پوری قوم کو لنگر خانوں کا راستہ دکھا دینے والی تفصیلات

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار نسیم شاہد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس حکومت نے جس برے طریقے سے آئی ایم ایف کے سامنے گھٹنے ٹیکے ہیں۔ اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ آئی ایم ایف تو پاکستانیوں کے جسم کا آخری قطرہ تک نچوڑ لینا چاہتا ہے۔ اب حکومت اس کی اس

معاملے میں سب سے بڑی سہولت کار بن گئی ہے اب لوگ سوچتے ہیں عمران خان جن حکمرانوں کو چور کہتے نہیں تھکتے وہ تو انسانیت کا درد رکھنے والے تھے، یہاں تو آئے روز حکومت یہ واویلا کرتی ہے کہ پنشن کی ادائیگی خزانے پر سب سے بڑا بوجھ ہے کوئی ان سے پوچھے کہ لوگوں نے اس پنشن کے لئے اپنی زندگیاں، اپنی عمریں، اپنی جوانیاں قربان کی ہے فلاحی ریاست کا کام یہی تو ہے کہ اچھے وقتوں میں اپنے شہریوں سے کام لے اور مشکل وقت میں ان کے کام آئے۔ آئی ایم ایف کے دباؤ پر حکومت کا پنشن ختم کرنے پر بس نہیں چلا تو اس نے پنشنرز کی عمر بھر کی کمائی کے منافع پر داؤ چلا دیا۔کبھی کبھی تو یوں لگتا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کے بارے میں جب اپوزیشن یہ کہتی ہے کہ انہیں ایک خاص ایجنڈے کے تحت اقتدار دیا گیا ہے، تو اس میں سچائی نظر آتی ہے کیا یہ معیشت کی بہتری کے کام ہیں کہ حکومت تمام سبسڈیز ختم کر دے معاشرے کے بے سہارا، ضعیف اور ریٹائرڈ افراد کو دی گئی ٹیکس چھوٹ بھی واپس لے کر انہیں حالات کی نذر کر دے ماضی کی حکومتوں نے اگر ٹیکسوں میں چھوٹ دی ہوئی تھی تو اس کی وجوہات ہوں گی۔ ایک طرف وزیراعظم لنگر خانے کھول رہے ہیں کوئی بھوکا نہ سوئے جیسے پروگرام بنا رہے ہیں اور دوسری طرف ٹیکسوں کا بوجھ لادے چلے جا رہے ہیں کیا اس کا مقصد یہ ہے کہ قوم لنگر خانوں کی محتاج بن جائے۔

اب تک حکومت نے جو کچھ کیا ہے اس سے کون سی معیشت بہتر ہوئی ہے الٹا معیشت کا بیڑہ غرق ہی ہوا ہے۔ آئی ایم ایف کے ظالموں کو اس کی کیا فکر ہو سکتی ہے کہ پاکستان میں کون جیتا ہے کون مرتا ہے، انہیں تو بس اس بات سے غرض ہے کہ ہم اپنا ایسا ایجنڈا نافذ کریں کہ پاکستان ایک مفلوج معاشی غلام ملک بن کر رہ جائے۔ وزیر اعظم عمران خان نے کتنا بڑا ظلم کیا تھا جب آئی ایم ایف کے خلاف بڑھکیں لگائی تھیں اس کے پاس جانے کی بجائے موت کو ترجیح دی تھی، جب اس بڑھک بازی کے نتیجے میں ملک کا رگڑا نکل گیا، روپیہ ریت کی دیوار ثابت ہوا۔ ڈالروں کے لئے سعودی عرب، چین ور متحدہ عرب امارات سے بھیک مانگنی پڑی اور پھر سب سے بڑا یوٹرن لے کر آئی ایم ایف سے معاہدہ کیا گیا تو اس کے آگے بھیگی کھسیانی بلی کی طرح بیٹھ کر معاہدے میں ایسی شرائط مانی گئیں جو ملکی معیشت کے لئے نقصان دہ ثابت ہو رہی ہیں۔آئی ایم ایف دنیا کے جن سرمایہ دارانہ ممالک کا آلہ کار ہے وہاں شہریوں کے لئے جو سہولتیں موجود ہیں ان میں سے ایک بھی پاکستانیوں کو حاصل نہیں، وہاں بے روزگاری الاؤنس ہے، مفت تعلیم، مفت صحت کی سہولتیں ہیں، بچوں کی پرورش کے لئے اکاؤنٹس اور بزرگوں کے لئے تا حیات مالی وظیفہ ہے یہاں یہ سب کچھ نہیں، البتہ کہیں چھوٹی موٹی ٹیکس چھوٹ اور قومی بچت جیسے اداروں کے منافع کی بنیاد پر ریاست ریلیف پہنچاتی ہے تو ظالم آئی ایم ایف کو

یہ بھی گوارا نہیں، وہ ہر قسم کے ٹیکسوں کی چھوٹ ختم کرنے کی شق معاہدے میں شامل کرا چکا ہے اور اب ہمارے حکمران ان کی تکمیل میں کمر بستہ ہیں اپنی شاہانہ زندگی اور مراعات کم نہ کرنے والے یہ اشرافیہ کے نمائندے اس حقیقت سے بے خبر ہیں کہ عوام کو 140 ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ سے محروم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ان پر تقریباً ڈیڑھ کھرب روپے کے نئے ٹیکس لگا دیئے جائیں کیا عوام میں اتنی سکت ہے کیا ان کی قوت خرید اتنی بڑھی ہے کہ وہ یہ بوجھ برداشت کر سکیں۔ ان گزرے ہوئے پونے تین برسوں میں جو خطِ غربت سے اوپر تھے وہ بھی نیچے چلے گئے ہیں اندازہ ادارہ شماریات بتا رہا ہے کہ مہنگائی 13 فیصد کے رفتار سے بڑھ رہی ہے کیا عوام کی آمدنی بھی تیرہ فیصد بڑھی ہے؟ کیا بجٹ میں تنخواہیں اور پنشن بڑھائی گئی؟ کیا ایسے اقدامات اٹھائے گئے کہ عوام کی آمدنی بڑھے کیا سب کو معلوم نہیں کہ بے روزگاری کس حد تک بڑھ چکی ہے ایک کروڑ نوکریاں دینے والے کئی لاکھ لوگوں کو بے روز گار کر چکے ہیں، دینے کی نوبت تو خیر کہاں آنی تھی، حکومت تو عوام کو پہلے سے دی گئی سہولتیں بھی چھین رہی ہے دوسرے لفظوں میں وہ اب ان کے تن پر موجود کپڑے اتارنے کی حد تک آ گئی ہے۔پارلیمینٹ کی بالا دستی کا ڈھنڈورا پیٹنے والے وزیر اعظم عمران خان اور ان کے وزراء ایسے معاملات کو پارلیمینٹ میں لانے کی جرأت نہیں کرتے، ان کے لئے آرڈیننس کا راستہ اختیار کیا جاتا ہے یعنی ہر عوام دشمن فیصلے کے لئے صدر مملکت کو استعمال کیا جار ہا ہے آئی ایم ایف کی غلامی کا بلند درجہ اس قدر ہے کہ اس کی یہ بات بھی مان لی گئی ہے کہ اس سے معاہدے کی شقوں کو پارلیمینٹ میں بھی زیر بحث نہیں لایا جائے گا، کیونکہ وہاں اس کا ظالمانہ، منافقانہ اور دہرے معیار کا حامل چہرہ بے نقاب ہو سکتا ہے۔ پہلے ہم سنتے تھے کہ ملک کو آئی ایم ایف کے ہاتھوں گروی رکھ دیا گیا ہے۔ موجودہ دور حکومت میں قوم اس کی عملی شکل دیکھ رہی ہے کہ اب معاشرے کے کمزور طبقے بھی اس کے ظلم کی لپیٹ میں آ چکے ہیں۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *