پچھلے دنوں امریکہ میں مسلمان خواتین نے معروف سکالر جاوید احمد غامدی سے سوال کیا تو انہوں نے کیا بتایا ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور صحافی عامر بن علی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔خواتین کے لئے خوشخبری ہے کہ اب حلال نیل پالش بھی دستیاب ہے۔جاپان میں بننے والی اس نیل پالش کولگاکر وہ بارباروضوکرسکتی ہیں۔اس کی تیاری میں شامل ہونے والے تمام اجزاء حلال ہونے کے علاوہ پانی اس میں سے گزرکرناخن کو چھوسکتاہے۔

اس ایجاد کا سہراجس جاپانی خاتون کے سر سجتا ہے،اس کی کہانی سننے سے تعلق رکھتی ہے۔حال ہی میں منظر عام پرآنے والی اس نیل پالش کی خوبی یہ ہے کہ یہ طویل المدتی اثرات رکھتی ہے۔یعنی ایک ہفتے تک ناخنوں پر اپنے رنگوں کارچاؤ، خوبصورتی اور جاذبیت برقراررکھتی ہے۔ ہوسکتا ہے بعض لوگ سوچتے ہوں کہ ایسی مصنوعات تو ایک عرصے سے بازار میں دستیاب ہیں؟اس میں خبریت کی کونسی بات ہے؟خود ہمارے خاندان میں مذہبی رجحان رکھنے والی لڑکیاں مہندی کے عرق کوبطورنیل پالش استعمال کرتی ہیں۔عرض یہ ہے کہ ٹوکیومیں قائم حلال نیل نامی کمپنی کی روح رواں ہیتومی گوتوکی مذکورہ ایجاد سے پہلے بازار میں جتنی بھی اقسام کی حلال نیل پالش دستیاب تھیں،وہ سب ناخنوں پرچند گھنٹوں کی مہمان ہوتی تھیں۔گرچہ کینیڈااور ملائشیاء کی بعض کمپنیاں اپنی حلال نیل پالش عالمی سطح پر فروخت کرتی آئی ہیں مگران سب میں یہ مشترکہ مسئلہ تھا،یعنی کوئی بھی ناخن پر اگلے دن تو کیا،اگلے پہر تک بھی جاذبیت برقرار نہ رکھ پاتی تھیں۔بعض قارئین کی شائد اس بات میں دلچسپی ہوکہ بھلا عام نیل پالش اورحلال نیل پالش میں کیا فرق ہے؟بات بہت بنیادی اور سادہ ہے۔ عام نیل پالش لگانے کے بعدپانی ناخن کو چھو نہیں سکتا،جب ناخن کوپانی نہیں چھوئے گاتوپھروضونہیں ہوگا۔اور جب وضونہیں ہوگاتوپھرنمازبھی ادا نہیں ہوگی۔معروف عالم دین جاوید احمدغامدی کی رائے اس بارے میں ذرا مختلف ہے۔پچھلے دنوں جب وہ امریکہ گئے تو ان سے وہاں خواتین نے سوال کیا،کہ کیا نیل پالش لگاکر وضوہوجاتاہے؟اور اس طرح وضو سے نماز قبول ہو جاتی ہے؟

غامدی صاحب نے فرمایاکہ اگر وضو کرنے کے بعد نیل پالش لگائی جائے تو پھردوبارہ وضو کرنے کے لئے نیل پالش اتارنا ضروری نہیں۔بلکہ اسی طرح اگلا وضو اور اگلی نمازجائز ہے۔غامدی صاحب جیسے بڑے عالم دین سے اختلاف کرناآسان بات نہیں،مگر میرے نزدیک انہوں نے اس بابت غالباًیہی پہلومدّ نظررکھاکہ ناخن کو پانی چھونا چاہئے، ان کی تجویز اس بات سے ملتی جلتی ہے کہ جیسے موزہ پہن لیں توپھرہربار وضوکے دوران پاؤں دھونے کی ضرورت نہیں۔نیل پالش کے اجزائے ترکیبی کے بارے میں شائد انہوں نے غورنہیں کیا۔الکحل ہرعام نیل پالش کا لازمی جزو ہے۔عمومی طور پرمسلمانوں کا حلال اور حرام کاتصورکھانے،پینے کی اشیاء تک ہی محدودہوتا ہے۔میرے لئے مگرچشم کشاء واقعہ تھا،جب لیدر جیکٹ خریدتے وقت میرے دوست نے لاطینی امریکہ کے اس شاپنگ مال کے سیلزمین سے پوچھا کہ یہ کس چمڑے کی بنی ہے؟میرے استفسار پر کہ بھلایہ کیا سوال کردیاآپ نے، نوجوان سیلزمین توانکوائری میں پڑ گیا؟ بزرگ دوست نے مجھے سمجھایاکہ یہاں خنزیر کے چمڑے سے بنی جیکٹس عام بکتی ہیں،اس لئے پوچھ رہا ہوں۔میں نے گزارش کی کہ قرآن کریم میں تو”لحم خنزیر“ یعنی سور کے گوشت کے حرام ہونے کا ذکر آیاہے،یہ جوتے،جیکٹ جو کہ کھال سے بنتے ہیں،یہ کیسے حرام ہوئے؟میرے بزرگ دوست کا استدلال بھی بجا تھاکہ سورکے چمڑے کی جیکٹ پہن کر آپ نماز تو نہیں پڑھ سکتے نا؟ بلاشبہ تقویٰ یہی ہے۔نیل پالش کی بابت بھی یہی بات صادق آتی ہے کہ حرام اجزاء سے بنی چیز جسم پر سجا کر نماز پڑھنا توشائدغامدی صاحب کے نزدیک بھی جائز نہیں ہوسکتا۔

بدھ مت کی پیروکارایک خاتون کا حلال نیل پالش ایجاد کرنے کا قصہ دل کو چھو لینے والاہے۔ہینومی گوتو آج کل رضاکارانہ طورپرٹوکیو ہسپتال میں سرطان کے موذی مرض میں مبتلا خواتین کو سنگھارتی ہیں،ان کے ناخن صاف کر کے ان پر نیل پالش لگاتی ہیں،تاکہ کیمو تھراپی کی وجہ سے ناخن بدنمااوربدرنگ دکھائی نہ دیں۔اس کہانی کی ابتداء اس کی والدہ کے سرطان میں مبتلا ہونے اور پھر 2010ء میں وفات پاجانے سے ہوئی۔ اس رحمدل خاتون کااصل امتحان ابھی باقی تھا۔دوسال بعدوہ خودچھاتی کے سرطان میں مبتلا ہوگئی۔خداکے فضل سے وہ صحت مند توہوگئی مگر اس مرض نے اس کو بہت سارے سبق سکھائے۔اس نے خاص طور پر اس مرض کے لیے ” نیل آرٹسٹ“بننے کا فیصلہ کیا۔یہ بات سننے میں عجیب لگتی ہے مگر اس مرض میں مبتلا افراد اوران کے عزیزواقارب اس بات کوسمجھ سکتے ہیں۔جب سرطان کے مریض کی کیموتھراپی ہوتی ہے تووہ بہت پست حوصلہ ہوجاتاہے،بڑے بڑے حوصلہ مندافراد ایک اسٹیج پرہمت ہاردیتے ہیں۔ ایسی صورت حال میں ذاتی نگہداشت بہت ضروری ہے۔چونکہ کیمو تھراپی کے سائیڈ افیکٹ کے دوران دماغی صحت بھی ایک مسئلہ ہے۔اس لئے مریض خواتین میں زندگی کی امنگ ابھارنے کے لئے گوتوکے بقول ہاتھ کے ناخنوں کی صفائی کرکے ان پر نیل پالش لگادینا،مریض کی دنیا بدل دینے کے مترادف ہوتاہے۔یہ عمل جینے کی آرزو پیداکرنے کا سبب سکتا ہے۔سرطان کے مریض کیمیکل کے معاملے میں بڑے حساس ہوجاتے ہیں جب ان کی کیموتھراپی ہوتی ہے۔مسئلہ یہ ہے کہ ہر نیل پالش میں کیمیکل ہوتے ہیں۔ بعض اوقات یہ مریض کو الرجی میں مبتلاکردیتے ہیں،اور دیگراعتبارسے بھی یہ نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔اسی طرح اس نیل پالش کواتارنابھی بہت بڑامسئلہ ہوتا ہے، جوکہ سرطان کے مریضوں کے لئے تکلیف دہ عمل ہے۔اس نوجوان آرٹسٹ خاتون نے بتایاکہ الکحل کے بغیروارنش ڈھونڈناآسان کام نہ تھا۔اس کی یہ جستجواور تلاش اسے حلال نیل پالش کی دریافت تک لے آئی۔دستیاب حلال نیل پالش سرطان کے مریضوں کے لئے بہتر تھی مگر یہ جلد ہی اتر جاتی تھی۔حلال نیل پالش کو دیر پابنانے کے لئے ٹوکیو ہسپتال میں ہی اس جاپانی خاتون کو وہ وارنش مل گیا۔جس سے دیرپااثررکھنی والی یہ نئی حلال نیل پالش ایجادہوئی۔اس کا محرک گرچہ مریض خواتین کی ذہنی صحت کو بہتربناناتھا۔مگرگوتوکااپنا بیوٹی پارلربھی خوب چل گیا ہے اورمسلمان خواتین اس کی گاہک ہیں۔اس کی ایجاد کردہ حلال نیل پالش اب پوری دنیا میں فروخت ہورہی ہے۔

Comments are closed.