پنجاب میں تینوں جماعتوں کے ووٹ بنک کی موجودہ صورتحال کیا ہے ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار محمد اکرم چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔جہانگیرترین گروپ کے مطابق پیپلزپارٹی سے رابطوں کی خبروں میں صداقت نہیں ہے۔ عمران خان کے ساتھ ہیں اور تحریک انصاف کا حصہ ہیں، پیپلز پارٹی سے کوئی رابطہ نہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور جہانگیر ترین کے درمیان رابطوں

کی خبر جہانگیر ترین نے سختی سے تردید کی تھی۔ پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب میں واپسی کی کوششیں کر رہی ہے۔ ماضی قریب میں انہوں نے پنجاب کے مختلف حلقے جیتنے والے سیاستدانوں سے رابطے بھی کیے لیکن کوئی بڑی کامیابی نہیں مل سکی۔ پنجاب میں زمینی حقیقت کیا کہتی ہے۔ سب سے بڑی حقیقت یہی ہے کہ پنجاب میں پاکستان پیپلز پارٹی کا ووٹ بینک صرف کم ہی نہیں ہوا بلکہ منفی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ اس کی مثال کچھ یوں ہے کہ اگر کسی آزاد امیدوار کو جو ایک لاکھ سے زیادہ ووٹ لے کر کامیابی حاصل کرے اگر وہ پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کرے اور اس جماعت کے ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لے تو ناکام بھی ہو گا اور ووٹوں کی تعداد میں بھی خطرناک حد تک کمی واقع ہو جائے گی۔ پنجاب کے بڑے حصے میں عملی طور پر پاکستان پیپلز پارٹی کی سیاست ختم ہو چکی ہے البتہ جنوبی پنجاب میں مخدوم احمد محمود کی وجہ سے پی پی پی کا وجود قائم ہے اور وہاں سے کچھ کامیابی بھی مل سکتی ہے لیکن اس کے علاوہ ہر طرف خاموشی ہے۔جب آپ یہ بات کریں کہ پنجاب میں سیاست دان پیپلز پارٹی کو ترجیح کیوں نہیں دیتے تو اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ لوگوں کو یقین ہے کہ یہاں پیپلز پارٹی حکومت نہیں بنا سکتی اور کوئی بھی سیاستدان ہاری ہوئی جماعت یا ڈوبتی کشتی میں سوار ہونا پسند نہیں کرتا اگر بلاول بھٹو زرداری اور آصفہ بھٹو اپنے نانا ذوالفقار علی بھٹو اور والدہ بینظیر بھٹو کی جماعت کو پنجاب

میں دوبارہ زندہ کرنا چاہتے ہیں تو انہیں لوگوں کو یقین دلانا پڑے گا کہ پیپلز پارٹی پنجاب میں حکومت بنا سکتی ہے، حکومت سازی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے، حکومت بنانے یا گرانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ جب تک لوگوں کو یہ یقین نہیں ہو گا پیپلز پارٹی کی طرف جھکاؤ کا امکان نہیں ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کو سندھ کی گورننس کو بہتر بنا کر ان کے حوالے سے جو تاثر قائم ہے اسے قائم ہے اسے زائل کرنے کے لیے کام کرنا ہو گا کیونکہ سندھ میں مسلسل حکومت کے باوجود بنیادی مسائل جوں کے توں ہیں اور لوگ ان کے طرز حکومت سے خوش نہیں ہیں۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کی کارکردگی اور اس حوالے سے تاثر بھی پنجاب میں ان کے راستے کی بڑی رکاوٹ ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ یہاں بلاول بھٹو کے لیے جگہ موجود ہے، مختلف سیاسی جماعتوں سے الگ ہونے والے لوگوں کو قومی سیاسی جماعت میں شمولیت کی ضرورت تو ہے پیپلز پارٹی انہیں ہدف بنا سکتی ہے۔ وہ لوگ جنہیں کسی بھی وجہ سے پاکستان مسلم لیگ نون قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے یا وہ لوگ جن کے لیے اب پاکستان تحریکِ انصاف میں بھی کوئی جگہ نہیں ہے پیپلز پارٹی ان کے لیے آئیڈیل جماعت ہو سکتی ہے۔ ان لوگوں کو قائل کرنا بہتر ماحول فراہم کرنا پیپلز پارٹی کے لیے چیلنج ہے اگر سیاسی میدان کے ان کھلاڑیوں کو بہتر مستقبل کی ضمانت دی جاتی ہے، سیاسی ماحول کو بہتر انداز میں استعمال کیا جاتا ہے

تو پھر پرانے دوستوں کی واپسی بھی ہو سکتی ہے اور نئے سیاسی دوست بھی بن سکتے ہیں لیکن یہ سب کچھ اتنا آسان ہرگز نہیں ہے۔ بلاول بھٹو زرداری اور پیپلز پارٹی کے اکابرین کی صلاحیتوں کا امتحان ہے۔ پیپلز پارٹی نے تنظیم سازی کے لیے بہتر وات کا انتخاب ضرور کیا ہے ان کے پاس آئندہ عام انتخابات سے پہلے خاصا وقت ہے وہ لوگوں کو متحرک کر سکتے ہیں، جوڑ توڑ کر سکتے ہیں، بہتر تنظیم سازی سے پنجاب میں واپسی کے لیے دیگر جماعتوں کی نسبت ان کے پاس زیادہ وقت ہے۔ اس حوالے سے وہ بہتر فیصلے بھی کر رہے ہیں۔ سید یوسف رضا گیلانی پنجاب میں ان کے لیے بہتر کام کر سکتے ہیں۔ لیکن سب سے بڑا ہدف منفی ووٹ کو پلس کرنا اور پھر اس ووٹ کو فتح میں بدلنا ہے۔ مختلف وقتوں میں ناکامی کے باوجود پیپلز پارٹی پنجاب میں واپسی کے لیے مسلسل کوششیں ضرور کر رہی ہے۔ سیاسی میدان کے کھلاڑیوں کو یہ ضرور یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ نون یا دیگر سیاسی جماعتوں کے لیے اگر کوئی راستہ پیدا کر سکتا ہے تو وہ پاکستان تحریکِ انصاف ہے۔ اگر پی ٹی آئی کی حکومت بہتر فیصلوں سے بنیادی عوامی مسائل حل کرنے میں کامیاب ہوتی ہے تو پھر پنجاب میں پاکستان پیپلز پارٹی ہی نہیں مسلم لیگ نون کی مشکلات میں بھی اضافہ ہو گا۔ پی ٹی آئی اب تک بین الاقوامی سطح پر مختلف شعبوں میں بہتر کارکردگی کے باوجود عوامی مسائل حل کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہے اور ان مسائل میں مہنگائی سر فہرست ہے۔ کوئی بھی حکومت جتنی مرضی کامیابیاں حاصل کر لے اگر عام آدمی کے مسائل حل نہ کر سکے تو الیکشن ڈے پر برج الٹنے میں دیر نہیں لگتی۔ مسلم لیگ ق کا دوسرا الیکشن اور دو ہزار تیرہ کا پیپلز پارٹی کا الیکشن اس کی واضح مثالیں ہیں۔ دو ہزار آٹھ میں ق لیگ نے کئی کامیابیاں حاصل کیں اور دیگر سیاسی جماعتوں سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا لیکن آخری دنوں میں آٹے کے بحران نے ق لیگ کا بوریا بستر گول کر دیا۔ اسی طرح اس کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کو بجلی بحران کی وجہ سے گھر جانا پڑا۔ اب ایسی ہی صورتحال کا سامنا پاکستان تحریکِ انصاف کو بھی کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ حکومت مہنگائی پر قابو پانے میں مکمل طور پر ناکام نظر آتی ہے اور یہ سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اگر آئندہ عام انتخابات تک پاکستان تحریکِ انصاف عام آدمی کی قوت خرید کو بڑھانے اور مہنگائی کم کرنے میں کامیاب نہ ہو سکی تو پھر اسے مسلم لیگ ق اور پاکستان پیپلز پارٹی کے انجام کو یاد رکھنا چاہیے۔

Comments are closed.