چند روز قبل وائرل ہونے والی تصویر کے حوالے سے چند حیران کن حقائق

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار نسیم شاہد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔جنوبی پنجاب کے سرداروں کو ابھی تک یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ اس خطے میں عوام کی سوچ کا زاویہ بالکل بدل چکا ہے،وہ آج بھی اُس سیاسی ڈگر پر چل رہے ہیں،جو تخت ِ لاہور کے ذریعے اقتدار تک پہنچاتی ہے۔

اس وقت ایک تصویر کو لے کر سردار اویس لغاری پر جو تنقید ہو رہی ہے وہ بھی اسی سوچ کا مظہر ہے۔اس سے پہلے یہی اویس لغاری مسلم لیگ(ن) کے رہنما حمزہ شہباز کی گاڑی کے پائیدان پر کھڑے ہو کر یہ پیغام دے چکے ہیں وہ اقتدار میں آنے کے لئے کچھ بھی کر سکتے ہیں،اب انہوں نے شہباز شریف کے قدموں میں بیٹھ کے جو تصویر بنوائی ہے،اُس نے گویا یہاں کے سرائیکی قوم پرستوں کو سرداری نظام اور تختِ لاہور کے خلاف دِل کا غبار نکالنے کا موقع فراہم کر دیا ہے۔ اُن کا یہ کہنا ہے جنوبی پنجاب کے سردار اور وڈیرے آج بھی ذہنی غلام ہیں،اور وہ نہیں چاہتے یہاں علیحدہ صوبہ بنے اور عوام کو اُن کے بنیادی حقوق ملیں۔قصہ اس اجمال کا کچھ یوں ہے کہ چند روز پہلے ڈیرہ غازی خان میں پی ڈی ایم نے جلسہ کیا۔ اس جلسے کے اہتمام و انصرام میں دونوں لغاری برادران یعنی اویس لغاری اور جمال لغاری پیش پیش تھے۔اس جلسے میں مولانا فضل الرحمن اور شہباز شریف نے بھی شرکت کی۔ پی ڈی ایم اس جلسے کو کامیاب قرار دے رہی ہے،جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار،جن کا اپنا تعلق بھی ڈیرہ غازی خان سے ہے،اسے جلسی قرار دے کر ناکام شو کہہ چکے ہیں۔خود شہباز شریف بھی اس جلسے سے خطاب کے دوران بار بار یہ کہتے رہے کہ آج اس جلسے میں تا حد ِ نگاہ عوام کا جم ِ غفیر موجود ہے اور یہ نیازی حکومت کے خلاف ریفرنڈم ہے۔ تاہم جس بات نے اس جلسے کو تنقید کا نشانہ بنوایا،وہ اس میں

علیحدہ صوبے کی بات نہ کرنا تھا۔شہباز شریف اگرچہ ڈیرہ غازیخان کے لئے اپنی خدمات گنواتے رہے،انہوں نے سیلاب کی تباہ کاری کے بعد اپنی مسلسل توجہ کا ذکر بھی کیا،جو انہوں نے اس علاقے پر دی، اس کے علاوہ انہوں نے متعدد ایسے منصوبے بھی گنوائے،جو مسلم لیگ(ن) کے دور میں شروع ہوئے۔پھر یہ بھی کہا کہ آئندہ مسلم لیگ (ن) اقتدار میں آئے گی تو اور زیادہ فنڈز اور منصوبے اس محروم خطے کو دیئے جائیں گے۔انہوں نے کہا ہمارے بعد اس حکومت نے ڈیرہ غازی خان کو کوئی منصوبہ دیا ہو تو بتائے،حالانکہ عثمان بزدار کی حکومت نے ڈیرہ غازی خان کو اربوں روپے کے منصوبے دیئے ہیں،جن میں کارڈیالوجی ہسپتال کا منصوبہ شامل ہے،جس وقت شہباز شریف سٹیج پر خطاب کر رہے تھے، فاروق احمد خان لغاری مرحوم کے دونوں فرزند اویس لغاری اور جمال لغاری اُن کے پیچھے کھڑے تھے اور اُن کی تقریر کے دوران نعرے لگوا رہے تھے۔اُس وقت اگر وہ اُن کے کان میں کہہ دیتے حضور چند جملے علیحدہ صوبے کے لئے بھی کہہ دیں، ہماری عزت بچ جائے گی،مگر وہ یہ جرأت نہ کر سکے۔شہباز شریف جب مولانا فضل الرحمن کے ہمراہ سٹیج پربیٹھے تھے، تو اویس لغاری اُن سے ملنے آئے۔اُن کے ساتھ والی کرسی چونکہ خالی نہیں تھی، انہوں نے کھڑے کھڑے بات کرنے کی بجائے شہباز شریف کے پیروں میں بیٹھ کر بات کرنا مناسب سمجھا۔یہ وہ لمحہ تھا جسے فوٹو گرافروں نے کیمرے کی آنکھ سے محفوظ کر لیا۔اس تصویر کا سوشل میڈیا کے ذریعے منظر عام پر آنا تھا کہ لغاری سرداروں اور خطے کے دیگر

وڈیروں کے خلاف تنقید کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو گیا۔کہا گیا جنوبی پنجاب کو محرومی کا شکار رکھنے والے یہ سردار اور وڈیرے آج بھی تخت ِ لاہور کے ذہنی غلام ہیں۔انہیں اِس بات سے کوئی غرض نہیں کہ جنوبی پنجاب میں علیحدہ صوبے کی تحریک چل رہی ہے۔وہ اپنی قیادت کو اس تحریک کی طرف لانے کی بجائے اُس کے چرنوں میں بیٹھ کر یہ پیغام دیتے ہیں،اس سرائیکی خطے کے لوگ چاہے کچھ بھی سوچیں، ہم آپ کے خادم ہیں، آپ کے ہر حکم کی تعمیل کرنا ہمارا فرض اولین ہے۔مَیں نے سوشل میڈیا پر اویس لغاری کی اس تصویر کے حوالے سے ایک سرگرم مخالف کی پوسٹ پر لکھا ”ممکن ہے اویس لغاری تعظیماً شہباز شریف کے قدموں پر بیٹھ گئے ہوں،آخر وہ اُن کے لیڈر بھی ہیں اور بزرگ بھی۔اس پر انہوں نے جواب دیا کبھی آپ نے جنوبی پنجاب کے سرداروں کی عوام سے نفرت کا نظارہ دیکھا ہے اُن کے ڈیروں پر لوگ جا نہیں سکتے اور یہ لوگ گاڑی سے نیچے اُتر کر عام آدمی سے اس طرح بچتے ہیں جیسے وہ کوئی اچھوت ہو۔ ایک طرف ان کی اپنے عوام کے ساتھ یہ نفرت اور اُن پر اندازِ حکمرانی اور دوسری طرف یہ لوگ صرف اقتدار میں آنے کے لئے کبھی گاڑی کے پائیدان پر سوار ہو جاتے ہیں اور کبھی لیڈر کے سامنے دوزانو بیٹھ جاتے ہیں۔کیا یہ لوگ جنوبی پنجاب کے عوام کو اُن کے حقوق دِلا سکتے ہیں،اُن کی محرومیاں بیان کر سکتے ہیں۔ان کا مقصد تو یہ ہے جس طرح انہوں نے انگریزوں کی غلامی کر کے جاگیریں اور سرداریاں حاصل کی تھیں،اُسی طرح یہ لاہور کی سیاسی اشرافیہ کے غلام بن کر یہاں کے عوام پر مسلط رہنا چاہتے ہیں،مگر اب لوگ انہیں پہچان چکے ہیں،اُن کے جھانسے میں نہیں آئیں گے۔

Comments are closed.