پی ٹی آئی حکومت سے ناراضگی کا اظہار کرکے (ق) لیگ دراصل کیا چال چل رہی ہے ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار نسیم شاہد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔مسلم لیگ (ق) کے اجلاس میں چودھری پرویز الٰہی کو فیصلوں کا اختیار دیا گیا ہے۔ یہ ایسی بات ہے جس پر ہنسی آتی ہے کیا کسی کو شک ہے کہ مسلم لیگ (ق) چودھری برادران کی ملکیتی جماعت ہے اور اس کا پتا بھی

ان کی مرضی کے بغیر نہیں ہل سکتا کیا پرویز الٰہی کے ایسے بیانات ریکارڈ پر نہیں جن میں انہوں نے وزیر اعظم عمران خان کو نجات دہندہ قرار دیا تھا، کیا انہوں نے یہ نہیں کہا تھا ملک کو بحرانوں سے نکالنے کی صلاحیت عمران خان میں موجود ہے۔ حکومت کی کارکردگی تو معاشی شعبے میں پہلے سال سے خراب ہے، مہنگائی تو روز اول سے بڑھتی رہی ہے۔ اب کیا تازہ تازہ مہنگائی کا عذاب نازل ہوا ہے کہ مسلم لیگ (ق) کو اس سے خوف آنے لگا ہے۔ مہنگائی بڑھی ہے تو اتحادی جماعت ہونے کے ناتے مسلم لیگ (ق) بھی اس کی اتنی ہی ذمہ دار ہے کابینہ میں تو اس کے وزیر بھی بیٹھے ہیں کبھی انہوں نے کابینہ اجلاس میں اس حوالے سے زبان کھولی، فیصلوں کی مخالفت کی؟ ہر فیصلے میں ساتھ رہنے والے یہ کیسے کہہ سکتے ہیں ہم اس بُری کارکردگی کے ذمہ دار نہیں۔ مسلم لیگ (ق) کو اب کیسے یہ خیال آیا کہ اس کے ارکانِ اسمبلی کا اپنے حلقوں میں جانا مشکل ہو گیا ہے۔ تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی سے دو اڑھائی برس سے اس صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں کیونکہ وہ عوام سے اپنے وعدے پورے نہیں کر سکے۔ مگر وہ یہ نہیں کہہ سکتے اب حکومت کے ساتھ چلنا مشکل ہو گیا ہے۔ جس کشتی میں وہ سوار ہیں، اس میں سوراخ کیسے کر سکتے ہیں سب جانتے ہیں کہ مسلم لیگ (ق) نے عملاً گجرات اور بہاولپور کو اپنی دسترس میں لے رکھا ہے۔وہاں وفاقی یا صوبائی حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں

افسروں کے تبادلوں سے لے کر ترقیاتی منصوبوں تک سبھی کچھ مسلم لیگ (ق) کی مرضی سے ہوتا ہے۔ بہاولپور ڈویژن میں طارق بشیر چیمہ کی مرضی کے سوا کچھ نہیں ہو سکتا اور گجرات تو چودھری برادران کا اپنا شہر ہے ان کے زیادہ تر عوامی نمائندے بھی انہی شہروں میں ہیں، جب سب کچھ ان شہروں میں ان کی مرضی سے ہوا ہے تو پھر یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ اپنے حلقوں میں جانا ان کے لئے مشکل ہو چکا ہے۔جہاں تک مہنگائی کا تعلق ہے تو وہ صرف ان حلقوں میں تو نہیں آئی جہاں سے مسلم لیگ (ق) کے نمائندے جیتے، وہ تو پورے ملک میں موجود ہے۔ آج تک یہ تو سنا تھا کہ حکومتی اتحادیوں نے حکومت کی طرف سے منصوبے یا فنڈز نہ ملنے کی وجہ سے احتجاج کیا اور بعض اوقات علیحدگی کی وارننگ بھی دی، مگر یہ کبھی نہیں سنا تھا چونکہ حکومت مہنگائی پر قابو نہیں پا سکی، عوام کو ریلیف نہیں دے سکی، اس لئے اب اس کے ساتھ رہنا مشکل ہو گیا ہے۔ یہ تو اپوزیشن کا کام ہے، اتحادیوں کو تو حکومت کا دفاع کرنا چاہئے جو وہ نہیں کر رہے بلکہ الٹا علیحدہ ہونے کی وارننگز دے رہے ہیں۔ عمران خان کی مجبوری ہے انہیں 2018ء کے انتخابات میں اکثریت نہیں ملی، انہیں چھ چھ نشستوں والی دو جماعتوں کو ساتھ ملا کر حکومت بنانا پڑی۔ان دونوں جماعتوں یعنی مسلم لیگ (ق) اور ایم کیو ایم نے حکومت کو مشکل میں دیکھ کر قیمت بڑھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔

ان ساڑھے تین برسوں کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں، چوہے بلی کا ایک کھیل جاری رہا ہے۔ تاہم اس طرح کھلے انداز سے حکومت پر تنقید اور اسے چھوڑنے کی بات پہلے نہیں کی گئی۔جو اب مسلم لیگ (ق) نے اپنے اجلاس میں کی ہے۔ کیا مسلم لیگ (ق) اپنی تاریخ کے مطابق اگلے سیٹ اپ کے لئے تیاری کر چکی ہے؟ اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ عمران خان کی حکومت پر اس وقت نازک وقت آیا ہوا ہے تو کیا ایک اتحادی کی حیثیت سے مسلم لیگ (ق) کا یہ فرض نہیں بنتا، ان کا مشکلات میں ساتھ دے، الٹا حکومت کو مزید کمزور کرنے کی باتیں کی جا رہی ہیں، شاید انہی باتوں کی وجہ سے مسلم لیگ (ق) کے بارے میں یہ تاثر پیدا ہو چکا ہے وہ موقع پرستی سے کام لیتی ہے اور بساط لپیٹنے کا موقع آنے سے پہلے نئی منزلوں کی مسافر بن جاتی ہے۔پاکستانی پارلیمانی جمہوریت کی سب سے بڑی خرابی بھی یہ ہے کہ اس میں چھوٹے چھوٹے گروپ پریشر گروپوں کا روپ دھار لیتے ہیں اور جمہوریت عملاً ان کے ہاتھوں یرغمال بن جاتی ہے۔ خاص طور پر ان حالات میں کہ جب ایک مخلوط نتیجہ سامنے آئے اور کوئی جماعت بھی اکثریت حاصل نہ کر سکے۔ تب یہ گروپ فیصلہ کن حیثیت اختیار کر لیتے ہیں اور ان کی وجہ سے ہر وقت سسٹم پر بے یقینی کی تلوار لٹکتی رہتی ہے۔ یہ کوشش تو شروع دن سے ہو رہی ہے کہ اپوزیشن مسلم لیگ (ق) کو پنجاب اسمبلی میں اپنے ساتھ ملا کر عثمان بزدار کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائے۔ یہ باتیں بھی ہوتی رہی ہیں کہ (ق) لیگ پنجاب کی وزارت اعلیٰ مانگتی ہے۔ اس لئے یہ بیل منڈھے نہیں چڑھ رہی۔ ایسی ہر کوشش کے آغاز میں عثمان بزدار چودھری پرویز الٰہی سے ملاقات کر کے اسے ناکام بناتے رہے ہیں۔ مگر اب تو مسلم لیگ (ق) نے پورے نظام پر ہی سوالیہ نشان لگا دیا ہے، اس کے پیچھے کیا رمز ہے، اس کا راز تو آگے جا کر ہی کھلے گا تاہم یہ بات کھل گئی ہے کہ پاکستان میں اتحادی سیاست درحقیقت مفاداتی سیاست ہوتی ہے۔

Comments are closed.