پنجاب پولیس کا شاندار کارنامہ

ملتان ( ویب ڈیسک )جنوبی پنجاب میں 50 بچیوں کو ورغلا کر لے جانے والے میاں بیوی کے بارے میں حیرت انگیز انکشافات ہوئے ہیں،ملزم سابق پولیس رضا کار تھا ،تھانہ شاہ شمس میں دو بچیوں سمیت پکڑے جانے پر لاکھوں روپے لے کر ایک بچی سمیت چھوڑ دیا گیا تھا ڈیڑھ سالہ اسی بچی کو ملزم

ملزم کے مزید انکشافات کاسلسلہ جاری ہے،تفصیل کے مطابق خانیوال پولیس نے بنوں کے رہائشی عبدالرزاق اور اسکی بیوی کوثر المعروف رخسانہ کو ایک بچی کو لے جاتے ہوئے گرفتار کیا تھا،ان ملزموں نے اہم انکشافات کیے ہیں ملزموں کے انکشافات کے مطابق وہ جنوبی پنجاب اور ارد گرد کے علاقوں سے بچیوں کو لے جاتے اور انہیں علاقہ غیر میں بیچ دیتے تھے،ایک بچی اگر وہ گوری ہوتی تو ایک لاکھ جبکہ رنگ گندمی یا کالا ہونے پر 50 ہزار میں فروخت کرتے تھے،وہ ملتان سے 20 ،وہاڑی سے تین،مظفر گڑھ سے چار،لیہ سے دو ،ڈیرہ غازیخان اور بہاولپور سے بھی متعدد بچیوں کو لے جا کر فروخت کر چکے ہیں،یہ سلسلہ گزشتہ 17 برسوں سے جاری تھا، اس دوران ملزم عبدالزاق بطور پولیس رضاکار مختلف پولیس افسروں کے ساتھ کام کرتا رہا جن میں اللہ بخش مڑوڑی ،ایک ڈی ایس پی اور ایک ریٹائرڈ انسپکٹر کے ساتھ بھی رہا،ملازم اور اسکی بیوی نے جب سکی بچی کو لے جانا ہوتا وہ متعلقہ گھر کے ساتھ اپنا تعلق بنا لیتے یا اسکے قریب رہائش اختیار کر لیتے تھے، بنوں پولیس نے اس سال جنوری میں تھانہ شاہ شمس کو رابطہ کر کے اس بارے میں بتایا جس پر ایس ایچ او سعید سیال نے اے ایس آئی اقبال کو بنوں بھجوا یا جہاں کی پولیس نے رپورٹ لکھ کر ملزم عبدالزاق اسکی بیوی اور دونوں بچیوں مہک اور بشری کو حوالے کیا،ملتان تھانہ میں آنے کے بعد پولیس نے ملزم کے ساتھ بذریعہ ایک اے ایس آئی جو کہ لودھراں میں تعینات ہے لاکھوں روپے وصول کر کے مک مکا کر لیا اور مہک کے والدین کو بلوا کر ان سے صلح نامہ لے کر ملزم عبدالزاق اسکی بیوی اور دوسری بچی بشری کو چھوڑ دیا ،اس گرفتاری اور رہائی کی کوئی رپورٹ تھانہ میں درج نہیں کی گئی۔

Sharing is caring!

Comments are closed.