پیچھے سے ایک لڑکی بچہ اٹھائے نمودار ہوئی اور قاضی کے پاس آکر بولی ۔۔۔۔۔۔

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار علی عمران جونیئر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نکاح سے کچھ دیرپہلے اسٹیج پر کھڑے قاضی صاحب نے باآواز بلند کہا۔۔اگر کسی کو اس شادی پر کوئی اعتراض ہے تو اب بھی وقت ہے، ابھی بتا دے،جس کو جو بھی کہنا ہے آ کر کہہ دے،

تبھی بھیڑ میں پیچھے کھڑی ایک خوبصورت لڑکی اپنی گود میں بچے کو لے کر آگے آ گئی۔یہ دیکھتے ہی اسٹیج پر کھڑی دلہن نے دلہا کو تھپڑرسید کردیا !!!دلہن کے والد ہتھیار اٹھانے بھاگے!!دلہن کی ماں بیہوش ہو گئی!!ایک افراتفری مچ گئی۔۔تب قاضی نے لڑکی سے پوچھا۔۔آپ کا مسئلہ کیا ہے؟لڑکی نے جواب دیا۔۔جی، وہ پیچھے ٹھیک سے سنائی نہیں دے رہا تھا، اس لئے میں آگے آئی ہوں۔۔یہ بالکل اسی طرح سے ہے کہ حادثے کے بعد ڈرائیور غصے سے دھاڑا۔۔میں ڈپر دے کر بتابھی رہاتھا کہ پہلے مجھے نکلنے دو۔۔دوسرا ڈرائیورجو سردارجی تھے،آستینیں چڑھاتے ہوئے کہنے لگے۔۔میں نے بھی وائپر چلا کر کہا تھا، نہ سوہنیا نہ۔۔ایک دوست نے دوسرے سے پوچھا، تم اپنی بیوی سے پہلی بار کیسے ملے؟ دوست نے جواب دیا۔۔کتے کی وجہ سے؟ پہلے دوست نے حیران ہوکرپوچھا، کتے کی وجہ سے؟؟ دوست نے کہا، ہاں! کتے کی وجہ سے۔ میں اپنے کتے کو لے کر عصر کے بعد پارک میں سیر کیلئے جا رہا تھا۔ وہ راستے میں ملی، مجھ سے پوچھا کتا بیچو گے؟؟ میں نے کہا نہیں۔ تھوڑی دیر ہم میں گفتگو ہوئی، ایک دوسرے کے موبائل نمبر ہم نے لیے اور اپنے اپنے راستے چل دیے۔۔پہلے دوست کو کہانی دلچسپ لگی، پوچھنے لگا، پھر کیا ہوا؟؟ دوست بتانے لگا۔۔پھر ہم روزانہ فون پر گفتگو کرتے، وہ مجھ سے کتے کے بارے میں پوچھتی،اُسے وہ بہت پسند تھا۔ایک دن ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم شادی کر لیتے ہیں، اس طرح کتا ہم دونوں کا ہو جائے گا۔ چنانچہ ہم نے شادی کر لی۔ چند سال گزر گئے۔

اس دوران ہمارے ہاں ایک بیٹا اور بیٹی پیدا ہوئے۔۔پھر ایک دن کتا چل بسا ۔میں نے بیگم سے کہا کہ کتے کی وجہ سے تم نے مجھ سے شادی کی تھی۔ وہ جا چکا ہے۔ کیا مجھے چھوڑ دو گی؟۔۔بیوی نے انکار میں سردائیں سے بائیں ہلاتے ہوئے تسلی دی اور کہنے لگی۔۔ہرگز،ہرگز نہیں، میں تو سوچ بھی نہیں سکتی۔۔ میں خوش ہوگیا اور وجہ پوچھی، کیوں؟؟۔۔”تم مرحوم کی آخری نشانی ہو نا“ بیگم نے جھٹ سے جواب دیا۔ہمارے محترم دوست اور اینکرپرسن سبوخ سید کاکہنا ہے کہ۔۔اپنی شریک حیات کیلئے آسانیاں پیدا کریں۔اس کی وجہ وہ کچھ یوں بیان کرتے ہیں کہ۔۔ایک بیوی کی لائف میں جو کام کرنے کا عروج والا عرصہ ہوتا ہے وہ تقریباً بیس سال کا ہوتا ہے یا اس سے کچھ زیادہ۔ ان بیس سال میں ایک بیوی تقریباً (2kgx 365x 20)365 من آٹا گوندھتی ہے۔۔ ڈیڑھ لاکھ روٹیاں پکاتی ہے۔۔ 200 من چاول پکاتی ہے۔۔ 300 من سبزی اور گوشت وغیرہ پکاتی ہے۔۔ تقریباً 40 لاکھ اسکوائر فٹ پر جھاڑو پوچا کرتی ہے۔۔تقریباً 40 ہزار جوڑے کپڑے دھوتی ہے اور استری کرتی ہے۔۔اس کے علاوہ بچوں کے ڈائپر بدلنا سکول بیگ اور ٹفن تیار کرنا،مہمانوں کے لیے کھانا تیار کرنا۔۔اور بھی بہت سے چھوٹے موٹے کام ہوتے ہیں جو سرانجام دیتی ہے۔اب اگر یہی کام دو بیویاں کریں تو کتنی آسانی ہو جائے؟؟اور اگر چار بیویاں کریں تو سوچیں زندگی کتنی سہل ہو جائے۔۔اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔ ہمارے ملک میں زیادہ تر پاگل ایسے ہیں، جنہیں پتہ ہی نہیں کہ وہ پاگل ہیں۔۔ خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *