پھر پاکستانی سفارتخانے والوں نے کیا جواب دیا اور اسکے بعد کیا ہوا ؟ ناقابل یقین تفصیلات

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار حبیب اکرم اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔جب ہرات تالبان کے ہاتھوں میں چلا گیا تو اگلے دن کابل میں پاکستانی سفارتخانے کے باہر کھڑے افغان حکومت کے اکیس سپاہیوں کے انچارج نے دروازے پر دستک دی۔ چونکہ کسی بھی سفارتخانے کی اندر کی

حفاظت اسی ملک کے لوگ سنبھالتے ہیں‘ اس لیے اندر سے پاکستانی گارڈ نے دستک کی وجہ پوچھی تو انچارج نے بتایا کہ وہ یہ جاننا چاہتا ہے کہ اگر تالبان آ گئے تو کیا پاکستانی سفارتخانہ انہیں گیٹ سے اندر آنے دے گا؟ ظاہر ہے یہ فیصلہ گارڈ تو نہیں کرسکتا تھا‘ اس لیے اس نے خاموشی اختیار کرلی۔ اگلے دن اکیس میں سے سات سپاہی غائب ہوگئے۔ تین دن بعد باقی سپاہیوں نے بھی آنا چھوڑ دیا۔ پھر پندرہ اگست کو تالبان کی ایک ٹولی آئی‘ انہوں نے سفارتخانے کو باضابطہ طور پر آگاہ کیا کہ آپ کی حفاظت کیلئے سات افراد متعین کیے جارہے ہیں۔ یہ اعلان تھا گویا افغانستان میں آنے والے انقلاب کا۔ اس انقلاب کے بعد بھی معاملہ عجیب تھا۔ سڑکوں پر تالبان کا راج تھا لیکن ان کے سپاہیوں کو یہ علم نہیں تھا کہ سفارتی گاڑی اور حکومتی گاڑی میں کیا فرق ہوتا ہے۔ دوردراز کے دیہات سے آئے ہوئے ان نوجوانوں نے ہر بڑی گاڑی کو ‘دولتی‘ یعنی حکومتی گاڑی قرار دے کر پکڑنا شروع کردیا۔ ان حالات میں کوئی دوسرا سفارتخانہ تو متحرک نہیں تھا لیکن پاکستانی سفارتخانے کے لوگ کابل میں پھنسے پاکستانیوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر نکال رہے تھے۔ ایسے میں جگہ جگہ ہمارے سفارتخانے کی گاڑیوں کو روک لیا جاتا اور مطالبہ ہوتاکہ گاڑی چھوڑ دو کیونکہ یہ ‘دولتی‘ ہے۔ اس کے بعد ایک لمبا سلسلہ شروع ہو جاتا‘ روکنے والی ٹولی کے امیر سے رابطہ ہوتا‘ پھر ان سے اوپر والے قاری صاحب سے بات ہوتی اور پھر کہیں سے حکم آتا

اور گاڑی چھوڑی جاتی۔ آپ ذرا تصور کیجیے کہ ایک ریاست کا سارا نظام دم توڑ چکا ہو اور بڑے سے بڑا معاملہ ناتجربہ کار مگرہتھیار وں سے لیس نوجوانوں کے ہاتھ میں آجائے تو کیا ہوتا ہے۔ ایک چھوٹی سی غلط فہمی بھی معصوم کو مجرم بنا ڈالتی ہے۔ کئی دن بعد سفارتخانے کی کوششوں سے ہی تالبان کی تنظیم نے اپنے کارکنوں کو سمجھایا کہ سرخ نمبر پلیٹ والی گاڑی سفارتی حفاظت میں ہوتی ہے‘ اسے نہ چھیڑا جائے۔ چلتے چلتے یہ بھی جان لیجیے کہ کابل میں بہت ہی کم بڑی گاڑیاں نظر آتی ہیں۔ وجہ یہی ہے کہ سڑکوں پرکھڑے تالبان انہیں سرکاری سمجھ کر بیت المال میں بھیج دیتے تھے۔ اس کا علاج لوگوں نے یہ کیا کہ بڑی گاڑیاں پوشیدہ جگہوں پر کھڑی کردیں اور چھوٹی گاڑیاں استعمال کرنا شروع کردیں۔ ‘دولتی‘ ہونے کی بنیاد پرصرف گاڑیاں ہی نشانہ نہیں بنیں بلکہ بڑی عمارتیں بھی تالبان نوجوانوں نے دولتی قرار دے کر اپنے تصرف میں کرنا چاہیں۔ اس طرح کے واقعات جب اعلیٰ سطح تک رپورٹ ہوئے تو ان نوجوانوں کو اندازہ ہوا کہ بڑی بڑی عمارتیں نجی ملکیت میں بھی ہوسکتی ہیں۔ مجھے کابل کی ایک بڑے شاپنگ مال کے سامنے کھڑے ہتھیار تھامے تالبان نوجوان نے حیرت سے بتایا کہ افغانستان میں لوگ اتنے امیربھی ہیں کہ دس دس منزلہ عمارتیں بنا لیتے ہیں۔ جو نوجوان مجھے یہ بتا رہا تھا اسکے پاؤں میں ہوائی چپل تھی۔ (خیال رہے کہ سینیئر کالم نگار حبیب اکرم تالبان کے ٹیک اوور کے بعد افغانستان سے رپورٹنگ کے فرائض انجام دے چکے ہیں )

Comments are closed.