چمن کے انگوروں اور قندھاری اناروں والا ڈرامہ :

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار اور پاک فوج کے سابق افسر لیفٹیننٹ کرنل (ر) غلام جیلانی خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ماضیء قریب میں افغانستان کی طرف سے جو تصاویر اور خبریں یوٹیوب اور فیس بک پر اَپ لوڈ کی جاتی رہیں، ان میں قندھار کے اناروں کے باغات دکھائے جاتے تھے۔

افغان کسان اپنے اناروں کو گلتا سڑتا دیکھتے تھے اور مایوس ہو کر اپنے گورنر کی ضد کے ٹوٹنے کا انتظار کرتے تھے۔ دوسری طرف پاکستان کی فروٹ مارکیٹ بھی افغانستان کے تازہ اور خشک پھلوں سے خالی خالی نظر آ رہی تھی۔ اکتوبر میں قندھاری اناروں کے ثمر فروشوں کی دکانیں سرخ لال ہو جایا کرتی تھیں لیکن گزشتہ ماہ صرف وہی انار بازار میں آئے جو پشاور اور مینگورہ سے آتے ہیں۔ ان کا رنگ و روپ، چمک دمک، ذائقہ اور سائز وہ نہیں تھا جو قندھاری اناروں کا ہوتا ہے۔میں ان علاقوں میں کافی آیا گیا اور گھوما پھرا ہوں۔ 1984ء میں کوئٹہ میں پوسٹنگ کے دوران ”چمن کے انگور“ چمن میں جا کر کھانے کا اشتیاق بڑھا تو چمن جانے کے لئے رختِ سفر باندھا۔ ہماری ایک طیارہ شکن بیٹری چمن بارڈر پر لگی تھی۔ وہاں کا بیٹری کمانڈر میرے عزیزوں میں سے تھا۔ ان سے رابطہ کیا اور چل دیا۔ اپنی گاڑی کے علاوہ ایک تحفظی گاڑی بھی ساتھ لے لی تاکہ کوئٹہ۔ چمن کی سنسان راہوں پر کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آ جائے۔ چمن سے چند سوگز پیچھے جب بیٹری پوسٹ پر پہنچے تو کمر کمر تک برف پڑی ہوئی تھی لیکن سڑک کو کھلا رکھنا تو ایک عسکری ضرورت تھی۔ دوپہر کا کھانا یہیں کھایا اور چمن کے انگور خریدنے چمن چلا گیا۔ جا کر دیکھا تو بازار تقریباً سنسان تھے۔ انگور، سیب اور اناروں کی ایک آدھ دکان کھلی تھی۔ میں نے پوچھا: ”چمن کا انگور لینے آیا ہوں“…… دکاندار یہ سن کر ہنسا اور کہا: ”سر! چمن کا صرف نام مشہور ہے۔

یہاں کوئی انگور نہیں ہوتا۔ سب کچھ قندھار سے آتا ہے اور ٹرکوں کے ٹرک بند حالت ہی میں کوئٹہ روانہ کر دیئے جاتے ہیں“…… میں یہ سن کر مایوس ہوا۔ کافی باتیں ہوئیں۔ آخر انگور کی چندبیلیں خریدیں اور واپس کوئٹہ پہنچ کر ان کو اپنے صحن میں کاشت کر دیا……اس کا جو نتیجہ ”برآمد“ ہوا اس کی داستان پھر کبھی…… ہاں البتہ اس زمانے میں انڈیا کی فلمیں (اور پاکستان کی بھی) دیکھنے کے لئے جاپانی VCRs کا زمانہ تھا۔ میں نے ایک دکان سے خریدا اور واپس آ گیا۔ اگلے روز لیاقت بازار کوئٹہ میں گیا تو اسی VCR NV-380نیشنل پیناسانک 12800روپے کی قیمت وہاں بھی 12ہزار 5سو تھی……سوچا کہ چمن کے انگور بھی کھٹے اور VCRبھی مہنگے۔اس کے بعد بھی موسم گرما میں چمن کے سفر کئے۔ چمن کا موسم گرمیوں میں کوئٹہ سے بھی گرم ہوتا ہے۔ افغانستان سے تازہ اور خشک پھلوں کی آمد و شُد اور خرید و فروخت نے برصغیر کو ایک ایسا فلمی ہیرو دیا جو ہمیشہ ایک لیجنڈ بنا رہے گا۔ خیال کرتا ہوں جب یوسف خان اپنے والد کی پھلوں کی دکان پر (بمبئی میں) بیٹھا ہوگا تو اس کو کیا معلوم ہوگا کہ اس کی ذات و صفات میں اناروں اور سیبوں کے باغات کی کوئی اہمیت اور حیثیت نہیں ہوگی بلکہ وہ نسوانی اور مردانی قسم کے انار اور سیب ہوں گے!لیکن ”انار فروشی“ اگر دلیپ کمار کو پشاور سے اٹھا کر بمبئی نہ لاتی تو جنوبی ہند کا یہ خطہ ایک ایسے فنکار سے محروم رہ جاتا جو نجانے ماضی میں کتنے دلوں کی دھڑکن تھا اور آج بھی کتنے سینوں میں اس کی تعریف و تحسین کے سپنے دفن ہیں!