پیپلز پارٹی اور پی ڈی ایم کو یوسف رضا گیلانی کی جیت کا یقین کس وجہ سے ہے ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار سلیم صافی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔پی ڈی ایم میں شامل دونوں بڑی جماعتوں نے اس مرتبہ ٹکٹوں کی الاٹمنٹ میں کافی حد تک میرٹ سے کام لیا ہے ۔ اگرچہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) نے بھی بعض ٹکٹ صاحب ثروت لوگوں کو الاٹ کئے ہیں

لیکن کوئی بھی ایسا نہیں کہ جن کو پارٹی میں نووارد یا پیراشوٹر سمجھا جائے پیپلز پارٹی نے رحمان ملک کو ڈراپ کرکے فرحت اللہ بابر کو ٹکٹ دیا جن کے پاس کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت فیس بھی پوری نہیں ہورہی تھی جبکہ مسلم لیگ(ن) کے ٹکٹ حاصل کرنے والوں میں اکثریت مریم نواز گروپ کی نظر آتی ہے تاہم سب سے دلچسپ کام پی ڈی ایم نے اسلام آباد سے یوسف رضاگیلانی کو مشترکہ امیدوار کی صورت میں کیا ہے ۔ اگر خفیہ ووٹنگ ہو تو اس صورت میں ان کی جیت کے بارے میں پی ڈی ایم کی قیادت مطمئن ہے ۔یوسف رضا گیلانی کی ذاتی رشتہ داریاں جی ڈی اے کے رہنماوں سے لے کر پی ٹی آئی کے کئی اہم رہنماوں تک پھیلی ہوئی ہیں ۔کابینہ میں کئی ایک جبکہ قومی اسمبلی میں درجنوں ایسے لوگ بیٹھے ہیں جنہیں یوسف رضا گیلانی نے بطور وزیراعظم بہت نوازا ہے ۔یوں اصل مقابلہ مرکز میں ہوگا ۔ اور اگر یوسف رضا گیلانی جیت گئے تو اپوزیشن اسے عمران خان پر عدم اعتماد سے تعبیر کرے گی۔اپوزیشن گیلانی صاحب کی جیت کے بارے میں زرداری فارمولے کی وجہ سے مطمئن ہے ۔ کیونکہ پیپلز پارٹی کی قیادت کو پی ڈی ایم کے پہلے والے موقف سے دستبردار کروانے کے بدلے میں یقین دلایا گیا ہے کہ سینیٹ الیکشن میں وہ کچھ نہیں ہوگا جو 2018 کے الیکشن میں یا پھر گلگت بلتستان کے الیکشن میں یا پھر چیرمین سینیٹ کے عدم اعتماد کے معاملے میں ہوا۔یوں اگر مقابلہ صرف حکومت اور اپوزیشن کا رہے تو اس صورت میں اپوزیشن کی جیت یقینی نظر آتی ہے لیکن اگر2018کے الیکشن، چیئرمین سینیٹ یا گلگت بلتستان کے الیکشن جیسے عمل کو دہرایا گیا تو اس صورت میں حکومت کی جیت یقینی ہوگی ۔صرف حکومت اور اپوزیشن کا میچ ہونے کی صورت میں صوبوں سے بھی پی ٹی آئی کو سرپرائزز مل سکتے ہیں اور اس صورت میں گیلانی صاحب کے چیرمین سینیٹ بننے کے چانسز بھی بڑھ سکتے ہیں لیکن اگر ماضی کو دہرایا گیا تو پھر شاید زرداری صاحب اور پی ڈی ایم کے دیگر رہنما ہاتھ ملتے رہ جائیں۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *