پی سی بی سے کونسی 2 بڑی غلطیاں ہوئیں ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار محمد عامر خاکوانی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ہماری قومی ٹیم کئی ایسے دھچکے سہہ چکی ہے، پچھلے دس پندرہ برسوں میں کئی بار ٹیم کی قیادت اور مینجمنٹ بدلی گئی، دو تین بار بورڈ کے سربراہان بھی تبدیل ہوئے۔ ہر ورلڈ کپ ہارنے کے بعد کپتان

اور ٹیم مینجمنٹ بدل جاتی ہے، سب سے بڑی غلطی تو ہم نے مصباح الحق کو کرکٹ کے تینوں فارمیٹس کا چیف کوچ بنا کر کی۔ مصباح ٹیسٹ کے اچھے کھلاڑی رہے، ان کی سربراہی میں پاکستان نمبر ون ٹیسٹ ٹیم بنا، مگر مصباح کی بطور کھلاڑی ماڈرن ٹی ٹوئنٹی ٹیم میں جگہ ہی نہیں بنتی تھی۔ اب یہ دیکھ لیں کہ مصباح ٹیسٹ کرکٹ سے 2017ء میں ریٹائر ہوئے، ون ڈے سے دو سال پہلے انہیں علیحدہ ہونا پڑا جب دو ہزار پندرہ کے ورلڈ کپ میں پاکستان کوارٹر فائنل ہار کر واپس آیا۔ ٹی ٹوئنٹی ٹیم سے مگر 2012 ہی میں ریٹائر ہونا پڑا تھا۔ جو کھلاڑی اپنے کیرئرکے آخری پانچ برسوں میں ٹی ٹوئنٹی ٹیم کا حصہ ہی نہیں رہ پایا، اسے ہم نے ٹی ٹوئنٹی کے لئے قومی ٹیم کا کوچ بنایا۔ بائولنگ کوچ وقار یونس ہیں، جنہوں نے ٹی ٹوئنٹی کرکٹ سرے سے نہیں کھیلی، وہ اس سے پانچ سال پہلے ریٹائر ہوگئے تھے۔ یونس خان کو ہم نے پچھلے سال بیٹنگ کوچ بنایا، یونس کی قیادت میں اتفاق سے ہم نے ایک ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جیتا ، مگر کرکٹ کو جاننے والا سکول کی سطح کا بچہ بھی جانتا ہے کہ یونس خان بڑے بلے باز ہونے کے باوجود ٹی ٹوئنٹی سٹائل کے کھلاڑی نہیں تھے، اس لئے انہیں بھی اپنے آخری برسوں میں ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ سے باہر ہونا پڑا۔ حال یہ تھا کہ کسی عالمی ٹی ٹوئنٹی لیگ میں وہ سلیکٹ ہوجاتے تو پورا ٹورنامنٹ باہر بنچ پر بیٹھ کر گزارنا پڑتا۔ ایسے بلے باز کو ہم نے ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ کا بھی بیٹنگ کوچ بنایا۔

جس نے زندگی میں دو چار ہی چھکے لگائے ہوں گے، اسے یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ بلے بازوں کو میچز میں چھکوں کی بارش کرنا سکھائے۔ نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ ہم آج کے دور میں بھی دس سال پرانی دفاعی کرکٹ کھیل رہے ہیں۔ بہتر یہ ہوتا کہ مصباح کوٹیسٹ ٹیم کا کوچ بناتے اوروائٹ بال فارمیٹ کے لئے جدید کرکٹ کے ماہر کوچ کو لیا جاتا۔ یہ اس لئے عجیب بات نہیں تھی کہ پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم میں پہلے ہی سے چھ سات کھلاڑی ایسے ہیں جو وائٹ بال فارمیٹ کا حصہ نہیں، عابد علی، عمران بٹ، فواد عالم، اظہر علی، نعمان علی، یاسر شاہ، ساجد خان وغیرہ ۔ جب الگ سے ٹیسٹ ٹیم موجود ہے تو اس کا کوچ بھی الگ ہوتا تو یہ نارمل بات سمجھی جاتی۔ اب تو وقت اتنا کم رہ گیا کہ کوچ بدلنے کی گنجائش بھی نہیں ۔ ڈھائی تین ماہ بعد ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ ہے۔ پاکستانی ٹیم میں کئی بنیادی قسم کی خامیاں موجود ہیں، ایسی جو عجلت میں دور نہیں ہو سکتیں۔ اس میں تمام قصور بورڈ یا ٹیم مینجمنٹ کا نہیں، ہمارا فرسودہ ڈومیسٹک سٹرکچربھی مجرم ہے جو اگرچہ اب بدل چکا ہے، مگر کورونا کی وجہ سے نئے سسٹم کی افادیت سامنے نہیں آ سکی۔ اس کے ساتھ ساتھ کھلاڑیوں کا نان پروفیشنل رویہ اور اپنی تکنیکی کمزوریاں دور نہ کرنا بھی بڑی وجہ ہے۔ ایسے کھلاڑی جن پر دو تین سال محنت کی، وہ اب پرفارمنس کے وقت میں کچھ کر دکھانے کے بجائے اوسط سے بھی کم نتائج دے رہے ہیں۔ کالم کی گنجائش ختم ہوئی، مگر موضوع کے کئی پرتیں ابھی باقی ہیں، ان شااللہ اس پر بات جاری رکھیں گے ۔

Comments are closed.