پیشگوئی کر دی گئی

لاہور (ویب ڈیسک) ڈونالڈ ٹرمپ عہد میں پاکستان کو مسئلہ کشمیر حل کرنے کا جھانسہ دے کر افغانستان میں اپنا الّو سیدھا کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی… عمران خان بطور وزیراعظم وہائٹ ہائوس میں داخل ہوئے تو انہیں کہا گیا ہم تنازع کشمیر پر ثالثی کریں گے… یہ خوشی خوشی وطن واپس لوٹے

نامور کالم نگار عطاالرحمٰن اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔کہ ایک مرتبہ پھر ورلڈ کپ جیت کر واپس آیا ہوں اسی دوران میں آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کا امریکہ کے دفاعی ہیڈکوارٹر میں ان کے آگے سرخ قالین بچھا کر استقبال ہوا… مسئلہ افغانستان پر پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی مدد اور تعاون حاصل کرنے کی کامیاب بات ہوئی… مال کار نتیجہ یہ سامنے آیا افغان مسئلے کے حل کے لئے taliban کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی راہ ہموار ہوئی ان کا انقعاد بھی ہوا… لیکن اس کے ساتھ نریندر مودی کو آئینی اور عملی لحاظ سے کشمیر ہڑپ کر لینے کا موقع فراہم کر دیا گیا… نتیجتاً ہماری حکومت اور اسٹیبلشمنٹ دونوں کے پاس مذمتی بیانات جاری کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہا… سقوط کشمیر ہو گیا ہم سلامتی کونسل یا کوئی اور عالمی کیا او آئی سی سے بھی اس خطرناک بھارتی اقدام کے خلاف رسمی قرارداد بھی منظور نہیں کرا سکے… امریکہ کی جانب سے سی پیک کے پروجیکٹ کی مخالفت ڈھکی چھپی بات نہیں… ہمارے موجودہ حکمرانوں نے اس کی رفتار کار کو نوازشریف دور کے مقابلے میں سست کر دینے کی ’خدمت‘ تک سرانجام دی… اس سب کے باوجود اس ری پبلکن پارٹی کا جس نے ماضی میں ہمیشہ ہماری اسٹیبلشمنٹ کے سر پر ہاتھ رکھا… مارشل لائوں تک کی حوصلہ افزائی کی… ہم سے اپنی لڑائیاں لڑائیں اس کے ٹرمپ نامی موجودہ صدر نے بھارت کے ساتھ اپنے دفاعی تعلقات کو اس حد تک بڑھوتی دی ہے کہ گزشتہ ہفتے امریکہ وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور وزیر دفاع مارک ایسپر دونوں نئی دہلی پہنچے…

انہوں نے بھارتی حکومت کے ساتھ بظاہر چین کے خطرات سے نبردآزما ہونے کے لئے Basic Exchan & Co-operation Agrement (BECA) نام کا معاہدہ کیا جس کے تحت امریکہ اور بھارت سیٹلائٹ کے ذریعے حساس ترین معلومات کا تبادلہ کریں گے… ظاہر ہے بھارت ان تمام سہولتوں کو پاکستان کے خلاف استعمال کرے گا… اب اگر ڈیموکریٹک پارٹی کا امیدوار جوبائیڈن اگلے چار برس کے لئے واحد سپرطاقت کا صدر بن گیا تو اس کی جنوبی ایشیا کے معاملے میں پالیسیاں کیا رخ اختیار کریں گی… ڈیموکریٹ پارٹی ہمیشہ بھارت دوست رہی ہے… تاہم اس کے صدور میں سے بل کلنٹن وغیرہ نے پاکستان کی جمہوری اور سول حکومتوں اور اداروں کے ساتھ بھی تعلقات استوار کئے… کلنٹن مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے خصوصی دلچسپی کا مظاہرہ کرتے رہے… جوزف بائیڈن نے بطور رکن کانگریس پاکستان کے لئے کیری لوگر بل کی تیاری میں اہم کردار ادا کیا… نائب صدر بنے تو ان کے تعلقات ہماری سول قیادت بالخصوص بے نظیر بھٹو کی حکومت کے ساتھ اچھے خاصے تھے… اگر موصوف نے صدر کا عہدہ سنبھال لیا تو ایک جانب اس حقیقت کو نظرانداز کرنا مشکل ہو گا کہ موصوف کے ہمراہ نائب صدر کے طور پر ایک بھارتی نژاد خاتون کمالا ہیرس ہوں گی… جو اگر 78 سالہ صدر کا اچانک انتقال ہو گیا تو واحد سپر طاقت کی صدارت کا عہدہ بھی بقیہ مدت کے لئے سنبھال سکتی ہیں… تاہم یہ امر بھی معلوم و معروف ہے جوزف بائیڈن ذاتی طور پر پاکستان کے حالات، اس کی سیاست اور اسٹیبلشمنٹ کے امریکہ دوست کردار کو کئی امریکی لیڈروں سے بہتر سمجھتے ہیں… تیسری دنیا میں جمہوری قوتوں کی حمایت اس جماعت کی پالیسیوں کا حصہ رہا ہے… اگرچہ عمل پوری طرح کبھی نہیں ہوا لیکن کچھ نہ کچھ بھرم تو رکھنا ہو گا…

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *