پنجاب کے کس مقام پر بیٹھ کر ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے یہ بات کہی تھی ؟

لاہور (ویب ڈیسک) سابقہ وزیر اعظم میر ظفر اللہ خان جمالی تھے۔ نہایت شریف، خاموش طبع اور صابر شخص تھے۔ جب میں 1976کے شروع میں آیا اور ایٹم بنانے کا کام شروع کیا ان سے غائبانہ تعارف ہوا۔ یہ بہترین ہاکی پلیئر تھے اور چونکہ میرا تعلق بھوپال سے ہے جو ہاکی کا گڑھ تھا

نامور کالم نگار ڈاکٹر عبدالقدیر خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ مجھے ہاکی کے کھلاڑیوں اور ٹورنامنٹس کے بارے میں خاصی معلومات تھیں۔ میرے ایک نہایت عزیز دوست غلام حسین راجہ جو ملٹری اکائونٹس سے ریٹائرہوئے تھے اور گارڈن کالج کے بہت اچھے ہاکی کے کھلاڑی تھے وہ جمالی صاحب کے بھی اچھے دوست تھے ۔ وہ ماہر نجوم تھے اور گلزار اورلالہ فاروق کے قریبی عزیز تھے۔ ماہر نجوم ہونےکی وجہ سے وہ پروفیسر راجہ کہلانے لگے تھے۔ وہ اور مقصود شیخ (ایک نہایت نیک، مذہبی شخص، سیکریٹری بلدیات وفاق) روز شام کو میرے پاس پکوڑے کھانے اور چائے پینے آتے تھے، کپ میں چائے سے زیادہ چینی ہوتی تھی۔ ایک روز رات کومیں نے راجہ صاحب کو فون کیا اور کہا میں ابھی پانچ منٹ بعد کرتا ہوں۔ جب فون آیا تو کہنے لگے جمالی صاحب آئے تھے اپنے مستقبل کے بارے میں پوچھ رہے تھے تو میں نے کہہ دیا کہ آپ ایک ہفتہ میں وزیر اعلیٰ بلوچستان بن جائیں گے۔ اُنہوں نے وعدہ کیا ہے کہ اگر تمہاری پیشں گوئی صحیح نکلی تو تم کو عمرہ پر روانہ کروں گا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ کام کرادیا اور میں، میرے چند ساتھی، اور راجہ صاحب بھی عمرے پر چلے گئے اس طرح ان کی کئی باتیں بالکل صحیح ثابت ہوئی تھیں۔ کے۔ آر۔ ایل سے ریٹائرمنٹ کے بعدمیں ان کا ایڈوائزر بن گیا اور وہ تین سال بہت ہی اچھے گزرے۔ (3)ایک اور نہایت عزیز، قابل صحافی، جگر کے ٹکڑے جناب عبدالقادر بھی ہم سے رخصت ہوگئے۔ میرے پیارے دوست تھے اور ہم اکثر ملتے رہتے تھے۔ میں ان کے بیٹے کی شادی میں شرکت کرنے ان کے گائوں سکیسر (خوشاب) گیا۔ بہت پیارا موسم تھا، دوپہر کو ولیمہ تھا ، پہاڑوں کو دیکھ کر میں نے کہا کہ یہاں سےکسی کے خلاف میزائل داغنے کا بہت اچھا اڈہ بن سکتا ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.