پھر اس روز وفد کے ساتھ کیا واقعہ پیش آیا ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار مجیب الرحمان شامی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔خوب سے خوب تر کی تلاش (اپنے اپنے ذوق کے مطابق) جاری رکھنے والے ایک دوسرے سے مختلف راستوں پر جا نکلتے ہیں،جیسے کسی 302 کے مقدمے میں ایک عدالت ایک شخص کو بری کر دیتی ہے تو اس سے اعلیٰ عدالت

اس فیصلے کو کالعدم قرار دے دیتی ہے۔ دونوں کی بنیاد مقدمے کی ایک ہی فائل میں بیان کردہ حقائق پر ہوتی ہے۔فقہی اختلافات کی مثال بھی ایسی ہی ہے۔ ایک بار رسول اللہؐ نے ایک وفد ایک مہم پر روانہ کیا تو ہدایت کی کہ نمازِ عصر منزل پر جا کر پڑھنا ہے۔ سفر کے دوران تاخیر ہوئی، نماز کا وقت آیا تو ارکان میں اختلاف پیدا ہو گیا۔ایک رائے تھی کہ حضورؐ نے جو فرمایا، وہ جلد پہنچنے کی تاکید کے لئے تھا کہ وقت ضائع نہ کیا جائے،چنانچہ اس رائے کے حاملین نے نماز ادا کر لی، دوسری رائے یہ تھی کہ الفاظ واضح ہیں، اِس لئے نماز بہر طور منزل ہی پر جا کر پڑھی جائے گی، وفد واپس آیا تو یہ معاملہ حضورؐ کی خدمت میں رکھا گیا، آپ مسکرا دیے اور کسی کو بھی حکم عدولی کا مرتکب قرار نہیں دیا۔ دونوں ہی فرمانبردار تھے۔ فقہی اختلافات کو بڑھا چڑھا کر ان کے لئے جان لینے یا دینے پر اتر آنے کی اسلام تو کیا انسانیت بھی اجازت نہیں دے سکتی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *