چند روز قبل ایک افطار پارٹی میں 4 ریٹائرڈ آئی جی صاحبان نے زبردست تجویز پیش کردی

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار اور سابق اعلیٰ پولیس افسر ذوالفقار احمد چیمہ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں۔۔۔۔۔۔ چند روز پہلے چار ریٹائرڈ آئی جی صاحبان افطاری پر اکٹھے ہوئے تو حالیہ واقعات پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک نے کہا ،’’ہم نے سیکڑوں بار یورپ میں ہونے والے بدامنی واقعات پر مبنی

ہنگاموں اور بلوؤں کی وڈیوز دیکھی ہیں، کبھی یہ دیکھنے میں نہیں آیا کہ کسی موقعہ پر سیکڑوں کی تعداد میں پولیس اہلکار زخمی ہوجائیں یایرغمال بنالیے جائیں‘‘۔دوسرے آئی جی صاحب نے کہا،’’ وہاں بعض اوقات پولیس پیچھے ضرور ہٹتی ہے (مگر ایک منظم طریقے سے) یعنیretreat تو ہوتی ہے مگر یہ کبھی نہیں دیکھا کہ پولیس آگے آگے بھاگ رہی ہو اور بلوائی اس کا پیچھا کررہے ہوں۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ لاہور کے واقعہ کے بعد پنجاب کی پولیس لیڈر شپ سر جوڑ کر بیٹھتی، اندرونی خامیوں کی نشاندہی کی جاتی، ہر ضلعے میں سرپسند ہجوم کو کنٹرول کرنے کی ٹریننگ شروع ہوجاتی۔ Mob Controlکے لیے ضروری equipment منگوایا جاتااور آیندہ بھرتی کے لیے جسمانی فٹنس کا معیار بلند کرنے کا فیصلہ ہوتا، مگر وہاں ترجیحِ اوّل ایک ہی ہے کہ حکمران جماعت کے سیاسی مقاصد پورے کیے جائیں تاکہ عہدہ قائم رہے۔کچھ پولیس افسروں کا یہ بھی خیال ہے کہ یورپ میں بلوائیوں کے سامنے پولیس اس لیے ڈٹ کر کھڑی ہوتی ہے کہ اسے نہ صرف حکومت کی پوری طاقت بلکہ عدلیہ کا بھی مکمل تعاون حاصل ہوتا ہے۔ مگر ہمارے ہاں پولیس اس لیے پاؤں نہیں لگاتی کہ اگر ہجوم کو کنٹرول کرنے میں معمولی سی بھی بے احتیاطی ہوگئی یا فورس زیادہ استعمال ہوگئی تو حکم دینے والے حکمران منہ موڑ لیں گے بلکہ پولیس کے جوانوں کا خون بھی بیچ دیں گے اور پولیس افسروں کو اپنی جائیدادیں بیچ کر مقدمے بھگتنے پڑیں گے۔مشتعل لوگوں کے ہاتھوں بیسیوں پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے پر جو سروے ہوئے ہیں

وہ بھی تشویشناک اور پریشان کن ہیں ۔ کچھ لوگوں نے مذمت بھی کی ہے مگر کچھ نے یہ بھی لکھاہے کہ پولیس والے بھی عوام کی اسی طرح تذلیل کرتے ہیں ! پولیس لیڈر شپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ سب سے بڑا مسئلہ پولیس کی ساکھ اور اعتماد کا ہے، مشکوک ساکھ کی وجہ سے وہ عوام کے اعتماد سے محروم ہے۔صدافسوس کہ اتنی تذلیل کے بعد بھی پولیس نے اپنا طرزِعمل نہیں بدلا۔ گرفتار شدگان پر تھانوں میں ظلم کرنا اور ان سے پنجاب پولیس زندہ باد کے نعرے لگوانا غیر قانونی حرکت ہے جو ایک پروفیشنل اور ڈسپلنڈ ادارے کے شایانِ شان نہیں ہے۔ آج ایک وڈیو ملی جس میں پولیس اہلکار غریبوں کی ریڑھیاں اُلٹ رہے ہیں۔پولیس کے سینئر افسران انھیں ایسی حرکتیں کرنے سے منع کریں۔ ریڑھیاں اُلٹانے یا ماسک نہ پہننے والوں کوتھپڑ رسید کرنے سے عوام مزید متنفّر ہوں گے۔ ایسے کام ڈی سی یا میونسپل کمیٹی کا عملہ کرتا پھرے ، پولیس کے جوان صرف اُن سول افسران کو دیے جائیں جو قانونی طور پر اس کے حقدار ہیں، تحصیل لیول کے سول افسروں کو کس قانون کے تحت باوردی محافظ مہیّا کیے گئے ہیں؟ باوردی پولیس افسروں کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ کسی سول افسر پر چھتری کا سایہ کرکے کھڑارہے یا کسی کی جیپ یا کار کا دروازہ کھولے۔ بدقسمتی سے غلامانہ ذہنیت کے افسروں نے پوری فورس کوغلام بنادیا ہے۔پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ ضلع اور ڈویژنل افسران نے عوام کو امن اور انصاف دینے اور تھانوں میں بہتری لانے کا اصل کام چھوڑ کر سوشل میڈیا پر پوسٹیں لگانے کا کام شروع کررکھا ہے، اگر ایک ڈی پی او نے اپنے دفتر کے عملے میں انعامات تقسیم کیے ہیں

تو اس نے کونسا کارنامہ سرانجام دے دیا ہے کہ وہ پورے ملک سے داد کا طلبگار ہے، ایک اور پولیس افسر ماتحتوں کے ساتھ افطاری کرکے PROسے لکھوا رہا ہے کہ ’’ایس پی صاحب کتنے ماتحت پرور ہیں‘‘۔ماتحت پرور اُسے کہا جاتا ہے جو ماتحتوں کو کھلی چھٹی دے دے اور ان کا احتساب نہ کرے۔ او بھائی تمھاری پہچان ماتحت پروری نہیں، انصاف پروری کے حوالے سے ہونی چاہیے، تمہارے ماتحت افسر مخلوقِ خدا کے ساتھ ظلم کرتے ہیں، ان میں راشی اور بداخلاق بھی ہوں گے اور آپ ان کے نگران ہو، آپ نے عوام کو ان کی ناانصافیوں سے بچانا ہے ۔پولیس افسرکام اپنے ماتحتوں کے ساتھ دوستی لگانا نہیں ان کی نگرانی موثربنانا ہے۔ تاکہ ماتحتوں کے دل میں افسر کا ڈر اور خوف رہنا چاہیے۔ ہاں اگر کوئی وزیر یا وزیرِاعلیٰ بھی پولیس افسرکے کسی ماتحت کے ساتھ ناانصافی کرے تو پھر پولیس افسر کا فرض ہے کہ اپنے ماتحت کے ساتھ کھڑا ہوجائے ۔ زیادہ تر افسرجائز کام کرنے پر تو اپنے ماتحتوں کا تخفّظ نہیں کرتے مگر ان کے ساتھ تصویریں بنواتے رہتے ہیں۔اوّل توآجکل رزقِ حلال کھانے والے افسر ( ہر سروس میں یہی حال ہے) ڈھونڈنے پڑتے ہیں، اگر کوئی مل جائے تو وہ بیچارہ اتنا مسکین ہوتا ہے کہ گھاگ قسم کے ڈی ایس پی اور تھانیدار اسے بیوقوف بناتے اور انگلیوں پر نچاتے ہیں۔ ٹرانسفر ہونے پر ڈی پی اوز کی ایسی وڈیوز بھی دیکھی ہیں جن میں تبدیل شدہ ڈی پی او کو پگ پہنا کر گھوڑے پر بٹھادیا گیا ہے اور ساتھ گانا چل رہا ہے ’ ویر میرا گھوڑی چڑھیا‘۔حال ہی میں منڈی بہاؤالدین سے ایک ایماندار اور منصف مزاج ڈی پی او کو حکومت کی اتحادی جماعت نے ٹرانسفر کرادیا،یہ سلسلہ پنجاب میں باقاعدگی سے چل رہا ہے، یقیناً ایسی ٹرانسفر پوسٹنگز وزیرِاعظم صاحب کے علم میں بھی لائی جاتی ہوں گی مگر پولیس کے سینئر افسر اس پرکوئی اسٹینڈ نہیں لیتے۔ بہرحال تبدیل ہونے والا افسر دیانتدار تو ہے۔البتہ اس کی الوداعی تقریب میں اسے ہار پہنا کر بٹھا دیا گیا ہے اور تھانیداروں اور دوسرے ماتحتوں کی موجودگی میں ایک اہلکار گانا گا رہا ہے، ’’آج جانے کی ضد نہ کرو۔ ٹرانسفر کی تقریبات کا ایک SOP ہونا چاہیے۔ میں ٹرانسفر ہونے پر پولیس لائنز میں فورس سے ملنے ضرور جاتا تھا ، مگرنہ کسی کو ہار پہنانے کی اجازت تھی اور نہ کبھی ماتحتوں کی طرف سے کھانے کھاتا تھا۔ پولیس کے نیچے سے لے کر اوپر تک تمام افسروں کو چاہیے کہ وہ اپنے بہتر عمل سے اپنی ساکھ بہتر بنائیں تاکہ عوام کا ان پر اعتماد قائم ہو اور ان کی یونیفارم تحفظ اور عزت کی علامت بن سکے۔

Comments are closed.