پھر اس ملنگ فنکار نے اس رقم کو کہاں خرچ کیا ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار توفیق بٹ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔عبدالعلیم خان کے نام کے ساتھ ”پی ٹی آئی کے راہنما“ یا ”سابق وزیر یا سینئر صوبائی وزیر“ لکھنا بے معنی ہے کہ آپ اپنا تعارف ہوا بہار کی ہے۔ علیم خان صرف ایک ہے اور وہی ہے

جس کی سب سے بڑی شناخت اس کی انسان دوستی اس کی فلاحی خدمات ہیں۔ میں انسانیت کے لئے ان کی خدمات کے بے شما واقعات کا ذاتی طور پر گواہ ہوں۔ مجھ پر ان کے ذکر کی انہوں نے پابندی عائد نہ کی ہوتی میں اب تک کئی کتابیں ان پر لکھ دیتا۔ وہ حقیقی معنوں میں ایک ایسے انسان ہیں جو ایک ہاتھ سے دیتے ہیں دوسرے ہاتھ کو اس کی خبر نہیں ہوتی۔ کسی کی مدد کے لئے یہ طرز عمل اب ناپید ہوتا جا رہا ہے۔ لوگ اب نیکیاں صرف نمائش کے لئے کرتے ہیں، نیکی کر کے دریا میں ڈالنے کا تصور اب ختم ہو چکا ہے۔ اب نیکی کر کے کوئی میڈیا یا سوشل میڈیا میں نہ ڈالے وہ سمجھتا ہے اس کی نیکی قبول ہی نہیں ہوئی۔…… علیم خان کی کوئی تصویر یا وڈیو آپ کو شاید ایسی نہ ملے جس میں وہ کسی کی مدد کر رہے ہوں۔…… دوسری خوبی ان میں یہ ہے تعلق نبھانے میں بھی کوئی ان کا ثانی نہیں ہے۔ یہ خوبی ان میں نہ ہوتی تو جو کچھ پی ٹی آئی یا عمران خان کے لئے انہوں نے کیا، اور جواباً جو کچھ عمران خان یا پی ٹی آئی نے ان کے ساتھ کیا خان صاحب کے ساتھ ان کا تعلق اب تک قصہ پارینہ بن چکا ہوتا ہر لحاظ سے بے پناہ نقصان اٹھانے کے بعد وہ آج بھی انہیں اپنا لیڈر سمجھتے ہیں۔ ان کے اس ظرف پر کبھی کبھی مجھے حیرانی ہوتی ہے۔ ایسے ”ظرف زادے“ معاشرے میں بہت کم اب ملتے ہیں۔

میرے ساتھ بھی علیم خان کو اللہ واسطے کی محبت ہے۔ میں نے جب بھی ان سے کوئی گزارش کرنی ہوتی ہے اور اس مقصد کے لئے میں ان سے وقت مانگتا ہوں وہ خود چل کر میرے پاس آ جاتے ہیں۔ پچھلے دنوں ہمارے ایک معروف گلوکار کو ان سے ذاتی نوعیت کا ایک کام تھا۔ وہ یہ کام علیم خان سے خود بھی کہہ سکتے تھے، مگر انہوں نے مناسب یہ سمجھا وہ علیم خان تک اپنی گزارش میرے ذریعے پہنچائیں۔ میں نے انہیں فون کیا وہ اس وقت اسلام آباد سے لاہور آ رہے تھے۔ انہوں نے فرمایا آپ ان گلوکار صاحب کو اپنی طرف بلا لیں۔ میرا دو گھنٹے کا سفر باقی رہ گیا ہے، میں سیدھا آپ کے گھر آؤں گا۔ وہ تشریف لائے اور گلوکار کی خدمت ان کی امیدوں سے بہت بڑھ کر کی۔…… اسی طرح معروف گلوکار شوکت علی مرحوم کے بارے میں، میں نے انہیں بتایا، بلکہ مجھے یاد آیا میں نے خود انہیں نہیں بتایا میں نے واٹس ایپ گروپس میں ان کی عیادت کی ایک وڈیو شیئر کی۔ مجھے فوراً علیم خان کا فون آ گیا۔ فرمانے لگے ”شوکت علی کی اس ملک کے لئے بڑی خدمات ہیں۔خصوصاً ہندوستان کے ساتھ معرکوں میں ان کے ترانوں نے پاکستانی قوم اور افواج پاکستان کے حوصلے بلند کئے۔ وہ جس موزی مرض میں مبتلا ہیں ظاہر ہے موت کا ایک دن مقرر ہے ہم ان کی جان تو نہیں بچا سکتے۔ مگر بیماری کے اس عالم میں جو مالی تنگیاں ہوتی ہیں ہم اس میں ان کے کچھ مددگار ضرور ہو سکتے ہیں۔

میں آپ کو دس لاکھ روپے بھجوا رہا ہوں وہ آپ اپنی طرف سے ان کی خدمت میں پیش کر دیجئے گا…… میں نے پوچھا ”اپنی طرف سے کیوں؟۔ فرمایا“ اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ آپ میرے بھائی ہیں، آپ کی طرف سے ہوں یا میری طرف سے، ایک ہی بات ہے“…… میں نے ان سے معذرت کی، اور عرض کیا ”میں آپ کو ان کا ایڈریس دے دیتا ہوں یہ رقم آپ براہ راست انہیں بھجوا دیں“…… اگلے روز ان کا اسٹنٹ فخر ان کی خدمت میں چیک پیش کر آیا۔ وہ ان دنوں اسلام آباد میں ایک پروجیکٹ میں حد سے زیادہ مصروف تھے، مجھ سے کہنے لگے میں جب لاہور آؤں گا تو ہم ذاتی طور پر بھی ان کی عیادت کے لئے ان کی خدمت میں حاضر ہوں گے“…… کچھ دنوں بعد شوکت علی انتقال فرما گئے۔ ان کے بڑے صاحبزادے عمران شوکت نے مجھے بتایا علیم خان صاحب نے جو رقم انہیں بھجوائی تھی اس سے انہوں نے اپنے کچھ قرض اتارے اور فرمایا ”میں اب سکون سے دنیا سے رخصت ہوں گا“…… میں کیا کروں اب ایسے بے شمار واقعات کی مجھ پر برسات ہو رہی ہے۔ ان واعقات کو لکھنے پر میں عبدالعلیم خان سے معافی کا درخواست گزار ہوں کہ انہوں نے مجھ سے یہ وعدہ لے رکھا ہے ان کے کسی فلاحی کام کا ذکر اپنے کسی کالم یا تحریر میں، میں نہیں کروں گا۔ وہ اپنے فلاحی کاموں کی تشہیر نہیں کرتے۔ حتیٰ کہ وہ اپنے سیاسی کاموں کی تشہیر بھی پسند نہیں کرتے

ورنہ مختصر عرض کرنے کے بجائے میں تفصیل سے بتاتا پی ٹی آئی کو پاؤں پر کھڑا کرنے کیلئے کتنی مالی و دیگر قربانیاں انہوں نے دیں۔ چند برس قبل جب لوگوں کو یقین کامل تھا پی ٹی آئی ہمیشہ ”زیر استعمال“ ہی رہے گی، کبھی اقتدار میں نہیں آئے گی، اس وقت بھی علیم خان نے اس تصور کے بغیر کہ پی ٹی آئی اقتدار میں آتی ہے یا نہیں پی ٹی آئی پر کروڑوں روپے خرچ کئے۔ صرف اس لئے کئے وہ یہ چاعغتے تھے عمران خان کی قیادت میں پاکستان ایسا ایک ملک بن جائے جہاں ان کی آئندہ نسلیں یا ان کے بچے یہاں رہنے میں خصوصاً اس حوالے سے آسانیاں محسوس کریں کہ اب یہاں لوگوں کو جان و مال و عزت کا مکمل تحفظ حاصل ہے…… میں یہ کہنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا خان صاحب میں ذرا مردم شنانسی اگر ہوتی تو حکومت میں آنے کے بعد علیم خان کا جو مقام بنتا تھا اس سے زیادہ انہیں نوازتے۔ اس کے نتیجے میں کم از کم پنجاب میں آج یہ حالات نہ ہوتے ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے اور گلستاں ویراں ہوتا جا رہا ہے۔ بچپن میں ایک گانا ہم سنتے تھے ”یہ گھر میرا گلشن ہے…… گلشن کا خدا ہی حافظ“…… یقین کریں کبھی کبھی مجھے یوں محسوس ہوتا ہے پنجاب کی حد تک پی ٹی آئی، نون لیگ بلکہ ”نون لیگ“ سے ملی ہوئی ہے۔ پنجاب میں نااہل سیاسی قیادت کو تبدیل نہ کرنے کی ضد کا جتنا نقصان خان صاحب کی حکومت کو ہو رہا ہے اس سے بڑھ کر فائدہ نون لیگ کو وہو رہا ہے۔ ہر کوئی شہباز شریف کو یاد کر رہا ہے جس کے دور میں نچلی سطح پر اتنی لوٹ مار کا تصور بھی کوئی نہیں کر سکتا تھا جتنی حقیقت میں اب ہو رہی ہے۔ پچھلے دور میں بدعنوانی ہوتی تھی۔ اب ”بدعنوانی کا کاروبار“ ہوتا ہے۔ میری اطلاع کے مطابق کچھ قوتوں نے پنجاب کی سیاسی قیادت کو تبدیل کرنے کے لئے نون لیگ کو استعمال کرنے کی کوششیں کی نون لیگ نے اس لئے انکار کر دیا کہ نون لیگ کو تو اس کا فائدہ ہو رہا تھا۔

Comments are closed.