پورے شہر میں مٹھائیاں بٹنے کے بعد ۔۔۔۔

پشاور (ویب ڈیسک) نامور صحافی محمد زبیر خان بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر ایبٹ آباد میں ایک نجی میڈیکل کالج سے منسلک جناح انٹرنیشنل ہسپتال میں گزشتہ ہفتے بیک وقت پیدا ہونے والے سات بچوں میں سے چھ جان بحق ہو چکے ہیں۔

پانچ بچے جناح انٹرنیشنل ہسپتال میں جبکہ ایک بچہ ایوب ٹیچنگ ہسپتال کی بچوں کی نرسری میں جان بحق ہوا۔بچوں کے والد قاری یار محمد نے بتایا کہ بچوں کی پیدائش کے 24 گھنٹے بعد ایک بچہ دم توڑ گیا تھا۔ اس کے چند گھنٹوں بعد دوسرا بچہ، اس کے بعد ایک ہی رات میں تین بچے جان بحق ہوئے تھے۔انھوں نے کہا کہ ’جب صرف دو بچے زندہ بچے تو ہم لوگوں نے شور شرابہ ڈالا تو ہمیں بتایا گیا کہ بچوں کو پمز اسلام آباد پہنچایا جا رہا ہے۔ ہم لوگ پمز اسلام جانے کی تیاری کر رہے تھے کہ پھر بتایا گیا کہ بچوں کو ایبٹ آباد ہی کے ایوب ٹیچنگ ہسپتال ایبٹ آباد منتقل کیا جا رہا ہے۔‘قاری یار محمد کا کہنا تھا کہ گزشتہ دونوں ہم ایوب ٹیچنگ ہسپتال منتقل ہوئے جہاں پر آج ایک اور بچہ دم توڑ گیا ہے۔ اب ایک بچہ وینٹیلیڑ پر ہے۔’بچے جب پیدا ہوئے تھے تو اس وقت ہمیں کہا گیا تھا کہ پانچ بچوں کو وینٹیلیٹر کے بغیر رکھا گیا ہے اور وہ مستحکم ہیں، جب کہ جس بچے کو پہلے دن سے وینٹیلیڑ پر رکھا گیا ہے وہ آج بھی وینٹیلیڑ پر ہے۔‘قاری یار محمد کا کہنا تھا کہ بچوں کی ماں کو ہم لوگوں نے صرف دو بچوں کی وفات کا بتایا ہے اور اس کو ابھی یہ نہیں پتہ کہ اب صرف ایک ہی بچہ زندہ ہے۔’ہم اللہ اور رسول کا واسطہ دیتے ہیں کہ ہمیں بتایا جائے کہ بچوں کے ساتھ کیا ہوا ہے اور جو بچہ زندہ بچا ہوا ہے

اس کو محفوظ کرنے اور علاج معالجے کی تمام سہولتیں فراہم کی جائیں۔‘جناح انٹرنیشنل کی انتظامیہ نے پانچ بچوں جبکہ ایوب ٹیچنگ ہسپتال کی انتظامیہ نے ایک بچے کی موت کی تصدیق کی ہے۔بی بی سی نے جناح انٹرنیشنل ہسپتال کی انتظامیہ کے ساتھ رابطہ قائم کرکے معلومات اور موقف حاصل کرنا چاہا مگر انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ایوب ٹیچنگ ہسپتال ایبٹ آباد کی انتظامیہ نے بتایا کہ انتقال کر جانے والا بچہ پری میچور تھا۔ اس کا وزن بھی کم تھا، جس وجہ سے وہ وہ جانبر نہ ہو سکا۔ایوب ٹیچنگ ہسپتال ایبٹ آباد کے نرسری وارڈ کے ماہر ڈاکٹر اکرام کے مطابق پاکستان میں ایسے پری میچور بچوں کی، جو کہ جڑواں نہیں ہوتے، انتقال کرنے کی شرح سو میں سے 32 فیصد ہے۔ ’اب ایسے بچے جو کہ جڑواں اور پھر دو سے بھی زائد ہوں اور پری میچور بھی ہوں تو ان کے انتقال کر جانے کی شرح شاید اس سے بھی دوگنا ہو جاتی ہے۔‘ان کا کہنا ہے کہ قدرت کا نظام ہے کہ بچہ دانی میں ایک ہی بچے یا پھر کچھ حالات کے اندر ایک سے زیادہ یعنی جڑواں بچوں کو مکمل خوراک مل سکتی ہے۔ ’اب اگر یہ بچے جڑواں سے بھی زیادہ ہوں تو ان کو مکمل خوراک ملنا ممکن نہیں ہوتا ہے۔ اگر وہ پری میچور بھی ہوں تو پھر وہ انتہائی خطرے کا شکار رہتے ہیں۔‘ڈاکٹر اکرام کے مطابق صورتحال یہ ہے کہ پاکستان میں عموماً 34 ہفتے کے پری میچور ایسے نومولود بچوں جو کہ جڑواں نہیں ہوتے کے بارے

میں توقع کی جاتی ہے کہ وہ جانبر رہ سکیں گے جبکہ ایسے کم عمر کے بچوں کے بارے میں ڈاکٹر زیادہ پر امید نہیں ہوتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ 34 ہفتوں سے پہلے کے پری میچور بچوں کا وزن کم ہوتا ہے۔ ’ان کے پھیپھڑے پورے طرح تیار نہیں ہوتے، ان کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا ہوتا ہے۔ ’اب جب یہ جڑواں اور دو سے بھی زیادہ ہوں تو یہ صورتحال مزید گھمبیر ہو جاتی ہے۔ یہ سات بچے تیس ہفتوں کے تھے۔ ان کا وزن ایک کلو تھا جو کہ انتہائی کم تھا۔‘ڈاکٹر اکرام کا کہنا تھا کہ ترقی یافتہ ممالک میں کہا جاتا ہے کہ وہ 24 ہفتوں کے بچوں کو بھی انتہائی نگہداشت میں مدد فراہم کر سکتے ہیں۔ اس کے لیے ایسے بچوں کو بالکل ماں کے پیٹ کی طرح رکھا جاتا ہے۔ڈاکٹر اکرام کے مطابق ان کی نگہداشت پر صرف ایک نرس اور ڈاکٹر تعنیات ہوتے ہیں، ایک انکیوبیٹر میں رکھا جاتا ہے۔ ’دوسرے کسی بچے اور فرد کو نزدیک آنے کی اجازت بھی نہیں ہوتی جبکہ ہمارے پاس ایوب میڈیکل کمپلکیس میں صرف تین انکیوبیٹر ہیں بعض اوقات ایک انکیوبیٹر میں تین یا چار بچے رکھے جاتے ہیں۔ اکثر اوقات زیادہ رش ہونے کی وجہ سے نومولود ایک دوسرے سے بھی انفیکشن لے لیتے ہیں۔‘

Comments are closed.