پیمرا کے ٹی وی چینلز کو نوٹس کے تناظر میں بی بی سی پر شائع ہونے والی ایک جاندار تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) نامور خاتون کالم نگار آمنہ مفتی بی بی سی کے لیے اپنے ایک کالم میں لکھتی ہیں ۔۔۔۔۔لاہور میں سرما کی پہلی بارش پڑی اور چھتوں کے پنکھے بند ہوئے تو ایک عجیب سے سکوت نے آ گھیرا۔ اس سکوت میں بوندوں کی کن من اور پتوں سے پھسل کر

حوض میں گرتے قطروں کی جلترنگ کے علاوہ کوئی آواز نہیں ہے۔تحریک لبیک اسلام آباد کو فتح کرنے روانہ ہو چکی ہے۔ ایک خاتون کالم نگار کو کوسنے والے تھک کے چپ ہو چکے ہیں اور پیمرا کا بھیجا ایک نیا ہدایت نامہ سامنے کھلا ہے۔اس یاد دہانی میں کہا گیا ہے کہ خواب گاہ کے منظر، لپٹنے چمٹنے کے مناظر، شادی شدہ لوگوں کی بے راہ روی، بے ہودہ لباس وغیرہ دکھانے کے بڑھتے ہوئے رجحان پہ عوام کے پرزور احتجاج کے باعث یہ ہدایت کی جا رہی ہے کہ وغیرہ وغیرہ۔اسی نامے میں یہ بھی کہا گیا کہ کچھ ’حساس پلاٹس‘ پہ لکھی کہانیاں بھی معاشرے میں اتھل پتھل کا باعث بنیں۔ ابھی تک تو صرف ادارے ’حساس‘ تھے۔ اب ’پلاٹس‘ بھی حساس ہونے شروع ہو گئے ہیں، خدا خیر کرے۔خیر نظر آتی تو نہیں۔ مہنگائی، کم ظرفی، بدزبانی، بد امنی، ڈینگی، عالمی وبا اور سیاسی عدم استحکام کے اس دور میں جب بولنے اور اپنی رائے دینے کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، نہ تو کسی کالم لکھنے والی کی عزت محفوظ ہے اور نہ ہی کسی ’حساس موضوع‘ پہ قلم اٹھانے کی اجازت ڈرامہ نگاروں کو ہے۔ادیب اور دانشور، کسی بھی معاشرے کی آنکھ، کان اور زبان ہوتے ہیں۔ انھیں خاموش کرانے کے لیے ہر دور اور ہر زمانے میں لوگ موجود رہے۔انسانی تاریخ کے صفحات کتنے ہی لوگوں کے خون سے رنگے ہیں جنھوں نے آواز اٹھائی اور اپنی جان گنوائی۔ ہمارے ہاں تو ایسے جری لوگ بہت ہی کم ہیں، لیکن اگر کبھی غلطی سے کسی کے منھ سے سچ پھسل جاتا ہے تو پہلی فرصت میں اسے خاموش کرایا جاتا ہے۔

ملک اس وقت عدم استحکام کی جس منزل پہ کھڑا ہے اس بوکھلاہٹ میں جو نہ ہو جائے کم ہے۔ ابھی خبر ملی کہ گجرات کے قریب جی ٹی روڈ پہ گیارہ فٹ گہری خندق کھود کے تحریک لبیک کا راستہ روکا جا رہا ہے۔کچھ روز قبل بنگلہ دیش میں ہندو مسلم فساد کی خبر ملی اور آج سنا کہ گڑگاؤں میں جمعے کی نماز پڑھنے پہ فساد اٹھ کھڑا ہوا۔بظاہر ان تمام خبروں میں کوئی ربط نہیں لیکن حقیقت یہ ہی ہے کہ جب لکھنے والوں اور سوچنے والوں کو مغلطات دینے ، ان کے لکھے میں گند تلاش کر کے انھیں عدالتوں میں گھسیٹنے، ان کے مذہبی رجحانات، ان کی ذاتی زندگی اور صنف کو موضوع بحث بنانا کسی خطے کی روایت بن جائے تو پھر ایسے معاشرے ہی وجود میں آتے ہیں۔اگر ہم قلم کے آگے، فصیلیں کھڑی نہ کرتے تو شاید آج ہمیں سڑکوں پہ خندقیں نہ کھودنا پڑتیں۔ سنا یہ ہی تھا کہ قلم تلوار سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔ اسی خوش فہمی میں مبتلا آدھی گزر گئی، باقی بھی اسی خیال کے ساتھ گزرے گی کیونکہ یہ خیال نہیں، سچائی ہے۔پیمرا کے یہ نامے بھی آتے رہیں گے، کچھ لوگ لکھنے والوں پہ ذاتی اٹیکس بھی کرتے رہیں گے۔ ادب کی دنیا میں گھسے مجسمے، حقیقی ادیبوں کی راہ بھی روکتے رہیں گے لیکن یہ راستہ چننے والے سر پھرے ،تب بھی اپنی بات کہتے ہی رہیں گے۔یونہی ہمیشہ الجھتی رہی ہے ظلم سے خلق۔۔نہ اُن کی رسم نئی ہے، نہ اپنی ریت نئی۔۔یونہی ہمیشہ کھلائے ہیں ہم نے آگ میں پھول۔۔نہ اُن کی ہار نئی ہے نہ اپنی جیت نئی۔۔اسی سبب سے فلک کا گلہ نہیں کرتے۔۔ترے فراق میں ہم دل بُرا نہیں کرتے۔۔گر آج تجھ سے جدا ہیں تو کل بہم ہوں گے۔۔یہ رات بھر کی جدائی تو کوئی بات نہیں۔۔گر آج اَوج پہ ہے طالعِ رقیب تو کیا۔۔یہ چار دن کی خدائی تو کوئی بات نہیں۔۔جو تجھ سے عہدِ وفا استوار رکھتے ہیں۔۔علاجِ گردشِ لیل و نہار رکھتے ہیں(بشکریہ : بی بی سی )

Comments are closed.