پی ڈی ایم نے کس کو خصوصی پیغام بھجوا دیا ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار اشرف شریف اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ یادش بخیر جنرل پرویز مشرف کے ابتدائی زمانے میں رانا ثناء اللہ نے پنجاب اسمبلی میں کھڑے ہو کر حمود الرحمن کمشن کی رپورٹ کو مدنظر رکھ کر حساس ادارے پر تنقید کی۔ ایک ریٹائرڈ صاحب نے انہیں جواب دیا کہ

کیا وہ جانتے ہیں کہ ایک جرنیل کیسے بنتا ہے۔ رانا ثناء اللہ کہاں چپ بیٹھتے۔ حمود الرحمن کمشن کی رپورٹ میں ایک افسر کے گورنر ہائوس میں داخلے اور نکلنے کا وقت کچھ ناشائستہ تفصیلات کے ساتھ کھڑے کھڑے بیان کر دیا اور کہا کہ جرنیل ایسے بنتا ہے۔ رانا ثناء اللہ کو اس کا نتیجہ بھگتنا پڑا۔ وہ زمانہ جمہوریت کی محبت کا تھا۔مغلطات مقبول ہو رہی تھیں، سیاسی لوگوں نے رانا ثناء اللہ کو داد دی۔ زمانہ بدل رہا ہے۔ اختیارات کی مرکزیت ختم ہو رہی ہے۔ مسلم لیگ ن ہو‘ پیپلز پارٹی ہو‘ جمعیت علماء اسلام ہو‘ اے این پی ہو‘ ایم کیو ایم ہو یا بلوچستان کی چھوٹی بڑی جماعتیں ہوں۔ سب کی عوامی حمایت کم ہوئی ہے۔ عمران خان کو اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل رہی ہے۔ اب بھی یہ حمایت موجود ہے‘ اس میں شک نہیں۔ لیکن اس حقیقت کو تو عمران خان کی دشمنی میں آخری حد تک جانے والے ان کے ایک بہنوئی بھی تسلیم کر رہے ہیں کہ عمران خان کے جلسے میں جنرل پاشا نے لوگ نہیں بھیجے اور عمران خان موجودہ سیاستدانوں کی پوری کھیپ میں سب سے زیادہ بلکہ خطرناک حد تک دلیر آدمی ہیں۔ ان کی بے خوفی انہیں بچا رہی ہے۔ پی ڈی ایم کہنے کو اتحاد ہے لیکن اصل میں یہ مسلم لیگ ن اور مولانا فضل الرحمن کے مفادات کا قبضہ کردہ پلیٹ فارم ہے۔ اپوزیشن کی ایک تعریف موقع کی منتظر حکومت ہے‘ دوسری تعریف ایسی سیاسی قوت جس کو حکومت چلانے کی اہل نہ سمجھ کر ووٹروں نے مسترد کر دیا ہو۔ ووٹر ناراض اور ناخوش ہو تو یہاں عجیب چلن ہے۔ بات چھانگا مانگا اور مری کے بدنما دھبوں سے شروع ہوئی‘ معلوم ہوا کہ سیاستدان کیسے بنتے ہیں۔ پھر یہ سلسلہ چل سو چل۔ اصول گرم لوہے پر چلتا ہے‘ نازو نعم میں پلے لیڈر اس لئے اصول پر نہیں چل پاتے۔ مفاد کا بیج بوتے ہیں اور پھر اسے ہر قیمت پر کاشت کرتے چلے جاتے ہیں ۔ سندھ میں مالداروں کا کنسورشیم بننے کی اطلاعات پنجاب کی بڑی اپوزیشن جماعت تک پہنچ چکی ہیں۔ دروغ برگردن راوی کہ اپوزیشن نے قبضہ گروپوں اور مفاداتی گروہوں سے مالی تعاون طلب کر لیا ہے‘ ان گروپوں سے وعدہ کیا جا رہا ہے کہ اگر انتخابات میں ووٹ خرید کر اپوزیشن نے سینٹ میں اکثریت حاصل کر لی تو تمام قانونی کارروائیاں رکوا دی جائیں گی۔بااثر شخصیات‘ حکومتی اراکین‘ پولیس افسروں اور میڈیا کے بعض لوگوں کو ہمنوا بنانے کا منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے۔حکومت کے خلاف اصولوں پر مبنی صف بندی کرنے کی بجائے اپوزیشن نے سندھ اور پنجاب میں غلط مورچے بنا لیئے ہیں۔ ان سے تحریک انصاف کو مالی بدعنوانی اور لوٹ مار کے خلاف اپنا موقف مضبوط کرنے کا موقع ملے گا۔ رہی سینٹ انتخابات کی بات تو اپوزیشن کو ایک بڑے سرپرائز کے لئے تیار رہنا چاہئے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *