پنجاب کا وزیراعلیٰ کس کو بنایا جا سکتا ہے ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور خاتون کالم نگار عاصمہ شیرازی اپنے ایک کالم میں لکھتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔گذشتہ تین سال سے ایک صفحے اور ایک تحریر کا بہت چرچا رہا ہے۔ لکھنے والے ہاتھ اور پڑھنے والے لہجے من مرضی کی تشریح کر رہے ہیں۔ لکھا کچھ بھی جائے حکومت ہر تحریر کو ’منجانب ادارہ‘ ہی سمجھ رہی ہے۔

ایسے میں تحریر لکھنے والے اپنے قلم کو سوچ سمجھ کر استعمال کرنا شروع ہو گئے ہیں۔ نیوٹرل وہ رہے یا نہیں مگر مختلف ’آپشنز‘ پر غور کھیل کا حصہ ضرور ہے۔ سب امکانات کا کھیل ہے مگر ہر گزرتے دن کے ساتھ طاقتور حلقوں کے لیے چوائسز محدود ہو رہی ہیں۔گذشتہ تین سال میں طاقت کے سب مراکز حکومت کی پُشت پر رہے ہیں۔ حکومت کے وجود سے موجود تک ہر طرح کی حمایت کی گئی۔ ہواؤں کے رخ تبدیل کرنے سے لے کر دریاؤں کے مُنھ موڑنے تک۔۔۔ دھند کے شکار موسموں سے عروج کی چلچلاتی دھوپ تک۔۔۔ کہاں کہاں، کیسے کیسے اداروں نے حکومت کا ساتھ نہیں دیا۔’میرج آف کنوینئینس‘ بنیاد بنی یا کچھ مگر یہ طے ہے کہ اداروں نے خوب ساتھ نبھایا۔۔۔ اور ایسے میں اب بھی عوام کو ’باہر لانے کی وارننگ ‘ دی جائے تو کیا کہا جائے؟ کامیابیوں کے شریک کار کبھی ناکامیوں کے ذمہ دار نہیں رہے۔ابھی حال ہی میں سینیٹ انتخابات میں الیکشن کمیشن کو قومی اسمبلی کی چھت کے نیچے شامیانے لگانا پڑے کہ کہیں سے کوئی مداخلت کا خطرہ موجود تھا اور پھر وزیراعظم نے خود کو جان جوکھوں میں ڈال کر جس طرح اعتماد کا ووٹ لیا وہ بھی ایک کھلا راز ہے۔اطلاعات ہیں کہ پانچ کے قریب اراکین اعتماد کا ووٹ نہیں دینا چاہتے تھے تاہم کنٹینر کارروائی کہیں یا اپوزیشن کی جانب سے فی الوقت وفاقی حکومت کو نہ چھیڑنے کا منصوبہ، بہرحال وجہ کوئی بھی ہو بلاخر وزیراعظم کو سولہ منحرف اراکین سے این آر او ضرور لینا پڑا ہے۔

حکومت کو اعتماد مل گیا؟ کتنے عرصے کے لیے یہ کوئی جوتشی ہی بتا سکتا ہے۔ یوسف رضا گیلانی کی جیت نے بہرحال حکومت کو کمزور کیا ہے اور اعتماد کے ووٹ نے بداعتمادی میں اضافہ۔جو دوست کل تک یہ کہہ رہے تھے کہ پی ڈی ایم ناکام ہو گئی اُنھیں معلوم ہو گیا ہو گا کہ تحریکیں ایک دن میں نہ تو کامیاب ہوتی ہیں اور نہ ہی ناکام۔۔۔ پی ڈی ایم صفحے کی تحریر کو مبہم بنا رہی ہے اور اسے معدوم کرنے میں ابھی کچھ وقت درکا ر ہو سکتا ہے۔چیئرمین سینیٹ کی دوڑ اب ایک اور امتحان ہوگی۔ پی ڈی ایم حکومت کو تھکانا اور آزمانا چاہتی ہے مگر بدلنا نہیں چاہتی۔ جوہات صاف ظاہر ہیں، ابھی جون میں پیش ہونے والا بجٹ حکومت کے لیے بڑا امتحان ہو گا۔ بھلا خسارے کے بجٹ میں اپوزیشن حصہ کیوں ڈالے۔ دن بدن گرتی معیشت راولپنڈی اور اسلام آباد دونوں کی لیے ایک چیلنج بن رہی ہے۔وزیراعظم کو جلد اپنی مرضی کے خلاف فیصلے کرنے پڑ سکتے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ پنجاب کھونا نہیں چاہتی اور خان صاحب بُزدار صاحب سے ہاتھ دھونا نہیں چاہتے۔ایسے میں تحریر لکھنے والے عجب مخمصے کا شکار ہیں۔ اپوزیشن بُزدار سرکار کے خلاف عدم اعتماد لانہیں سکتی جب تک کہ چوہدری پرویز الہی فی الحال پی ڈی ایم کے متفقہ امیدوار بن نہیں سکتے۔پیپلز پارٹی ق اور ن میں پُل کا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ تاہم پنجاب کا سیاسی کھیل ایک چومکھی لڑائی کی شکل اختیار کر چکا ہے۔وزیراعظم کے پاس آج بھی چوہدری پرویز الہی کی صورت وزیراعلی موجود ہیں جو اگلے انتخابات سے پہلے پرفارم کر سکتے ہیں لیکن وزیراعظم تاحال کسی صورت ’وسیم اکرم پلس‘ سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ ایسے میں ن لیگ لمبی دوڑ میں شریک ہونا چاہتی ہے۔حالات وہاں پہنچ گئے ہیں جہاں بقول چوہدری شجاعت کے کوئی جماعت حکومت سنبھالنے اور کوئی وزیراعظم بننے کو تیار نہیں ہوگا۔ اپوزیشن کی سیاسی طاقتیں شاید اُس ایک وقت کا کچھ اور انتظار کریں۔دوسری جانب لانگ مارچ قریب ہے اور عوام میں غم و غصہ بھی۔ طاقتور حلقے ایک مشکل صورتحال میں پھنس چکے ہیں۔ دن بہ دن غیر مقبول ہوتی حکومت کا فائدہ اٹھاتے زورآور اپوزیشن جماعتیں عوام کی حمایت سے صفحہ پلٹنے کی کوششوں میں لگی ہیں۔دس سیاسی جماعتیں اسلام آباد آئیں یا راولپنڈی کا رُخ کریں، نئی تحریر کے لیے دباؤ میں اضافہ تو بہرحال ہو گا۔بقول معروف شاعر شکیل جاذب:اب تک تو کہانی کو چلاتے رہے کردار۔۔کردار مگر اب ہیں کہانی کے حوالے

Comments are closed.