پی ڈی ایم کا قصہ ختم ۔۔۔ اب آگے کیا ہو گا ؟

لاہور(ویب ڈیسک) گذشتہ روز ہونے والے پی ڈی ایم کے مشترکہ اجلاس کے بعد سے سوشل میڈیا پر ایک ٹرینڈ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے آفیشل اکاؤنٹ نے کسی کی موت کے وقت تعزیت کے طور پر ادا کیے جانے والی اصطلاح ‘آر آئی پی’ کو پی ڈی ایم سے جوڑ کر ٹوئٹر پر

وائرل کر دیا ہے ۔مقامی ٹی وی چینل جیو نیوز سے منسلک صحافی اور تجزیہ کا مظہر عباس نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘آج پی ڈی ایم تحریک کو جمہوری پروٹوکول کے ساتھ بالآخر سپرد خاک کر دیا گیا ہے۔ تمام رہنماؤں نے اس کی آخری رسومات میں شرکت کی اور کچھ نے ویڈیو لنک کے ذریعے بھی۔’میں نے خود حزب مخالف اتحاد کو اسلام آباد میں منہدم ہوتے دیکھا۔ پی ٹی آئی اب پی پی پی کی جانب سے نامزد کردہ دوستانہ رہنما حزبِ اختلاف کی حمایت کر سکتی ہے۔’اکثر صارفین نے پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے درمیان ماضی میں ہونے والے اختلافات کے بارے میں بھی بات کی اور کہا کہ اس بات کے امکانات تو بہت عرصے سے تھے کہ دونوں کے درمیان پھوٹ پڑ سکتی ہے۔کچھ افراد پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف کے اس اتحاد کے آغاز میں ہی دیے گئے بیان کی نشاندہی کرتے دکھائی دیے جس میں انھوں نے آصف علی زرداری سے شراکت کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا تھا۔دوسری جانب صحافی کامران یوسف نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ‘زرداری کی جانب سے استعفوں کے حوالے ہچکچاہٹ کے حوالے سے جس جانب کسی کی بھی نظر نہیں جا رہی وہ یہ ہے کہ اس وقت امریکہ میں بائیڈن انتظامیہ موجود ہے اور وہ افغانستان میں امن عمل سے متعلق کسی بھی ٹھوس معاہدے سے قبل یہ نہیں چاہے گی کہ یہاں حکومت میں تبدیلی آئے۔’اس دوران سوشل میڈیا پر ‘ایک زرداری سب پر بھاری’ جیسی ٹویٹس بھی

دیکھنے کو ملیں اور جہاں کچھ صارفین آصف زرداری کی سیاسی بصیرت کے مداح دکھائی دیے تو کچھ انھیں ‘اپنے مفاد پر سمجھوتا نہ کرنے والا سیاست دان’ کرتے نظر آئے۔اس بارے میں صحافی ضیا الدین نے ماضی کی مثال دیتے ہوئے کہا ‘کیا آپ کو یاد ہے کہ زرداری نے ہی نواز شریف کو 2008 کے الیکشنز میں حصہ لینے پر آمادہ کیا تھا جب وہ آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ کا حصہ بن کر اس کے بائیکاٹ کے بارے میں سوچ رہے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ اے پی ڈی ایم چوہدری نثار کا منصوبہ تھا اور آصف زرداری کے مشورے پر ہی نواز شریف نے الیکشنز میں حصہ لینے کے بارے میں سوچا تھا۔’جہاں ہر کوئی گذشتہ روز پیش آنے والے واقعات کے بارے میں تبصرے کرتے دکھائی دیے وہیں اس بارے میں صحافی حسن زیدی نے کہا کہ ‘اس وقت پی ڈی ایم جماعتوں کو اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ وہ ماضی سے سیکھ کر اپنے نظریے میں کیا تبدیلی لا سکتے ہیں اور انھیں کیا لگتا ہے کہ نظام میں کیا غلط ہے۔’انھوں نے کہا کہ اگر آپ کا جواب عمران خان اور تحریک انصاف کے گرد گھومتا ہے تو آپ کا نظریہ مختلف ہو گا، لیکن اگر یہ اس سے کہیں وسیع ہے تو آپ کا جواب مختلف ہو گا۔’ انھوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کو سوچنا ہو گا کہ وہ اپنی پہچان کیا بنانا چاہتی ہیں اور وہ کیا چاہتی ہیں کہ تاریخ میں اس تحریک کو کیسے یاد کیا جائے

Comments are closed.