پی ٹی آئی کی صفوں سے کون ترین کے خلاف مصروف عمل ہے ؟

کراچی(ویب ڈیسک ) نامور صحافی مظہر عباس اپنے ایک تبصرے میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔جمعرات کو جہانگیر خان ترین نے جب چالیس ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کے نام اپنے گروپ کے طور پر لئے تو خواہ اسے یہ نام دیں یا نہ دیں، عملی طور پر یہ فارورڈ بلاک کا اعلان تھا۔

ان کا گھر اس وقت پی ٹی آئی کے باغیوں کی محفوظ پناہ گاہ بنا ہوا ہے. وہ ناشتے سے ڈنر تک یوں سمجھیں چوبیس گھنٹے ان کے ساتھ رہتے ہیں. دوسری طرف وزیراعظم عمران خان کا گھر بدنظمی کا شکار ہے. کوئی نہیں جانتا کہ آخری مسکراہٹ کس کی ہوگی۔عمران خان جیسے شخص کیلئے یہ کوئی خوشگوار مقام نہیں.وہ کرکٹ میں تو دباؤ برداشت کرتےرہے ہیں لیکن یہ کرکٹ نہیں سیاست ہے. اب جب پہلی بار پارٹی اور حکومت پر کنٹرول کھونے کے کچھ آثار واضح ہیں تو وہ دباؤ میں نظر آرہے ہیں. جہانگیر ترین کا ساتھ دینے والے پارٹی کےارکان اسمبلی اس سے پہلے اس قدر نکتہ چینی کرتے کبھی نظر نہیں آئے۔عمران خان کا مخمصہ یہ ہے کہ انہیں اس شخص کی طرف سے چیلنج درپیش ہے جس پر کبھی انہیں اندھا اعتماد تھا. اب انہیں یہ انتخاب درپیش ہے کہ بلا تخصیص ہر ایک کے احتساب کے اپنے بیانیے پر قائم رہیں یا پھر حکومت کھونے کا خطرہ مول لیں. جہانگیر ترین نے حکومتی کمیٹی کی ملاقات کی درخواست مسترد کردی ہے اور کہا ہے کہ ان کا گروپ صرف وزیراعظم سے ملے گا۔اگر ایک آدھ دن میں یہ ملاقات ہوجاتی ہے تو عمران خان اپنی پارٹی کے ارکان اسمبلی سے نہیں جہانگیر ترین گروپ سے مل رہے ہوں گے. عمران خان اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس سے کیا پیغام جائے گا لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کے پاس باغیوں سے ملنے کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں ہے کیونکہ مرکز اور پنجاب میں ان کی حکومتوں کا انحصار بڑی حد تک جہانگیر ترین گروپ پر ہے۔

جہانگیر ترین اب عمران خان سے ورکنگ ریلیشن شپ چاہتے ہیں لیکن برابری کی بنیاد پر.وہ پارٹی اور حکومت میں ان لوگوں کے خلاف کارروائی بھی چاہتے ہیں جنہوں نے ان کے خلاف سازش کی اور شوگر سکینڈل میں ہدف بنایا۔دوسری طرف وزیر اعظم کو گزشتہ روز تک شوگر کمیشن رپورٹ اور منی لانڈرنگ کے معاملے پر پورا یقین لگتا تھا. اب اگر معاملات طے بھی ہوجائیں تو ایک بات یقینی ہے کہ ان دونوں میں وہ دوستی، تعلق اور اعتماد دوبارہ کبھی نہیں پیدا ہو سکے گا جو ماضی میں کبھی تھا. ترین فیکٹر عمران خان کو ہمیشہ پریشان کرتا رہے گا۔ جمعرات کو انہوں نے پھر کہا کہ وہ شوگر گروہوں کے سامنے کبھی نہیں جھکیں گے لیکن اگر وہ جہانگیر ترین گروپ سے ملتے ہیں اور اس کے نتیجے میں ترین کو کچھ ریلیف ملتی ہے تو اسے ترین کیلئے این آر او قرار دیا جائے گا۔اس کے بر عکس عمران خان ایف آئی اے اور دوسری ایجنسیوں کو کارروائی جاری رکھنے کا کہتے ہیں اور جہانگیر ترین گرفتار ہوجاتے ہیں تو گروپ کے ردعمل کے نتیجے میں مرکز اور پنجاب میں عمران خان کی حکومتیں گرسکتی ہیں۔خیبر پختون خوا سے بھی اختلافات کی خبریں آرہی ہیں. پیپلز پارٹی کے سابق رہنما اور ایم این اے راجا ریاض جو آج کل جہانگیرترین گروپ کے ترجمان بنے ہوئے ہیں، کہتے ہیں کہ ان کے گروپ کی پی ٹی آئی سے ملاقات میں بات جہانگیر ترین کیخلاف انکوائری اور حکومت میں شامل ان افراد کے بارے میں ہوگی جو جہانگیرترین کو بدنام کرنے کے پیچھے ہیں۔

عمران خان کی حکومت روزاول سے اتحادیوں کے رحم وکرم پر رہی ہے اور اب خود اپنے آدمیوں کے. جہانگیر ترین سے پہلے وہ مسلسل مرکز اور پنجاب میں مسلم لیگ ق اور ایم کیو ایم پاکستان جیسے اتحادیوں کے دباؤ میں رہی ہے۔چند ماہ پہلے تک ان کی گجرات کے چودھریوں سے بول چال نہیں تھی لیکن حکومت کو خطرے پر انہوں نے تعلقات بحال کیے. جہانگیر ترین عمران خان کے 30 اکتوبر 2011 کے مینار پاکستان کے بڑے جلسے کے بعد پی ٹی آئی میں آئے تھے۔عمران خان نے ان پر پورا اعتماد کیا. پارٹی کے اندرونی انتخابات پر جھگڑوں سے لے کر ان کی نااہلی تک ہمیشہ ان کا ساتھ دیا. حتیٰ کہ انہوں نے حامد خان اور شاہ محمود قریشی جیسے پارٹی کے بڑوں کے ترین پر الزامات بھی مسترد کردیئے۔عمران خان نے جہانگیر ترین کے کہنے پر کئی الیکٹیبلز پارٹی میں شامل کئے اور یہ نہیں سوچا کہ وہ ان کے نہیں جہانگیرترین کے وفادار ہیں. انہوں نے 2013 کے عام انتخابات کے بعد اور بالخصوص 2014 کے دھرنے میں عمران خان اور ایسٹیبلشمنٹ کے درمیان رابطوں میں بھی اہم کردار ادا کیا۔جہانگیر ترین پنجاب کی وزارت اعلیٰ کیلئے عمران خان کا آئیڈیل انتخاب تھے. انہوں نے ایک بار کہا تھا کہ جہانگیرترین کی نااہلی، علیم خان کی نیب انکوائری اور پارٹی میں دھڑے بندی کی وجہ سے انہیں ایک نووارد عثمان بزدار کو وزیر اعلیٰ پنجاب بنانے کا فیصلہ کرنا پڑا۔عمران خان نے شاہ محمود قریشی کی اس تشویش کو بھی نظر انداز کردیا کہ صوبائی اسمبلی کی نشست کیلئے ان کی شکست کا ذمہ دار ترین فیکٹر ہے

ورنہ وزیر اعلیٰ پنجاب وہی بنتے. عمران خان کیلیے ایک بڑا مسئلہ پارٹی کے اندرونی جھگڑے طے کرانے میں ناکامی رہا ہے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ وہ جان بوجھ کر جھگڑے چلتے رہنے دینا چاہتے ہیں تاکہ ان کا کنٹرول برقرار رہے۔سیاسی جماعتوں میں یہ کوئی غیر معمولی بات بھی نہیں ہے. لیکن اس سے اب پارٹی کو نقصان پہنچنے لگا ہے مثلاً ضمنی انتخابات میں، بالخصوص پرویز خٹک کے بھائی کے معاملے میں، جس کے نتیجے میں پارٹی کو اپنے گڑھ نوشہرہ میں شکست ہوئی. اس سلسلے میں تازہ معاملہ حفیظ شیخ کی یوسف رضا گیلانی کے ہاتھوں شکست ہے۔اندرونی انکوائری سے پتہ چلا کہ جہانگیرترین گروپ نے یوسف رضا گیلانی کو ووٹ دیا، عمران خان کو اس سے دھچکا لگا. وزیراعظم عمران خان اس وقت اتنی کمزور پوزیشن میں ہیں کہ ان کی اتحادی جماعتیں مسلم لیگ ق، ایم کیو ایم پاکستان بلکہ بلوچستان عوامی پارٹی( باپ) تک ان کے مقابلے میں جہانگیر ترین سے زیادہ قریب ہیں۔عمران خان اور ان کے چہیتے عثمان بزدار کی حکومتیں اب جہانگیرترین گروپ کے رحم وکرم پر ہیں. ترین فیکٹر اب ایک حقیقت ہے۔عمران خان کو اس ہفتے اس بات سے کافی تکلیف پہنچی ہے کہ پارٹی کے کئی ایم این اے اور ایم پی اے پارٹی کی طرف سے کسی ممکنہ کارروائی کے خوف کے بغیر جہانگیرترین کے ساتھ کھڑے ہیں. اس سب کچھ سے وزیر اعظم کافی کمزور ہوئے ہیں. پارٹی اور حکومت پر ان کا کنٹرول اور گرفت تیزی سے کم ہورہی ہے۔جہانگیر ترین نے اپنے پتے سامنے رکھ دئیے ہیں جس سے ان کا اعتماد ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کس بنیاد پر عمران خان سے تعلق رکھ سکتے ہیں. انہیں پتہ ہے کہ اب انہوں نے اپنا ہی نہیں اپنے گروپ کے ارکان کا تحفظ بھی کرناہے جو کشتیاں جلاکر ان کے ساتھ آئے ہیں۔جہانگیرترین نے بات چیت کیلئے دروازے کھلے رکھ کر بال دوسرے کے کورٹ میں پھینک دی ہے. بہت واضح تو نہیں، لیکن پی ٹی آئی کے اندر یہ دباؤ بھی بڑھ رہا ہے کہ نتیجہ خواہ کچھ بھی ہو، وزیر اعظم اس گروپ کیا پریشر قبول نہ کریں۔اس طرح اب پارٹی کے اندر بحران عمران خان کیلئے زیادہ خطرہ اپوزیشن پارٹیوں یا پی ڈی ایم سے بڑا چیلنج ہے. . . .

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *