پنڈی بوائے کے حال اور مستقبل پر سینئر صحافی کا سیر حاصل تبصرہ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار میاں غفار احمد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہین ۔۔۔۔۔۔۔وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کو اتنا بھی ایزی نہ لیں۔ انہیں ہر دورِ حکومت اور ہر طرح کے حالات میں اپنی جگہ بنانی آتی ہے ۔ شیخ پُتر ہیں جب تک کہیں نہ کہیں اپنے آئندہ معاملات طے نہ کرلیں

سابقہ معاملات بگاڑتے نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ دور کو ئی بھی ہو لیکن ان کا دور قائم ہی رہتا ہے ۔حتی کہ اپوزیشن میں بھی وہ کسی نہ کسی حوالے سے مزے میں ہی رہتے ہیں ۔شیخ صاحب کا وزیر اعظم کے حوالے سے ایک ٹی وی اینکر کے رابطہ کرنے پر غلط فہمی سے جو جملہ الیکٹرانک میڈیا پر ’’ لیک ‘‘ ہوا ہے وہ ہوا نہیں بلکہ کیا گیا ہے ۔جملوں سے کھیلنے والے شیخ رشید جملہ ضائع نہیں کرتے اور اس تین لفظی جملے نے شیخ صاحب کی اگلی منزل آسان کردی ہے۔ ویسے بھی وہ خود کو جن کا بندہ کہتے ہیں، ان کو انہوں نے کھل کر اپنا پیغام دے دیا ہے۔ مجھے شیخ رشید کے اس جملے سے مرحوم دلدار پرویز بھٹی یاد آگئے ۔ یہ اس دور کی بات ہے جب پاکستان ٹیلی ویژن اپنے ڈراموں اور پروگراموں کے حوالے سے عروج پر تھا ۔ انہی ایام کی بات ہے جب بھارت کی سب سے بڑی خواہش پی ٹی وی کے ڈراموں اور پروگراموں کی پیروی اور مقابلہ کرنا تھا ۔اسلام آباد میں سالانہ پی ٹی وی ایوارڈز کا شو جاری تھا ، تب موبائل فون نہ ہونے کے برابر تھے ۔دلدار پرویز بھٹی نے چند لطیفوں اور باتوں سے لوگوں کو محظوظ کیا۔اپنا ایوارڈ وصول کیا ،اسٹیج سے اتر کر جاتے جاتے اچانک واپس مڑے اور مائیک پر آکر اپنی اہلیہ سے گویا ہوئے ۔ ’’ بیگم صاحبہ! آپ بھی یقیناً ایوارڈ شو دیکھ رہی ہوں گی بس آپ کو اتنا ہی بتانا تھا کہ میں آج نہیں کل واپس آؤنگا۔‘‘ہال قہقہوں سے گونج اُٹھا ۔یہ سن کر دلدار پرویز بھٹی صاحب کہنے لگے

اب کون فون کرنے کا تردد کرے ، مقصد تو پیغام پہنچانا تھا اور وہ پہنچ گیا ہے۔‘‘ اسی طرح شیخ صاحب نے جس جس کو بھی پیغام دینا تھا اُن سب کو پیغام پہنچ چکا ہے اور اس تین لفظی جملے سے یہ بھی ثابت ہوگیا ہے کہ ’’ یاری تڑک کرکے ٹوٹ چکی ہے ۔‘‘ اختلافات پیدا کرنے والے اور دوریاں بڑھانے والے عناصر ایک عرصے سے سرگرم تھے۔ لگتا ہے کہ اب کاریگر جس طرح سرگرم ہوچکے ہیں کچھ نہ کچھ ہوکرہی رہے گا ۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں لاہور میں رپورٹنگ کرتا تھا ۔ نواز شریف وزیراعظم اور غلام اسحق خان صدر مملکت تھے تب اخبارات میں آ ج کی نسبت پروفیشنلزم کافی زیادہ تھا اور واٹس ایپ کی سہولت نہ ہونے کیوجہ سے رپورٹر حضرات ہر وقت خبر کی کھوج میں رہتے تھے ۔ اسلام آباد سے ایک خبر شائع ہوئی کہ وزیراعظم نواز شریف اور صدر مملکت غلام اسحق خان کے درمیان اختلافات بڑھ چکے ہیں اور صدر مملکت نے وزیر اعظم کے نام ایک ناپسندیدگی کا خط جاری کیا ہے جس میںوزیر اعظم کے بعض اقدامات کو آئین اور قانون کے منافی قرار دیا‘ تاہم مذکورہ خط کی کوئی تصدیق نہیں کررہا تھا ۔شاہراہ ِ قائد اعظم لاہور میں واقع پنج ستارہ ہوٹل میں شادی کی ایک تقریب میں صدرغلام اسحاق خان مدعو تھے ۔ رپورٹر حضرات نے انہیں گھیر لیا اور مختلف قسم کے سوالات کرنا شروع کردئیے کہ آپ کے وزیر اعظم کے ساتھ اختلافات ہیں ؟ نپی تلی بات کرنے والے کاریگر بیوروکریٹ غلام اسحاق خان نے سکون سے ہر سوال کا جواب نفی میں دیا۔

اسی دوران ان کے اے ڈی سی رپورٹر حضرات کو کہنے لگے کہ مزید کوئی سوال نہیں اب بس ۔اسی دوران راشد بٹ نامی ایک رپورٹر نے پنجابی میں سوال داغا صدرصاحب ! ایس دا مطلب اے کہ نواز شریف صاب ٹھیک کم کررہے نیں ۔‘‘ غلام اسحاق خان ہلکے سے تلخ ہوئے ، جواب دیا میں نے یہ کب کہا ہے ؟ سارے رپورٹر سر جوڑ کر بیٹھ گئے کہ خبر نہیں بنی۔ پرویز بشیر ہم سب میں سینئر تھے میں نے انہیں کہا سر خبر کیا یہ تو لیڈ بن گئی ہے ۔ انہوں نے پوچھا کیسے ؟ جواب دیا ۔’’میں نے کب کہا نواز شریف ٹھیک کام کررہے ہیں ۔‘‘اگلے روز قومی اخبارات میں اسی قسم کے جملے پر مشتمل لیڈ تمام اخبارات میں شائع ہوئی ۔ نواز شریف کابینہ کے آٹھ وزراء اپنے بیانات کے ہتھیار لیکر ایوانِ صدر پر چڑھ دوڑے اور پھر وہ گرد اُڑی کہ بیٹھ نہ سکی اور بیٹھی تو58 ٹو بی کے ذریعے پہلے نواز شریف کی حکومت کا خاتمہ اسمبلیاں توڑ کر کیا گیا۔ بعد ازاں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس نسیم حسن شاہ پر مشتمل بنچ نے نواز شریف کی حکومت بحال کردی مگر چند ہی ہفتوں میں وزیراعظم نواز شریف اور صدر غلام اسحق خان دونوں کو اقتدار سے ہاتھ دھونے پڑے ۔تاریخ کہیں اب بھی اپنے آپ کو دہرا نہ دے۔ ان حالات میں مجھے اپنی نانی اماں کے منہ سے سنا اکثر ایک محاورہ جو ہماری شرارتوں پر وہ دہرایا کرتی تھیں۔۔۔ ’’ اکو ہووے کملا تے سمجھاوے ویہڑہ ۔۔ویہڑہ ہووے کملا تے سمجھاوے کیہڑا۔۔یعنی خاندان میں کوئی ایک بھولا بھالا ہو تو سارے مل کر اسے سمجھا لیتے ہیں

لیکن سب بھولے بھالے ہوں تو کون سمجھائے ۔ویسے بھی اب بھولے باشاہوں کی اکثریت ہے ۔اس وقت حکومت کی غلام گردشوں میں افہام و تفہیم اور بیک فٹ پر کھیلنے والا فی الحال تو کوئی دکھائی نہیں دے رہا ۔ ویسے بھی وہ کاریگر آج سوچتے ضرور ہوں گے جنہوں نے وزیر اعظم عمران خان اور جہانگیر ترین کے درمیان اختلافات کی خلیج پیدا کی۔ عمران خان کے پاس جہانگیر ترین کی شکل میں ایک شخص تو ایسا تھا جو اپنی بات سمجھانے اور دوسروں کو قائل کرنے کے فن سے آشنا تھا کہ ضبط اور جذب ویسے بھی سرائیکی بیلٹ کے لوگوں پر ختم ہے ۔ ملک ایک مرتبہ پھر سیاسی دوراہے پر کھڑا ہے ۔ حکمران کرسی کی لڑائی میں اتنے مصروف ہیں کہ ان کی ناک کے عین نیچے پاکستان میڈیکل کمیشن نے قوم کے مستقبل کے ساتھ اتنی بڑی واردات کرڈالی کہ حکمرانوں کے پاس اس پر سوچنے کا بھی وقت نہیں ۔ اللہ نہ کرے پھر کوئی جہاز کسی کو لیکر آئے اور دل کا چین لے جائے۔ ویسے جزوی طور پر تو آچکے ہیں خواہ وہ آئی ایم ایف کی شکل میں ہوں یا اسٹیٹ بنک کے انتظامی اُمور سنبھالے جانے کی صورت میں۔ قوم کو کہیں معین قریشی یا شوکت عزیز جیسے پیرا ٹروپرز کو ایک مرتبہ پھر برداشت نہ کرنا پڑجائے جو خالی خزانے کو مزید خالی کرکے ایسے کانٹوں سے بھر جائے کہ ان کانٹوں کو چنتے چنتے بد حال معیشت مزید بدحال ہوجائے ۔ اب بات تومحض ایک اشارے کی ہے اور وہ ایک اشارہ کہیں سے بھی ایم کیو ایم اور جی ڈی اے کو مل گیا تو بمشکل اکثریت کو اقلیت میں بدلتے دیر نہیں لگے گی۔ ویسے بھی پاکستانی عوام کی کیا اہمیت یہ تو کیڑے مکوڑے اور گھاس پھوس ہیں جو بھینسوں کی لڑائی میں گزشتہ سات دہائیوں سے کچلے جاتے رہے ہیں اور آئندہ بھی کچلے جانے کا غالب امکان ہے ۔

Comments are closed.