پھر ایسا کیا ہوا کہ بورڈز کے درمیان ایک مقابلہ سا پیدا ہو گیا ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار خالد مسعود خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔شروع شروع میں تو ایسا ہوا کہ پنجاب کے بورڈز ان نتائج کو عام کرنے میں شرم محسوس کر رہے تھے اور پہلی خبر میں یہ بتایا گیا کہ لاہور میں کئی بچوں نے جبکہ ملتان بورڈ کے متعدد بچوں

نے گیارہ سو میں سے گیارہ سو نمبر حاصل کیے ہیں تاہم یہ ویسا ہی معاملہ تھا جیسا رسا چغتائی کا شعر ہے کہ۔۔۔صرف مانع تھی حیا بندِ قبا کھلنے تک۔۔۔پھر تو وہ جانِ حیا ایسا کھلا‘ ایسا کھلا۔۔۔جب سارے نتائج سامنے آئے پھر تو سمجھیں ”لُٹ‘‘ ہی پڑ گئی۔ کیا لاہور بورڈ‘ کیا ملتان بورڈ‘ کیا ڈی جی خان اور بہاولپور بورڈ۔ کیا سرگودھا‘ اور کیا گوجرانوالہ بورڈ۔ شنید ہے کہ پہلے پہل بورڈز نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ گیارہ سو میں سے گیارہ سو نمبر حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات کی تعداد جاری کرنے پر پابندی ہوگی۔ سوشل میڈیا پر متوقع اور ممکنہ تنقید سے بچنے کے لیے وزارتِ تعلیم نے تمام بورڈز کو ہدایت کی تھی کہ پورے پورے نمبر حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات کی تعداد جاری نہ کرے؛ تاہم پرائیویٹ سکولوں نے از خود اپنے ان طلبہ و طالبات کے نام جاری کر دیے جنہوں نے سو فیصد نمبر حاصل کیے تھے۔ اس کے بعد مقابلے بازی کا بند ٹوٹ گیا اور معلوم ہوا کہ ہر بورڈ میں سینکڑوں ایسے ذہین و فطین طلبہ و طالبات موجود ہیں جنہوں نے 100 فیصد نمبر حاصل کر کے دنیا بھر میں اپنی قابلیت کا جھنڈا گاڑنے کے علاوہ ایک نیا عالمی ریکارڈ بھی بنا ڈالا ہے۔ملتان بورڈ کے نتائج کی تفصیلات میں جائیں تو مزید ہوشربا حقائق سامنے آتے ہیں۔ امسال میٹرک کے امتحان میں 130310 طلبہ و طالبات امتحان میں شریک ہوئے۔ ان میں سے 129455 امیدوار کامیاب ہوئے۔ یہ ملتان بورڈ کی تریپن سالہ تاریخ میں ایسا نتیجہ ہے

جس کی مثال اس سے پہلے ملنا ممکن نہیں۔ صرف 845 طلبہ و طالبات ناکام ہوئے اور یہ وہ بچے تھے جو غیر حاضر تھے یا نقل کرتے ہوئے پکڑے گئے تھے۔ اگر یہ اپنا پرچہ صرف خالی ہی چھوڑ آتے تو اچھی فرسٹ ڈویژن حاصل کر لیتے مگر بے وقوفوں کے سر پر سینگ تھوڑی ہوتے ہیں۔ پتا چلا ہے کہ ملتان اور ڈیرہ غازی خان بورڈ میں بعض بچوں نے 1117 تک نمبر لے لیے تھے جو بعد ازاں کم کر کے گیارہ سو کر دیے گئے۔ اس تعلیمی اڑان کا کریڈت اگر شفقت محمود کو نہ دیا جائے تو بہت ناانصافی ہوگی۔میں نے شاہ جی سے پوچھا کہ آخر وزارت ِتعلیم نے بورڈز کو 1100 میں سے 1100 نمبر لینے والے طلبہ و طالبات کی تعداد جاری کرنے سے کیوں روکا تھا؟ شاہ جی فرمانے لگے :اس سے ہمارے تعلقات دیگر ممالک سے خراب ہونے کا اندیشہ تھا بالکل ویسے ہی جیسے توشہ خانے والے معاملے میں تحفوں کی تفصیل تشت ازبام کرنے سے ہمارے دوست ممالک سے تعلقات خراب ہونے کا اندیشہ ہے۔ میں نے حیرانی سے پوچھا وہ کیسے؟ شاہ جی کہنے لگے: اتنے شاندار اور ناقابلِ مقابلہ قسم کے نتیجے کے آؤٹ ہو جانے سے دوست ممالک کے بچوں کا لاشعور تباہ ہونے اور نفسیاتی مسائل کا شکار ہونے کا اندیشہ تھا۔ بہر حال اب تو جو ہونا تھا سو ہو گیا۔کالم ختم ہو گیا تھا کہ اچانک کراچی سے رستم لغاری کا فون آ گیا۔ پوچھنے لگا: بھائی جان! اگر جادوٹونے اور ڈنڈے میں میچ پڑ جائے تو کون جیتے گا؟ میں نے کہا: فرعون کے دربار میں جب ایسا معاملہ پیش آیا تھا تو عصایعنی ڈنڈا جادو پر غالب آیا تھا۔ رستم لغاری نے میرا شکریہ ادا کیا اور فون بند کر دیا۔

Comments are closed.