پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی کے بیان نے ہلچل مچا دی

کراچی (ویب ڈیسک) نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی راجہ ریاض نے کہاہے کہ جہانگیر ترین عمران خان کے ساتھ ہیں اپنے کیسوں کا دفاع عدالت میں کریں گےعمران خان کو بہت جلد احساس ہوجائے گا کہ جہانگیر ترین کے ساتھ غلط ہوا ہے۔۔

راجہ ریاض کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کے اعتماد کے ووٹ کیلئے جہانگیر ترین نے بہت اہم کردار ادا کیا، وزیراعظم اور جہانگیر ترین کا اس کیلئے آپس میں رابطہ تھا، جہانگیر ترین اپنے گاؤں سے خصوصی طور پر اسلام آباد آئے اور ارکان اسمبلی کو عمران خان کا ووٹ دینے کیلئے قائل کیا، وزیراعظم کو اعتماد کا ووٹ ملنے کے بعد مخالف لابی حاوی ہوگئی اور وزیراعظم سے یہ کام کروالیا چینی اسٹاکسٹ کی جو لسٹ بنی اس میں جہانگیر ترین کے سوا شوگر ملز کا کوئی دوسرا مالک شامل نہیں ہے۔ راجہ ریاض نے کہا کہ جہانگیر ترین جیل بھی چلے جائیں مگر وہ تحریک انصاف نہیں چھوڑیں گے، جہانگیر ترین وفاق اور پنجاب میں کسی تحریک عدم اعتماد کا حصہ نہیں بنیں گے، جہانگیر ترین عمران خان کے ساتھ ہیں اپنے کیسوں کا دفاع عدالت میں کریں گےجہانگیر ترین سے کسی پارٹی نے رابطہ نہیں کیا ہے نہ وہ کسی پارٹی میں جانے کیلئے تیار ہیں، جہانگیر ترین کی کوشش ہے کہ میڈیا پر بھی نہ جائیں، بدھ کو عدالت کے باہر میڈیا موجود تھا تو انہیں بات کرنا پڑی۔راجہ ریاض کا کہنا تھا کہ جہانگیر ترین عمران خان کے ساتھ ہیں وہ صرف اپنے کیس کا دفاع کریں گےجہانگیر ترین عدالت سے بری ہو کر عمران خان کے سامنے جانا چاہتے ہیں،عمران خان کو بہت جلد احساس ہوجائے گا کہ جہانگیر ترین کے ساتھ غلط ہوا ہے، اگر یہی کارکردگی رہی تو الیکشن میں ہماری جماعت کے بہت برے حالات ہوں گے۔ پروگرام میں بتایا گیا کہ احد چیمہ شہباز شریف کے دور میں تقریباً چار سال تک لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل رہے۔ تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی راجہ ریاض نے کہا کہ 15سے 20دن پہلے تک عمران خان اور جہانگیر ترین کے تعلقات اچھے ہوگئے تھے، پچھلے پندرہ بیس دنوں میں کچھ لوگوں نے دوبارہ سازش کر کے خرابی پیدا کی، جہانگیر ترین شوگر منافع خور گروہوں کا حصہ نہیں ہیں پھر بھی ان کا نام اس لسٹ میں ڈال دیا جاتا ہے، جہانگیر ترین کہتے ہیں ان کے خلاف سازش ہورہی ہے، جہانگیر ترین اور عمران خان کے درمیان فاصلے دوبارہ بڑھ گئے ہیں، جہانگیر ترین کے خلاف تین ایف آئی آرز درج کرائی گئیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *