“پنڈی اور اسلام آباد والے”

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار شفیق اعوان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔آج کل اخبارات میں سیاستدانوں کے ’’بیک ڈور‘‘ رابطوں کا بڑا ذکر ہے۔ اس میں ووٹ کو عزت کا نعرہ لگانے والی مسلم لیگ ن ، جمہوریت اور پارلیمنٹ کی بالادستی پر یقین رکھنے والی پیپلز پارٹی اور ہمیشہ سے لومڑی کی طرح

موقع کی تلاش میں رہنے والی جمعیت علما اسلام بھی شامل ہے۔جمہوریت کے دعویدار ان جماعتوں کے سربراہ جب مبینہ ملاقاتوں کا ذکر کرتے ہیں تو ان کی آنکھوں کی چمک اور گالوں کی لالی دیدنی ہوتی ہے۔ اسلام آباد سے ایک صحافی دوست نے بتایا کہ ایک بڑے لیڈر ایک سیاسی اکٹھ کے بعد فون پر بات کر رہے تھے جس کالب لباب یہ تھا کہ ’’بہائی جان میری گل ہو گئی اے، او بہائی جان۔۔ میری سنو تے سہی‘‘ (بھائی جان میری بات ہو گئی ہے) اور وہ یہ فقرہ بار بار دھرا رہے تھے جس کا مطلب یہ تھا کہ دوسری طرف سے ان کی بات سے اختلاف ظاہر کیا جا رہا ہے ۔ بیک ڈور رابطوں کا استعارہ سیاستدانوں کا حکومت وقت کے خلاف مقتدر قوتوں اور ان کے سربراہان سے رابطوں کے متعلق کہا جاتا ہے۔ آخر یہ مقتدر ادارے یا ’’پنڈی والے‘‘ کون ہیں ؟ اگر مریم نواز، نواز شریف اور مولانا فضل الرحمان ہماری افواج اس کے سربراہان اور آئی ایس آئی چیف کا نام لے کر ڈرائنگ رومز نہیں بلکہ عوامی جلسوں، پریس کانفرنسوں اور میڈیا ٹاکز میں ٹی وی شوز میں ان پر تنقید کر سکتے ہیں تو ہم بھی بتا سکتے ہیں کہ یہ مقتدر ادارے کون ہیں جن کے خلاف پبلک میں تو ہرزہ اسرائی کی جاتی ہے لیکن پردہ کے پیچھے ان اداروں سے ملاقات یا رابطوں کے لیے ترلے منتیں کیے جاتے ہیں۔ تو قارئین یہ مقتدر ادارہ راولپنڈی میں واقع پاک فوج اور اس کا ہیڈ کوارٹر جی ایچ کیو ہے۔

اور اس کے سربراہان پاک آرمی کے چیف اور ان کے دست راست ڈی جی آئی ایس آئی ہیں۔ عوام ، جمہوریت اور ووٹ پر یقین رکھنے والے سیاسی لیڈران ان اداروں کے سربراہان کی ایک نظر التفات کے منتظر رہتے ہیں۔ ایسا کرتے ہوئے وہ تمام اخلاقیات اور نظریاتی سیاست بھول جاتے ہیں اور کوشش ہوتی ہے کہ کسی طرح ان پر بھی نظر کرم ہو جائے۔ اس پر طرہ امتیاز یہ کہ اپنے خاص حلقہ احباب میں یہ کہتے نہیں تھکتے کہ ’’ساڈی گل ہو گئی اے‘‘ یعنی تمام معاملات طے ہو چکے ہیں بس حکومت جانے اور ہمارے حلف اٹھانے کے درمیان ایک معمولی وقفہ ہے۔ اور ایسا کرتے ہوئے وہ جمع کے صیغہ کے بجاے سارا کریڈٹ لینے کے لیے صیغہ واحد استعمال کرتے ہیں یعنی ’’میں‘‘۔ ایسا کرتے ہوے وہ اپنی اہمیت جتاتے ہیں کہ رابطے صرف ان سے ہیں۔ میرا تعلق بھی پاکستان کی مارشل بیلٹ کہلانے والے ضلع اٹک سے ہے اور اس حوالے سے جنہیں مقتدر قوتیں کہا جاتا ہے سے کبھی کبھی رابطے ہو جاتے ہیں۔ ایک سابق ذمہ دار سے میں نے جمہوریت اور آئین کے علمبرداروں کی تازہ ترین واردات یعنی ’’میری گل ہو گئی اے‘‘ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ بدقسمتی سے ایک دو نکال کر تمام سیاستدان جمہوریت یا شفاف انتخابات کی بجائے شارٹ کٹ کے لیے پنڈی یا جی ایچ کیو کی طرف دیکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ فوج کے پاس کوئی جادو کی چھڑی ہے کہ جس کے گھمانے سے سول سیٹ اپ میں تبدیلی آ جائے گی۔

اس میں اور بھی بے شمار محرکات ہوتے ہیں لیکن کسی سول حکومت نے ان وجوہات کو دور کرنے کی کوشش نہیں کی جس میں سر فہرست شفاف الیکشن اور ممبران کی خرید و فروخت ہے جو سیاستدان ہمیشہ سے کرتے آ رہے ہیں۔ میں نے ماضی کا ذکر کیا تو انہوں نے تسلیم کیا کہ کچھ مواقع پر مداخلت ہوئی ایسا نہیں ہونا چاہیے لیکن اس کے ذمہ داران سیاستدان ہی تھے۔ حالیہ واردات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اپوزیشن اور مقتدر اداروں کی مبینہ ملاقاتوں کے بارے میں انہیں علم نہیں۔ لیکن سیاستدان اور افواج پاکستان کے ذمہ داران بھی اسی ملک میں بستے ہیں اور ان کی آپس میں ملاقاتوں کو روٹین میں لینا چاہیے۔ مجھ سے مخاطب ہوئے کہ جس طرف آپ اشارہ کر رہے ہیں اور جو کچھ میڈیا پر آرہا اس پر نظر دوڑائی جائے تو جمہوریت کے ان دعویداروں کی باچھیں کھلی نظر آرہی ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا نواز شریف اور بے نظیر بھٹو نے ایک دوسرے کی حکومتیں ختم کرنے پر تشکر کا اظہار نہیں کیا پہلے ان کی ادائوں پر بھی غور کریں۔ ان کامزید کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر ان مبینہ ملاقاتوں کے بارے میں جو تانے بانے بنیں جارہے ہیں اس پر تو ہنسی بھی نہیں آتی۔ اور اس حوالے سے مختلف سیاسی پارٹیوں کے بزرجمہر ان سوشل میڈیا پوسٹ کی وضاحت کے بجائے اس شیخ چلی نظریے کو ہوا دے رہے ہیں ان سے ان کی جمہوریت پسندی عیاں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتیں اس حوالے سے بہتر باخبر ہوتی ہیں لیکن ان مبینہ ملاقاتوں کے حوالے سے حکومتی صفوں میں موجود چند ایک ناسمجھ سیاستدان کچی پکی معلومات پر نیشنل میڈیا اور سوشل میڈیا پر اس جواب آں غزل کے طورپر صورتحال کو مزید پراگندہ کر دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 75 سال میں کوئی بھی حکومت اس ملک میں بنیادی انفرا سٹرکچر بھی نہیں بنا سکی اور ان کی ہی ریشہ دوانیوں کی وجہ سے شفاف الیکشن کے انعقاد سے لے کر قدرتی آفات اور امن و امان قائم رکھنے کے لیے ہمیشہ پاک فوج کو ہی بلایا جاتا ہے ٹھیک ہے فوج حکومت کو جوابدہ ہے لیکن پہلے یہ بھی دیکھ لیں 75 سال میں انہوں نے کیا کیا۔ اس پر میری کچھ بڑے سیاستدانوں سے بات ہوئی تو انہوں نے تسلیم کیا کہ سیاستدان بھی کسی حد تک ذمہ دار ہیں لیکن بات اتنی بھی سادہ نہیں ہے۔ قارئین آپ خود اندازہ لگا لیں کہ جمہوریت جمہوری اداروں کو کمزور کرنے میں کس کا کتنا حصہ ہے؟

Comments are closed.