پیپلز پارٹی کو گھیر گھار کر پی ڈی ایم میں لانے کا ارادہ

لاہور (ویب ڈیسک) ملکی سیاسی صورتحال میں ایک نیا موڑ دکھائی دے رہا ہے جس میں بڑی سیاسی جماعتوں کے اندر سے آوازیں اٹھنا شروع ہو گئیں ہیں کہ اپوزیشن میں شامل جماعتیں ایک دوسرے کے لئے گنجائش پیدا کریںتاکہ پی ڈی ایم سے علیحدہ ہونے والی جماعتوں کو دوبارہ آٹھ جماعتی اتحاد

کا حصہ بناکر مضبوط متحدہ اپوزیشن کی تشکیل کی جاسکے لیکن پاکستان مسلم لیگ (ن) میں اکثر یت کادعویٰ کرنے والے گروپ کا خیال ہے کہ اس تحریک کا حصہ نہ بناجائے یہ صورتحال اس وقت سامنے آئی جب صوبہ سندھ سے تعلق رکھنے والے دوحکومتی اتحادی گروپوں کی طرف سے اپوزیشن راہنمائوں سے رابطوں کے بارے میں قیاس آرائیاں کی جا رہیں ہیں کہ ان کی طرف سے سفید جھنڈا لہرا دیا گیا ہے واضح رہے کہ گزشتہ روز مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ کے پیپلز پارٹی کے بارے میں نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے خلاف (کامیابی کے لئے) پیپلزپارٹی کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا جسکے پس منظر میں جب مریم نواز شریف سے جاتی امرا کے باہر سوال کیا گیا تو انہوں نے اس کے جواب میں کہا کہ “ہم عوام کا ایجنڈا لے کر چل رہے ہیں اس میں اگر مگر کی بات نہیں سیاسی جماعتوں کو عوام کا ساتھ دینا ہوگا ہمارا نہیں ان کا اشارہ بظاہر مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر کی تائید کرتا نظر آیا۔ اس بارے میں سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے رہنمائوں کے مابین پیپلز پارٹی کی پی ڈی ایم میں ازسرنو شمولیت کے بارے میں گفتگو کا ڈول ڈالا گیا ہے تاہم جمعیت العلمائے اسلام اور پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اس کی مخالفت کی ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ پی ڈی ایم کی تشکیل پانے اور اس سے قبل مولانا فضل الرحمان پیپلز پارٹی کے بارے میں نرم رویہ رکھتے تھے اس ضمن مین تجزیہ کاروں نے توقع ظاہر کی ہے کہ 18 اکتوبر کو پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس میں پیپلز پارٹی کی پی ڈی ایم میں واپسی کے ایشو کو زیرغور لایا جائے گا۔

Comments are closed.