چند حیران کن حقائق

لاہور (ویب ڈیسک) نوجوان صحافی عامر بن علی اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔یہ اگست کا مہینہ تھاجب آج سے 32 برس قبل گلگت کے ائیرپورٹ سے ایک پی آئی اے کی مسافروں سے بھری پرواز نے اسلام آباد کے لئے اڑان بھری۔یہ بد قسمت فلائیٹ کبھی منزل پرنہیں پہنچی۔ایسے لاپتہ ہوئی کہ آج

کے دن تک اس کا کوئی سراغ نہیں مل سکا، کہ اسے آسمان کھاگیا،یا پھر زمین نگل گئی۔اس پرواز کاواقعہ پڑھتے ہوئے فلائیٹ نمبر404 اوراس میں سوار 54 مسافروں کاذکرپڑھ کر میں رک گیا۔اس کی وجہ جاپان میں چارکے ہندسے سے منسلک نحوست کا تصور ہے۔بات اس طرح سے کی جائے تو زیادہ واضح ہو جائے گی کہ جاپان میں کسی فلائیٹ کا نمبر یہ نہیں ہو سکتا۔عمومی طور پرسائنس و ٹیکنالوجی کو توہم پرستی کی ضد سمجھا جاتا ہے۔اسی طرح جو معاشرے مادی اعتبار سے ترقی یافتہ ہوتے چلے جاتے ہیں وہاں روحانیت کمزوراور توہم پرستی مٹتی چلی جاتی ہے۔جوں جوں ٹیکنالوجی سماج میں پھیلتی ہے نحوست کا تصورمدھم پڑھتا چلا جاتا ہے۔انہی عقائدوتصورات میں سے ایک چارکے ہندسے کی نحوست ہے۔آپ اگر جاپان کی سیاحت کے لئے آئیں اور کسی کثیرالمنزلہ عمارت کی لفٹ میں کھڑے ہوکرغورکرنے پربھی چوتھا فلور نہ تلاش کر پائیں توپریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔اس کا صرف یہ مطلب ہے کہ تین کے بعد جو منزل ہے وہ نحوست سے بچنے کے لئے پانچویں کہلاتی ہے۔بالخصوص ہسپتالوں میں عمومی طور پر چوتھا فلور نہیں ہوتا اور نہ ہی نواں فلور ہوتا ہے۔9کاہندسہ بھی بدبختی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔مگراس کی نحوست 4کے مقابلے میں کم ہے۔جاپانی چونکہ تصویری زبان ہے اورروایتی طور پرقلم کی بجائے برش یعنی ادبی زبان میں موئے قلم سے لکھی جاتی ہے،اس میں چار کے ہندسے کی تصویراورموت کے حرف کاخاکہ یانقش ایک جیساہے۔یہی وجہ ہے کہ چار جسے”یون“کہاجاتا ہے،کوشش کی جاتی ہے کہ اس ہندسے کو”شی“ پکارا جائے، اول الذکرموت کے لئے بھی مستعمل ہے۔

اس سماج میں رہتے ہوئے آپ ان سماجی تصورات سے پہلوتہی نہیں کر سکتے۔ یہ عین ممکن ہے کہ آپ بڑی چاہت سے کسی کو تحفہ پیش کریں اور وہ اسے اذیت ناک موت کی بددعاسمجھے،کئی دوستوں کے ساتھ ایسا ہواکہ ان کے تحفے کوموت کی بددعاگردانتے ہوئے ترک تعلق کر دیا گیا۔کبھی کسی جاپانی کو ایسا تحفہ نہ دیں جس میں چاریا9کاہندسہ آتاہو۔تحائف کی تعدادزیادہ ہے تو پھرتین یاپانچ ہی ہوں۔ چارقطعاًنہ ہوں۔پھول پیش کرنا چاہتے ہیں توان کی تعدادچار قطعی طورپرنہ ہو ورنہ آپ پچھتائیں گے۔جیسے چار موت کا نشان ہے اسی طرح 9کاہندسہ اذیت کا پیش خیمہ سمجھا جاتا ہے۔ایپل کمپنی نے آئی فون 8کے بعدآئی فون ٹین پیش کیاتھا۔کیوں؟ذرا سوچئے کہ آئی فون 9کیوں نہیں بنایاگیا؟سات اور آٹھ کے ہندسے البتہ خوش بختی کی علامت ہیں۔ سات کاخوش قسمتی کے ساتھ تعلق کا تصور بدھ ازم سے آیا ہے اورآٹھ کاہندسہ چونکہ کہیں ختم نہیں ہوتا لہٰذا 8 کو امرت، لامتناہی زندگی اورکبھی نہ ختم ہونے والی خوشی کا نشان سمجھا جاتاہے۔باقی دنیا کی طرح جاپان میں بھی منظم جرائم ہوتے ہیں،جرائم سے وابستہ افراد کی تنظیمیں جسے ”یاکوزا“ کہتے ہیں۔ یہاں پر چھوٹے موٹے جرائم اور انفرادی مجرم بہت کم ہوتے ہیں۔مجرم جرائم پیشہ لوگ گروہ کی شکل میں منظم جرائم میں ملوث ہوتے ہیں۔ بڑے مجرموں کی گاڑیوں کا نمبرعام طور پر4444ہوتا ہے۔اس نمبرکا مقصد موت کی توہین کرنا ہوتا ہے۔یہ اعلان کہ میں موت سے نہیں ڈرتا،بلکہ خود موت بانٹتاہوں۔یہ انڈرورلڈ اتنا دلچسپ موضوع ہے کہ ایک الگ مضمون کا متقاضی ہے مگر اس پرپھرکسی وقت تفصیل سے بات کریں گے۔عرض کرنے کا مقصد ہے کہ

اگر آپ کو کمرہ نمبر4نہ ملے یا پھرچوتھی منزل ہی غائب ہو جائے تو آپ نے گھبرانا نہیں۔ذاتی طورپراس دقیانوسی تصورسے پالامجھے اس وقت پڑاجب میں نے یہاں مکان تبدیل کیا۔کثیرالمنزلہ عمارت زیادہ محفوظ خیال کی جاتی ہے اور اکیلے آدمی کے لئے زیادہ موزوں بھی رہتی ہے۔ تیسرے فلورپرفلیٹ تھااور اس سے اوپر پانچویں منزل۔گاڑی کھڑی کرنے کے لئے پارکنگ کی ضرورت تھی۔پراپرٹی ڈیلر سے اس کے متعلق بات کی تو اس نے کہا کہ کوئی بھی پارکنگ خالی نہیں ہے۔ دوسرے ڈیلر سے پتاکیا تھا،اس نے بھی یہی جواب دہرایا مگر امیدکی اس کرن کو جگاگیا،کہ ہاں!مگرتھوڑاسا مسئلہ ہے، ایک پارکنگ موجود تو ہے مگرنمبرچار ہے۔ اگلے دس برس چار نمبرپارکنگ پرہی میں نے گاڑی کھڑی کی اور اللہ کے فضل و کرم سے اب بھی خیریت سے ہوں۔ صرف جاپان میں ہی نہیں چین میں بھی چار کا ہندسہ موت کی علامت اور منحوس خیال کیا جاتا ہے۔سی پیک سے متعلق لوگ اور چین کے ساتھ کاروبارکرنے والے یقیناجانتے ہوں گے۔چین میں بھی توہم پرستی بہت زیادہ ہے۔ٹی جنکشن پرکبھی دوکان نہیں بنائیں گے اور نہ ہی کوئی دیگر کاروبار کھولیں گے۔واقفان حال بتاتے ہیں کہ کسی چینی کو آپ ایسی جگہ دیں جہاں سڑکیں ٹی بناتی ہوں تووہ مفت میں بھی نہیں لیتا ہے کہ اس کی نحوست دیر تک پیچھا کرتی ہے۔میں تو اسے ضعیف الاعتقادی ہی کہوں گاچونکہ میاں چنوں کا ٹی چوک توشہر کا سب سے مصروف کاروباری مرکز ہے اور وہاں سب دوستوں کی دوکانیں خوب چلتی ہیں۔خلیفہ پان شاپ پہلے یہاں ایک تھی،اب اس کی دوبرانچیں

کھل گئی ہیں۔خیرچینیوں سے کیا شکوہ۔ پورا یورپ ہی 13(یعنی4)کے ہندسے کو منحوس سمجھتاہے۔ہندو مذہب میں ٹوٹا ہوا آئینہ اور شیشہ براشگون خیال کیا جاتاہے اور اسے گھرمیں رکھنامنحوس سمجھتے ہیں جبکہ گھڑی کی سوئیاں اگر ٹھہرجائیں تویہ بھی ابھشگن خیال کرتے ہیں۔ ہندوستانیوں کا تو خیر ذکر ہی کیاکہ آپ سب لوگ خوب جانتے ہیں،روسیوں کی سنئے،روسی بہت کم مذہبی ہوتے ہیں۔کمیونزم کے خاتمے اور سوویت یونین کے انہدام کے باوجود مذہب کی طرف واپسی کا رجحان وہاں فروغ نہیں پا سکا۔میری سکول کے زمانے سے زبان سے سیٹی بجانے کی عادت ہے۔روسیوں کے ساتھ کاروباری مراسم ہیں۔مجھے حیرت ہوتی ہے جب بھی کوئی کوئی روسی مجھے دفترمیں بالخصوص سیٹی بجاتے دیکھتا ہے تو ضرورمنع کرتا ہے۔کہتے ہیں ”پیسے نہیں آئیں گے“ مزید کہ سب مال چلا جائے گا،سیٹی مت بجاؤ ورنہ کاروبار تباہ ہو جائے گا۔توہم پرستی کا ایک پہلو جاپان اور پاکستان میں مشترک ہے اور وہ کالی بلی کے متعلق ہے۔کالی بلی اگررستہ کاٹ جائے تواسے نحوست کی علامت خیال کیا جاتاہے۔ماضی میں سناہے کالی بلی اگر آگے سے گزر جاتی تولوگ سفر کا ارادہ ترک کردیاکرتے تھے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ جاپان کی سب سے بڑی نجی کورئیرکمپنی کانام ہی کالی بلی ہے، اوراسکا مونوگرام بھی کالی بلی کے منہ میں اس کا کالا بچہ ہے۔یعنی ڈاک ترسیل کی اس کمپنی کا طرہئ امتیاز یہ ہے کہ یہ تو سب کا راستہ کاٹ جاتی ہے مگراس کا راستہ کوئی بھی نہیں کاٹ سکتا،جو بھی اس کا راستہ کاٹے گااپنے نقصان کاخود ذمہ دار ہوگا۔نحوست کے یہ تصورات صرف سماجی اورزبانی،کلامی حد تک ہی نہیں ہیں۔اگر آپ کی گاڑی میں بلی بھی جان سے گئی ہے تو سمجھیں اس کی قیمت آدھی رہ گئی ہے، گاڑی بیچتے وقت یہ بتانا ضروری ہے کہ اس میں کسی جانور کی موت ہوئی ہے،ایسی گاڑی یاگھر کو جس میں کسی نے خود کشی کرلی ہو”ساگی“کہتے ہیں،قانونی طور پرفروخت کے وقت یہ معلومات چھپانا جرم ہے۔ایسے گھروں اور گاڑیوں کو لوگ خودہی اونے، پونے، سستے داموں بیچ کر نحوست سے پیچھا چھڑانے کی کوشش کرتے ہیں۔

Comments are closed.