پہلی بیوی سلطان راہی مرحوم کو کیوں چھوڑ گئی تھی ؟

لاہور (خصوصی رپورٹ) 1975 1976ء میں ریلیزہونے والی ڈائریکٹراسلم ایرانی کی فلم ’’لائسنس‘‘ نے مصطفی قریشی کوعروج تک پہنچادیا اور پھر یہیں سے ان کی سلطان راہی کے ساتھ جوڑی بن گئی۔
1979ء میں ’’وحشی جٹ‘‘ کا دوسراحصہ ’’مولاجٹ‘‘ ریلیز ہوئی تواس نے پنجابی فلمو ں کی ایک نئی تاریخ رقم کردی۔ مولا جٹ کا مشہور ڈائیلاگ آج بھی عوام الناس میں

ایک یادگار حیثیت رکھتا ہے۔ ’’مولے نوں مولا نہ ۔۔۔‘‘مولاجٹ کی باکس آفس پر شاندار کامیابی کی وجہ سے سلطان راہی کی کامیابیوں کے مزید دروازے کھلتے چلے گئے۔ اس کے بعد پھر انہوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ سلطان راہی کو’’مولاجٹ‘‘ اور مصطفی قریشی کو’’نوری نت‘‘ کے کردارمیں لوگوں نے اتنا پسند کیا کہ اس کی مثال دینا مشکل ہے۔ پھراس کے بعد اس جوڑی نے کم ازکم دس برس تک شائقین فلم کواپنے سحرمیں جکڑے رکھا۔ سلطان راہی کے ساتھ مصطفی قریشی کی جوڑی بہت کامیاب تھی۔ انہوں نے متعدد ڈائریکٹرز کے ساتھ کام کیا لیکن زیادہ تر ڈائریکٹر مسعود بٹ اور یونس ملک کی فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔ انہوں نے آسیہ، عالیہ، ممتاز، گوری، سنگیتا، شبنم سمیت اپنے دور کی تقریباً ہر ایکٹریس کے ساتھ کام کیا لیکن ان کی سب سے زیادہ فلمیں انجمن کے ساتھ ہیں۔ انجمن کی کامیابی میں سلطان راہی کا بہت ہاتھ ہے۔ سلطان راہی کی شادی سے متعلق بھی متنازع بات یہ ہے کہ سلطان راہی نے دو شادیاں کیں۔ پہلی شادی ان کے فلمی کیرئیر کے بالکل ابتدائی دور میں ہوئی لیکن ان کی نئی نویلی دلہن سلطان راہی کے مالی حالات کی تنگی کی وجہ سے ایک ماہ کے اندر ہی ان سے علیحدہ ہوگئی اور سلطان راہی راولپنڈی چلے گئے، جہاں ان کی دوسری شادی اپنے رشتہ داروں میں ہوئی۔ شادی کے بعد وہ لاہور آ گئے تو ان کی کامیابیوں کے دروازے کھلنے شروع ہوگئے۔ ان کی دوسری بیوی ان کے لئے قسمت کی دیوی ثابت ہوئی۔ کچھ عرصہ بعد وہ اپنی بیوی کو بھی لاہور لے آئے۔ سلطان راہی کے تین بیٹے طارق سلطان، بابر سلطان اور حیدر سلطان ہیں، جبکہ دو بیٹیاں ثمینہ اور صائمہ ہیں۔ یہی وہ دور تھا جب سلطان راہی پاکستان فلم انڈسٹری میں ایک جگمگاتا ہوا ستارہ بن کر ابھرے۔

Comments are closed.