پونے دوسال قبل پاکستان کے دورے پر آئے مہاتیر محمد جاتے ہوئے کیا گر کی بات کہہ گئے ؟

لاہور(ویب ڈیسک) قلم سے نکلنے والی سیاہی جب آنسو بن کر ہر سطر ہی بھگو ڈالے اور کاغذ سسکیاں لیتا دکھائی دے تو الفاظ سینہ کوبی کیوں نہ کریں۔ اعراب دامن چاک کیے بالوں میں خاک کیسے نہ اڑاتے پھریں۔ سانحات اور صدمات کے مارے عوام اور حکمرانوں کا بھی عجب رشتہ ہے۔

نامور کالم نگار آصف عفان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مالی بدعنوانی پر کبھی تختہ دار پر چڑھانے کی باتیں کی جاتی ہیں اور کبھی برطرفی کی۔ کبھی چینی ماڈل متاثر کرتا ہے تو کبھی انقلاب ایران کی مثال دی جاتی ہے۔ کبھی مہاتیر محمد کی مثال دی جاتی ہے تو کبھی ریاست مدینہ کو رول ماڈل بنایا جاتا ہے۔ پونے دو سال قبل پاکستان کے دورے پر آئے ملائیشیا کے تاریخ ساز حکمران مہاتیر محمد جاتے جاتے ہمارے حکمران کو ایک پتے کی بات کہہ گئے تھے کہ ”قیادت چور نہیں ہونی چاہیے‘ ورنہ مالی بدعنوانی اور چوری کا خاتمہ ممکن نہیں ہوتا‘‘۔ مہاتیر محمد کی بات سولہ آنے نہیں‘ بلکہ سولہ سو آنے درست ہے‘ گویا وہ بھی بخوبی جانتے ہیں کہ ہمارا بنیادی مسئلہ اور اصل بیماری کیا ہے۔ 94 سالہ مہاتیر محمد کی طرف سے اس مشورے اور نصیحت پر یہ کہا جا سکتا ہے:جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے‘ باغ تو سارا جانے ہے۔۔۔

Comments are closed.