پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی نگہت اورکزئی کا حیران کن بیان

پشاور(ویب ڈیسک)پیپلز پارٹی کی رکن خیبر پختونخوا اسمبلی نگہت اورکزئی نے کہا ہے کہ گورنر شاہ فرمان   میری بہنوں اور بھائی کے حق پر قابض  ہیں جبکہ دو مرتبہ مجھ پر اٹیک کیا گیا اور مجھے اور میرے خاندان والوں کو کچھ ہوا تو ذمہ دار گورنر ہونگے جبکہ الزام نہیں لگا رہی حقیقت بیان کر رہی ہوں

اور میرا گورنر کے علاوہ کسی سے کوئی تنازعہ نہیں ہے۔ اتوار کو تفصیلات کے مطابق پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایم پی اے نگہت اورکزئی نے کہا کہ یہ زمین 1957 میں بہادر نامی شخص سے لی تھی8 سال سے زائد ہوگیا یہ قابض ہیں،مستری خان نامی شخص گورنر شاہ فرمان کا آلہ کار ہے تاہم آج جرگہ تھا لیکن فریق گورنر کے کہنے پر نہیں آئے نگہت اورکزئی نے کہا کہ کامران بنگش ٹھیک کہہ رہا ہے کہ میں اسمبلی میں شور شرابا کرتی ہوں جب بچوں بچیوں پر ظلم ہوگا تو میں شور شرابا کرونگی اور جب خواتین کو نمائندگی نہیں ملتی تو میں بولتی ہوں،کامران بنگش ابھی بچے ہیں اور میری عمر سیاست میں گزری نگہت اورکزئی نے کہا کہ میں تمام اداروں سے پوچھنا چاہتی ہو ں کہ اپوزیشن کے علاوہ بھی آپ کو کوئی نظر آتا ہے؟انہوں نے کہا کہ 20 سالہ سیاست میں کسی پولیس آفیسرکو اکیلے اپروچ نہیں کیا،مغلطات کی سیاست پی ٹی آئی سے سیکھی ہے، میں ایک اکیلی ان کیلئے کافی ہوں کیونکہ قانون انکے ہاتھ کی پتلی ہے انہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع  پر 180 سوالات جمع کرائے جس پر گورنر کومسئلہ ہے جبکہ  پرانا گھر 17لاکھ کا بیچا وہ بتائیں کہ انکے پاس کروڑوں کا مال کہا سے آیا؟تمام قبائل کا حق یہ گورنر ہڑپ کرہا ہے جبکہ زلزلہ متاثرین کے نام پر کروڑوں روپے بھی اس نے ہڑپ کیے جبکہ یتنی بے نامی جائیداد انکے نام ہے جسکا کوئی حساب نہیں نگہت اورکزئی نے مطالبہ کیا ہے کہ گورنر شاہ فرمان کی اور میری مکمل غیرجانبدارانہ تفتیش کی جائے دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائیگا جبکہ واضح کیا ہے کہ  مجھے یا میرے بچوں کو کچھ بھی ہوا تو گورنر شاہ فرمان ہی ذمہ دار ہونگے ان کا کہنا تھا کہ گورنر پر الزامات نہیں حقائق بیان کررہی ہو گورنر کے علاوہ کسی سے کوئی گلہ نہیں خفیہ ادارے قبضہ مافیا کے سرپرست شاہ فرمان کا کیوں نہیں پوچھتی شاہ فرمان نے مستری خان کے بیٹے صدام سے مجھ پر دو دفعہ اٹیک کروایااور مجھ پر ڈی ایس پی تبادلہ کیلئے دباؤ ڈالنے کا الزام جھوٹ ہے مجھے کچھ ہو جائے تو مقدمہ شاہ فرمان، مستری خان اور داد شیر و دیگر پر درج کیا جائے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *