پول کھول دینے والی خبر

اسلام آباد (ویب ڈیسک) اپوزیشن عددی اکثریت کے باوجود پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں حکومتی بلوں کی منظوری روکنے میں ناکام رہی، حکومت نے سینیٹ سے مستردکردہ اینٹی منی لانڈرنگ سمیت 8؍ بل پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پاس کرالئے، مشترکہ اجلاس میں اسلام آباد دارالحکومت علاقہ جات وقف املاک بل 2020ء، انسداد تطہیر زر

(دوسری ترمیم) بل 2020ء، فن مساحت و نقشہ کشی (ترمیمی) بل 2020ء، عدالت عالیہ اسلام آباد (ترمیمی) بل 2019ء، انٹی ٹیررازم (ترمیمی) بل 2020ء، پاکستان میڈیکل کمیشن بل 2020ء، میڈیکل ٹربیونل بل 2019ءاور دارالحکومت علاقہ جات معذوروں کے حقوق بل 2020ء منظور کر لیے گئے۔ حکومت کے16، اپوزیشن کے 36ارکان ایوان سے غیر حاضر رہے، اجلاس کے دوران شاہ محمود قریشی اور بابراعوان نے شہباز شریف اور بلاول بھٹو کے بولنے کی مخالفت کی ،تحریک پر رائے شماری کے دوران اپوزیشن ارکان نے احتجاج اور شور شرابہ کیا اور بات حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان ہاتھا پائی تک چلی گئی، پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اینٹی منی لانڈرنگ ترمیمی بل 2020ءمنظور کر لیا گیا جبکہ وقف املاک بل میں ترمیم کی بھی منظوری دیدی۔ اپوزیشن نے شدید احتجاج کرتے ہوئے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ کر اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر پر اچھال دیں اور ایوان سے واک آؤٹ کر گئی، رضا ربانی نے پوائنٹ آف آرڈر پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بابر اعوان مشیرہیں تحریک پیش نہیں کرسکتے، آئین اور اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ روکتاہے، جس پر وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا ہے کہ مشیر صرف ووٹ نہیں دے سکتا ، اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ ایوان کی کارروائی میں حصہ لینے سے نہیں روکتا۔ ضمنی ایجنڈے کے تحت میڈیکل ٹرییونل بل 2019 اور اسلام آباد معذور افراد کےحقوق کا تحفظ بل 2020 بھی منظور کرلیا گیا۔پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں انسداد منی لانڈرنگ ترمیمی بل کی منظوری کا عمل شروع ہوا تو مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان اور ملیکہ بخاری کی پیش کردہ شقوں کو منظور کرلیا گیا جبکہ اپوزیشن کی تمام ترامیم مسترد کردی گئیں۔اسپیکر اسد قیصر نے وزیر خارجہ شاہ محمودقریشی اور مشیر پارلیمانی امور کی مخالفت پر بلاول بھٹو زرداری اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو بات کرنے کی اجازت نہیں دی۔ دونوں کا مؤقف تھا کہ صرف اسی رکن کو فلور مل سکتا ہے جس نے ترمیم پیش کرنی ہو۔بلز کی منظوری کے دوران اپوزیشن نے ایوان سے واک آؤٹ کردیا۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں سب سے پہلے ڈاکٹر بابر اعوان کی جانب سے اسلام آباد وقف املاک بل 2020ء کی تحریک پیش کی گئی۔ تحریک کی حمایت میں 200 جبکہ مخالفت میں 190 ارکان نے ووٹ دیا۔بدھ کو قومی اسمبلی کااجلاس ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی صدارت میں دس بجکر 27منٹ پرشروع ہوا ۔اجلاس شروع ہوتے ہی لیگی رکن قومی اسمبلی شیخ فیاض الدین نے کورم کی نشاندہی کردی۔ شیخ فیاض الدین نے کہاکہ سر کورم پورا نہیں ہے اگر آپکو بھی گن لیں تب بھی گنتی پوری نہیں ہوتی ۔ وزرا ء کی سیٹیں خالی پڑی ہیں ۔

Sharing is caring!

Comments are closed.