پی ٹی آئی این اے 133 میں ہوتی بھی تو شکست کھاتی ۔۔۔۔۔۔۔

لاہور (ویب ڈیسک) سب سے بڑی سزا آدم زاد کے لیے یہ ہے کہ پروردگار اس سے بے نیاز ہو جائے۔حکومت کے بھوکوں کی رسی دراز کر دی جاتی ہے۔اقتدار ہی نہیں، مال و دولتِ دنیا سے بھی انہیں عشق ہو جائے تو آسمان سے کوئی رشتہ ان کا باقی نہیں رہتا۔ پھر وہ کتنے ہی بلند و بالا دکھائی دیں،

دراصل کیڑے مکوڑے ہو جاتے ہیں۔نامور کالم نگار ہارون الرشید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انہیں ان کی خواہشات کو سونپ دیا جاتا ہے۔ لاہور کا الیکشن ہو چکا تو تین پارٹیوں نے تین دعوے کیے اور ان کی تکرار کرتی رہیں۔ تحریکِ انصاف نے کہا: ووٹوں کی شرح اس لیے کم رہی کہ رزم گاہ میں وہ موجود نہ تھے۔ اگر ہوتے تو گرمی ء بازار عروج پر ہوتی۔ سامنے کی بات یہ ہے کہ پچھلی بار بھی نون لیگ ہی جیتی تھی۔89 ہزار سے زیادہ ووٹ لیے تھے۔ سمٹ کے اب آدھے رہ گئے۔ اتوار کا دن تھا، وسائل فراواں۔ ایک ایک یونین کونسل ارکانِ اسمبلی اور پارٹی کے عہدیداروں میں بانٹ دی گئی تھی۔ لوگوں کی اکثریت لا تعلق رہی۔80 فیصد سے زیادہ نے عملاً بائیکاٹ ہی کیا ۔ تحریکِ انصاف معرکے میں شریک ہوتی توووٹروں کی تعداد زیادہ سے زیادہ تیس بتیس فیصد ہو جاتی۔لاہور شہر میں کون سے چاند ستارے پی ٹی آئی نے ٹانک دیے ہیں کہ خلق ان پہ فدا ہوتی۔ عثمان بزداروں، اعجاز چوہدریوں اور جمشید چیموں کے لیے کون زحمت اٹھاتا ہے۔ نون لیگ فتح کا جشن مناتی رہی۔نشاط اور مسرت نہیں، یہ اداکاری تھی۔ سیاست میں اداکاری کا عنصر ہوتا ہے لیکن کچھ اور بھی۔ہمارے ہاں تو فقط نوٹنکی رہ گئی۔ پیپلزپارٹی والے واقعی شاد ہوئے۔ اس لیے کہ پانچ ہزار سے بڑھ کر ان کے ووٹ 33ہزار ہو گئے۔ واقعہ یہ ہے کہ وہ بھی خود کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ اگرچہ پی ٹی آئی میں شامل ہونے والے ان کے کچھ کارکن واپس آئے۔ پھر بھی دس ہزار سے زیادہ کی حمایت حاصل نہ ہوتی۔

یہ علامہ طاہر القادری اور مجلس وحدت المسلمین کی وجہ سے ہوا ۔ وحدت المسلمین کے فیصلے کی وجوہات معلوم نہیں۔علامہ صاحب کو بہرحال شریف خاندان کی مخالفت کرنا تھی۔ ان دونوں کا رشتہ دائمی دشمنی کا رشتہ ہے۔ کبھی وہ کاروباری شراکت دار تھے۔ شریف خاندان کی سیاست پر علامہ صاحب چاندی کے ورق لگایا کرتے۔ میاں شریف تو یہ سلسلہ جاری رکھتے۔ صاحب زادے نے پہچان لیا اور بے زار ہو گیا۔ غالباً یہ پہلا موقع تھا، فیصلہ کرنے میں پہل جب اولاد نے کی۔ مجلس وحدت المسلمین اور طاہر القادری کی حمایت کے باوجود پیپلزپارٹی چھلانگ نہ لگا سکتی۔ دراصل یہ خریدے ہوئے ووٹ ہیں۔ اوّل دن سے وہ جانتے تھے کہ نون لیگ ہی جیتے گی۔ مقصود کامیابی نہ تھی بلکہ یہ کہ زندہ پارٹیوں میں شما ر ہونے لگیں۔ آئندہ عام انتخابات کے ہنگام امیدواروں کو لبھانے میں آسانی ہو۔ بیس پچیس امیدوار بھی میسر آ سکیں، ذاتی مقبولیت اور پیپلزپارٹی کے سرمائے سے جو کامیاب ہو سکیں تو یہی ڈرامہ پختون خوا میں دہرایا جا سکتا ہے۔سرمائے کی کوئی کمی نہیں۔ پورے کا پورا سندھ ان کی چراگاہ ہے۔ صرف کراچی شہر سے اربوں روپے ماہانہ پیدا کیے جا سکتے ہیں۔ پنجاب سے پچاس امیدوار میسر ہو سکیں تو پانچ سو کروڑ روپے زرداری صاحب مہیا کر سکتے ہیں۔ صرف پیپلزپارٹی نہیں، نون لیگ نے بھی خریداری کی۔وہ خطرہ مول نہ لے سکتے تھے۔ ہار جاتے تو اتنا بڑا زخم لگتا کہ اندمال میں ایک عرصہ درکار ہوتا۔ کوئی نہیں جیتا ۔ چار لاکھ میں سے ایک لاکھ ووٹر بھی باہر نہ نکلے۔ پی ٹی آئی الیکشن سے پہلے ہار گئی۔ نون لیگ اور پیپلزپارٹی پولنگ کے دن۔خلقِ خدا ان سب سے بے زار ہے اور بہت بے زار۔ بنگلہ دیش اور بعض دوسرے ممالک کی طرح Notaکا خانہ اگر ووٹ کی پرچی پر ہوتا۔ None of the above یعنی کوئی امیدوار بھی قابلِ قبول نہیں تو شاید پچاس ساٹھ فیصد لوگ گھروں سے نکلتے۔ امکان ہے کہ اکثریت سب امیدواروں کو مسترد کر دیتی۔ اس لیے کہ سب کے سب اقتدار کے بھوکے ہیں۔ عوامی احساسات اور امنگوں کے تاجر۔ ان میں کوئی صداقت شعار اور امانت دار نہیں۔ کثرت کی آرزو نے تمہیں ختم کر ڈالا حتیٰ کہ تم نے قبریں جا دیکھیں

Comments are closed.