چند تاریخی واقعات آپ کو سب کچھ سمجھا دیں گے

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار نواز خان میرانی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مرحوم میں بھی نصرت فتح علی خان مرحوم جیسی خاصیت قدرت نے بدرجہ اتم ودیعت کی ہے، نصرت فتح علی خان مشرقی اور مغربی موسیقی کی دنیا میں دونوں کے حسین امتزاج کے روح رواں ہونے کے ناطے اپنا نام امر کرگئے۔

پیرپگاڑہ صاحب بھی مغربی دنیا میں پرورش پانے کے باوجود مشرقی انداز اپنائے ہوئے تھے، حالانکہ انگریزوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا تھا، کہ صبح سے رات تک کے ان کے معمولات بلکہ مسلمانوں کے بجائے انگریزوں جیسے ہوجائیں۔ مگر ان کی تمام محنت اکارت رہی، سوائے ایک شغل کے، وہ مکمل مشرقی انداز اپنائے رہے، اور مشرقی بھی اس حدتک کہ موصوف نے اپنی بچی کھچی تمام توانائیاں ”ستاروں کے علم“ اور شیخ رشید کی طرح پشین گوئیوں پر صرف کردی، شیخ رشید اور پیرپگاڑہ سرعام اور بیانگ دہل کہتے تھے، کہ ہم جی ایچ کیو کے آدمی تھے، میں احتیاطاً بات کو گھما دیتا ہوں، کہ پیر صاحب کے مرید”حر“ پاک فوج کے جوانوں خصوصاً راجستھان ، سندھ میں ان کے دست وبازو ہیں۔ فوج کے ساتھ روابط کی بناپر وہ ہمیشہ بادشاہ گرتھے، تو ان کی بڑی عزت اور خاصا نام تھا لیکن بڑے بھی سچ کہتے ہیں، کہ انسان اپنی عزت خود بناتا ہے، لیکن لگتا ہے کہ پیر صاحب کو بھی اس کہاوت سے اتنا اختلاف ہے، جتنا حامد ناصر چٹھہ کو نواز شریف سے اختلاف ہوتا ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ کئی دفعہ انسان کو دوسرے انسان سے خداواسطے کا بیر اور اختلاف ہوتا ہے، جبکہ اس شکررنجی کی کوئی منطقی وجہ بھی نہیں ہوتی، کبھی کبھی ایسا قصہ میاں محمد نواز شریف، اور پیرپگاڑہ کے درمیان بھی رہا، بلکہ ایک دفعہ تو پیر صاحب نے یہ فقرہ بھی ادا کردیا تھا، کہ میں نے بوری میں سوراخ کردیا ہے، اب دانے خود ہی گرتے رہیں گے لیکن خدا کا کرنا کچھ ایسا ہوا،

کہ اس سال پاکستان میں گندم اتنی اچھی ہوئی، کہ بوری بھری کی بھری رہ گئی۔ لیکن اس کمال کے پیچھے جنرل ضیاءالحق کا وہ بیان تھا کہ نواز شریف کا کلہ بڑا مضبوط ہے اور اس طرح سے لفظ کلے کو پاکستان کی عملی سیاست میں اچھا خاصا مقام مل گیا، وہ دن اور آج کا دن وہ کلہ ایسا کام دکھا رہا ہے، کہ جو پاکستان کی سیاست میں کبھی نہیں ہوا تھا۔ سابق صدر غلام اسحاق خان کا کلہ اس حدتک مضبوط تھا کہ وہ تحصیلدار سے صدر پاکستان جیسے معتبر مرتبے تک فائز رہے، سنا ہے کہ ان کا کلہ تو جنرل ضیاءالحق کے کلے سے زیادہ مضبوط تھا، لیکن شاید وہ زیادہ پرانا ہونے کے سبب شکست کھاگیا، اور صدراسحاق کلے سمیت بھاگ گئے۔ اور اس طرح سے میاں نواز شریف کا کلہ پھر قائم رہا۔ کیونکہ اس وقت ان کی جوانی تھی، اس کے بعد بے نظیر نے نواز شریف کے ساتھ ٹکر لی، نتیجہ یہ نکلا کہ زرداری صاحب اندر، اور بیگم صاحبہ ملک کے باہر، نواز شریف کا کلہ پھر قائم مرحوم ذوالفقارعلی بھٹو نے کسانوں کو ایک ایک اور دو دو کلوں کا تذکرہ بڑے زورشور سے کیا تھا، بلکہ غریب کسانوں سے پکا وعدہ بھی کیا تھا۔ یہ توشکر ہے، کہ بھارتی کسانوں کو حکومتی کلے سے واسطہ ہی نہیں پڑا، پاکستان کے کسانوں کو تو پتہ چل گیا ہوگا کہ ان کے صدر کو ملتان سے گرفتار کرلیا گیا ہے، اب ہمیں نہیں معلوم کہ انہیں قلعے میں رکھا جاتا ہے، یا کلہ دکھا دیا جائے گا۔ نجانے یہ ان معجونوں کا نتیجہ ہے جس کا تذکرہ ”تزک بابری“ میں بادشاہ جہانگیر نے کیا ہے ، یا چونے ، پٹ سن والے مصالحے کا کرشمہ ہے جسے دنیا بھر کے سیاح دیکھنے آتے ہیں، لیکن کیا فائدہ کیونکہ میراثی کی بیوہ تو خاوند کے مرنے پہ دہائیاں دیتی ہے، کہ بندے غائب اور کلے قائم، بصورت دیگر غریب عوام کے لیے غربت کے اس دور میں کشتے، معجون، کھانے کی ضرورت نہیں، شریف عوام کے لیے تو شاہی قلعہ ہی کافی ہے، آگے جو اللہ کو منظور، کیونکہ کلہ قائم رکھنا تو اسی کا کام ہے۔ مگر انسان کو تو بھی چاہیے کہ وہ اپنی ہیئت ترکیبی پہ بھی نظر کرے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے کس طرح اس کی کھنکھناتی مٹی سے اس کی تخلیق کی، اور پھر اس کو عورت ، مرد، ہیجڑے کی شکل دے دی ،سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آج کل کس سیاستدان یا حکمران کا کلہ مضبوط ہے، اور اس کی وجہ کیا ہے؟

Comments are closed.