پھر ایک روز کیا واقعہ پیش آیا ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار ایثار رانا اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ تاش کے باون پتے ہوتے ہیں انہیں جتنا مرضی پھینٹ لیں وہی باون رہتے ہیں۔ کابینہ میں آپ جتنی مرضی تبدیلیاں کر لیں۔ ہوں گی انہی باون پتوں میں سے۔ کبھی دوکی اوپر آ جائے گی کبھی تکی کبھی بیگم تو کبھی گولا،

وزیر اعظم عمران خان حقیقت میں بادشاہ ہیں۔ ملک میں تو تبدیلی کیا لانی وہ اپنی کابینہ میں تبدیلی نہیں لا سکتے۔ اس بار جو وہ کرنے جا رہے ہیں وہ ایسے ہی ہے کہ آپ رکشہ کے ایک جانب سے اندر آئیں دوسرےدروازے سے باہر نکل جائیں اور کہیں لو جی ہماری تو دنیا تبدیل ہو گئی۔ افسوس کئی وزراء کی تو ابھی قبروں کی مٹی بھی نہیں سوکھی کہ انہیں دیس نکالا مل رہا ہے۔ یعنی حسرت ہے ایسے غنچوں پہ جو بن کھلے مرجھا جائیں گے ہمیں بھی بہت شوق تھا تبدیلی دیکھنے کا،چلیں وہ شوق بھی ہر تین چارماہ بعد پورا ہو رہا ہے۔ سنتا سنگھ کے ہمسائے کی بھینس کے سینگ بہت بڑے بڑے تھے۔ وہ جب بھی اس کے قریب سے گزرتے،سوچتے”جے میریاں لتاں ایس دے سینگاں وچ پھنس جان تے کی ہووے گا“۔ایک دن انہوں نے زبردستی اپنی ٹانگیں اس کے سینگوں میں پھنسا لیں۔ بھینس نے انہیں ٹپک ٹپک کے مارا۔ سنتا سنگھ لہولہان ہسپتال پہنچ گیا۔ ہمسائے نے کہا سوری میری بھینس نے آپ کو مارا۔ سنتا سنگھ بولا چلو جی کوئی گل نئی اے ٹینشن تے مک گئی کہ جے لتاں پھنسن تے کی ہووے گا۔ بنتا سنگھ کا کھوتا گم ہو گیا۔ وہ ڈھونڈتا ڈھونڈتا تھک گیا اور ایک درخت کے سائے میں بیٹھ گیا۔ قریب ایک پریمی جوڑا بیٹھا تھا،عاشق کہنے لگا جانم مجھے تمہاری آنکھوں میں سارا جہاں نظر آتا ہے۔ سنتا سنگھ فوراً بولا یار دیکھیں کدرے مرا کھوتا نظر آ رہا ہے۔ سنتا سنگھ گھرپسینے سے شرابور آیا۔ بیگم بولیں کیا ہوا کہنے لگا مَیں اپنے دوست کی بات پر اعتماد کر بیٹھا۔ اس نے کہا تھا کہ کتا سامنے آئے تو بیٹھ جاؤ۔ مَیں گھر آ رہا تھا کہ گلی میں کتا آ گیا، میں نیچے بیٹھ گیا، بیگم بولیں، پھر سنتا سنگھ بولا پھر کیا کتا ہی میرے ساتھ بیٹھ گیا۔دو گھنٹے بیٹھا رہا او اٹھ کے گیا تے میں گھر آیا واں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.