پہلے گرتے پلیٹ لیٹس اور اب ۔۔۔۔۔

کراچی (ویب ڈیسک)نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں میزبان سلیم صافی سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ نوازشریف کی صحت ٹھیک ہے صرف وہ اپنے تین ہونے والی سرجریز کا انتظار کر رہے ہیں کہ کب ہوں گے۔ نوازشریف کا معاملہ براڈشیٹ نے واضح کر دیا کہ بیس سال لگائے

پر کچھ نہیں ملا۔حکومت بیوقوفی کر رہی ہے پاسپورٹ کینسل کر رہی ہے پھر تو آنا ممکن ہی نہیں رہے گا۔استعفیٰ کا فیصلہ حتمی ہے اس کا ٹائم پی ڈی ایم کی لیڈرشپ طے کرے گی اس کے سب پابند ہوں گے۔نوازشریف کہتے ہیں کہ آئین کے اندر سب کے کردار متعین ہیں اس میں سب رہیں ہماری کسی سے لڑائی نہیں ہیں۔ جنرل مشرف کیس کی حقیقت یہ ہے کہ وہ کیس سپریم کورٹ نے بنایا اٹارنی جنرل منیر ملک سے پوچھ سکتے ہیں انہوں نے کہا جناب اٹارنی جنرل صاحب وزیراعظم سے یہ پوچھیں کہ جنرل مشرف کے خلاف کیس آپ بنائیں گے یا ہم بنائیں گے اس سوال کا آئینی جواب صرف یہ تھا کہ حکومت ہی کیس کرے گی انتقام لینے کا مزاج نوازشریف کا نہیں ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو شاید وہ کیس نہ بناتے ۔ آرمی چیف کی توسیع پر جو ووٹ دیا گیا اس کی حقیقت یہ ہے کہ مسلم لیگ ووٹ دیتی یا نہ دیتی بل پاس ہوجاتا مسلم لیگ کی طرف سے ووٹ کیوں دیا گیا یہ بات بھی کسی دن سامنے آجائے گی کہ کیا حقائق ہیں ہم نے ووٹ دیا اب ہم اس فیصلے کو اچھا سمجھیں برا سمجھیں فیصلہ ہوگیا۔اس فیصلے میں اداروں کی عزت رکھی گئی ادارے نے اظہار کر دیا کہ توسیع ہونی ہے اظہار ہوگیا اب سپریم کورٹ نے کہا کہ پارلیمنٹ اس کی توثیق کرے یا بل کی ترمیم کرے جو بھی کرنا ہے اب ہاؤس کو تقسیم اس ایشو پر نہیں ہونا چاہیے تھا عسکری معاملات پر پارلیمان تقسیم نہیں ہونا چاہیے ۔حکومت پر جو اداروں کا دست شفقت ہے وہ غیر آئینی ہے ضروری ہے اس کو اٹھا لیا جائے۔

Comments are closed.