پوری قوم کو آئینہ دکھا دیا

لاہور (ویب ڈیسک) ہمارے ہاں بھی یہ بحث آج کل چل رہی ہے کہ غلط کاری ہونے کی وجہ خود عورتیں ہیں ۔ ایسے لوگوں کا خیال ہے کہ بغیر محرم باہر نکلنے سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ اب بتائیں بھارت میں چلتی بس میں جس لڑکی کے ساتھ ظلم ہوا اس کے ساتھ تو اس کا

دوست بھی تھا ۔نامور کالم نگار رؤف کلاسرا اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک طبقے میں یہی سوچ پیدا ہوچکی ہے کہ عورت اپنے ساتھ یہ سب ہونے کی خود ذمہ دار ہے۔ ایک اور طبقے میں یہ سوچ بھی پروان چڑھ رہی ہے کہ جو چیز ان کے پاس نہیں وہ دوسرے کے پاس بھی نہیں ہونی چاہیے۔ طبقاتی نفرت اور احساس ِمحرومی کے پیچھے یہی گھنائونا احساس موجود ہے۔ کچھ لوگ جاتے جاتے کسی کی نئی گاڑی پر لکیریں گھسیٹ دیں گے‘ رات کو کسی کی کھڑی کار کا شیشہ توڑ دیں گے‘ ایسے احساسِ کمتری کے مارے لوگ یونیورسٹی میں جن کے ساتھ لڑکیاں گپیں نہیں ماریں گی‘ اُس بدمعاش گروپ کے ساتھ ہوں گے جو ان پر اپنا اخلاقی نظام نافذ کرنے کا ٹھیکہ لے لیں گے ۔ جرائم ہمیشہ انسانی محرومیوں سے جنم لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بڑے لوگ وائٹ کالر کرائمز کرتے ہیں وہ سنگین جرائم میں کم ہی ملوث پائے جائیں گے کیونکہ وہ زندگی کی سب عیاشیاں افورڈکرسکتے ہیں۔ جو طبقات افورڈنہیں کرسکتے وہ موقع ملنے پر سب کچھ چھین لینے پر یقین رکھتے ہیں اور وہ اس کا جواز بھی تلاش کرلیتے ہیں ۔ لہٰذا عابد ملہی جیسے بے رحم لوگ جو بہاولنگر کے کسی گائوں سے مزدوری کرنے لاہور آئے تھے‘ موٹر وے پر اچانک رات کو موقع ہاتھ آنے پر کسی عورت پر رحم کرنے پر یقین نہیں رکھتے‘ چاہے ان کا مظلوم شکار رات کی تاریکی میں تین چھوٹے بچوں کی چیختی چلاتی ترلے منتیں کرتی ‘روتی پیٹتی بے بس ماں ہی کیوں نہ ہو۔ بالکل اسی طرح جیسے راجستھان کے گائوں سے دہلی مزدوری کیلئے آئے چھ افراد کو شہر کی سڑکوں پر چلتی بس میں رات گئے چیختی چلاتی لڑکی پر اس لیے رحم نہیں آیا کہ وہ بوائے فرینڈ کے ساتھ کیوں بیٹھی تھی‘ جس سے بھارت بدنام ہورہا تھا اور انہیں اس کا پچھتاوا بھی نہیں تھا ۔

Sharing is caring!

Comments are closed.