراعظم کو حکومتی اعدادوشمار پر اکتفا کرنے کے بجائے حقائق کوسامنے رکھتے ہوئے غیر جذباتی فیصلے کرنے چاہئیں۔ آئے روز معاملات کے گرفت سے نکلنے کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ تبدیلی آنیوالی ہے وہ چاہے کسی بھی صورت میں اور کسی طرح بھی ہو۔ لیکن پاکستانیوں کو تسلی ہونی چاہئے کہ اچھے دن آنیوالے ہیں۔ علاوہ ازیں بین الاقوامی طور پر پاکستان خطے میں قائدانہ کردار ادا کرنے کے بالکل قریب ہے۔ اس لئے کسی بھی طرح مایوس نہیں ہونا چاہئے۔ بقول شاعر:تیز ترک گامزن منزل ما دور نیست۔۔(ش س م)

Comments are closed.