چند سالوں میں پاکستان کے 52 پھیرے لگانے والی سنتیھا رچی اپنے ملک میں کس چکر میں رنگے ہاتھوں پکڑی گئی تھی ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار ارشاد بھٹی اپنے تازہ ترین کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ابھی کل ہی ایک صاحب جعلی جعلی دکھی ہو کر بولے، میں رحمٰن ملک کو ایسا نہیں سمجھتا تھا، پوچھا، کیسا نہیں سمجھتے تھے، کہنے لگے، جیسا وہ کر چکے، میں نے کہا، آپ نے کیسے یقین کر لیا وہ ایسا کر چکے،

مایوس ہو کر بولے، اچھا، بات بدل دی، دو دن پہلے ایک ریٹائر بیورو کریٹ ملے، کہنے لگے۔گیلانی، مخدوم، ملک ان صاحبان میں سب کچھ کرنے کا ٹیلنٹ تو ہے، یہ کہہ کر دائیں آنکھ دباتے ہوئے شرارتی لہجے میں آہستگی سے بولے، یہ تو ایک سنتھیارچی، ہم تو بہت کچھ اور بھی جانتے ہیں، میں نے کہا، ہمیں بھی عنایت کیجیئے، ایکدم چونکے، کہا، اب اس عمر میں بھلا بندہ کیا کسی کے پول کھولے، بہت سارے ایسے بھی جو بظاہر تو مذمتیں کر رہے مگر ان کی باتوں، لہجوں سے صاف دکھائی دے رہا کہ انہیں اصل دکھ اس بات کا، اس سارے فسانے میں وہ کہیں نہیں۔کیا انٹری سنتھیارچی کی، دیکھتے ہی دیکھتے اقبال کے شاہین سنتھیا چٹخاروں میں یوں رنگے گئے، وہ وہ باتیں، افواہیں، مفروضے، کچھ نہ پوچھیں۔ایک خاتون، خوش شکل خاتون، انگریز خاتون، امریکی خاتون، اوپر سے ہمارا رال پٹکاؤ معاشرہ، لہٰذا الزامات جھوٹے بھی ہوں، دل و دماغ کے کسی کونے کھدرے میں یہ شک ضرور رہے کہ عین ممکن یہ سچ ہو، جو کچھ موصوفہ بتا چکی، اس کی تحقیقات ضروری، الزامات جھوٹے تو اسے سزا، سچے تو ’کریکٹر ڈھیلے‘ والوں کو سزائیں۔یہاں یہ سوچ رہا بھلی مانس خاتون 9سال کیوں خاموش رہی، رحمٰن ملک نے 2011ء میں مبینہ نشانہ بنایا ا، گیلانی، مخدوم نے 7آٹھ سال پہلے دست درازیاں کیں، اتنی لمبی چپ، مانا یہ سچ کہ ہم بحیثیت قوم کچھ زیادہ ہی دل پھینک، اور ہمارے بڑے تو ہم سے بھی آگے، جنرل یحییٰ، بھٹو صاحب، کھر صاحب، زرداری صاحب، شہباز شریف کہانیاں اور باقی بھی، سی گریڈ والوں کی داستانیں چھوڑیں۔

اس پر تو کتابیں لکھی جا چکیں، اپنے ضیاء الحق کے امریکی ٹی وی میزبان، کاروباری خاتون کنگ ہیرنگ سے تعلقات رہے، اسے ہیوسٹن کے قونصل خانے میں اعزازی قونصل رکھا، قائداعظم میڈل بھی دیا، اس کا ٹیلی فون سننے کیلئے ضیاء صاحب عین کابینہ اجلاس کے درمیان سے اُٹھ جایا کرتے، اسی خاتون نے ضیاء صاحب کی امریکی سیاستدان چارلی ولسن سے دوستی کروائی۔پاکستان کے چوتھے گورنر جنرل، پہلے صدر اسکندر مرزا اور ان کی دوسری ایرانی بیوی ناہید مرزا کی لو میرج کہانی، اسکندر مرزا سے پہلے ایرانی ملٹری اتاشی کی بیوی ناہید مرزا، نصرت بھٹو کی سہیلی، کزن، یہی ناہید مرزا جنہوں نے بھٹو صاحب کو اسکندر مرزا، ایوب خان سے متعارف کرایا، اپنے ایک سابق وزیراعظم کا بھارتی گلوکارہ، دوسرے سابق وزیراعظم کا پاکستانی گلوکارہ سے تعلق سب کو معلوم، عمران خان کی تو ساری عمر مغرب میں گزری، کرسٹینا لیمب، سیتا وائٹ، سٹیفی گراف، زینت امان اور نجانے کون کون، انہیں مغربی پریس نے ’پلے بوائے‘ تک کہا، ایک مرتبہ ایک صدا بہار پارٹی باز سے ملاقات ہوئی۔مشروبِ مغرب کے زیر اثر تھا، کہنے لگا، چند کو چھوڑ کر کون بڑا جس کی گرل فرینڈ نہ ہو، دوسری، تیسری بیوی نہ ہو، خفیہ گھر، چھپا تعلق نہ ہو، اکثر تو اس وجہ سے عمر بھر بلیک میل ہوتے رہتے ہیں۔بات ہو رہی تھی سنتھیا کی، اداکار علی سلیم (بیگم نوازش فیم) تو یہ بتا کر کہ وہ اور سنتھیا ہفتہ بھر روم میٹ رہے، یہ بھی سنا چکا کہ سنتھیا رچی نے خود بتایا کہ عمران خان نے بھی اظہارِ پسندید گی کیا، علی سلیم کے جملوں کو یہاں دہرایا نہیں جا سکتا، بات یہیں نہیں رکی۔

سنتھیا رچی خود فرما چکی کہ پی پی سیاستدانوں کے بعد اگلی باری مسلم لیگیوں کی، مطلب ابھی پکچر شروع ہوئی ہے، لیکن اہم بات یہ، 2004ء میں مبینہ طور پر امریکہ میں کار چوری کے الزام میں پکڑے جانے والی سنتھیا رچی 10سالوں میں 52مرتبہ پاکستان آئی، سینکڑوں پارٹیاں، ٹھاٹ بھاٹ بھرا رہن سہن الگ، یہ پیسہ کہاں سے آیا۔وہ یہاں کس مشن پر، سیاسی ایلیٹ کی جڑوں تک رسائی کیسے، اچانک یادداشت واپس آنے کا مقصد، سنتھیا رچی کو پہلا ویزا جے یو آئی (ف) کے کوٹے پر پی پی حکومت کے وزیر سواتی صاحب کی بیٹی فرحانہ نے لیکر دیا، سنتھیا نے اعظم سواتی کی بیٹی کی این جی او میں کام کیا، دوسرا ویزا رحمان ملک نے لیکر دیا اور بقول سنتھیا اسی ویزے کے چکر میں لٹ گئیں۔یہاں اہم بات یہ بھی، خاتون جس باریک بینی سے ہر بات بتا رہی، اسے جھٹلانا آسان نہیں، جیسے گیلانی کہانی، کیسے وہ قریب آئے، ان کے ہاتھ سنتھیا کی طرف اٹھے، خاتون نے کیسے ان کے ہاتھ جھٹک دیے، جیسے وزارت صحت سے ملے گھر میں وزیر صحت مخدوم شہاب الدین کا آنا جانا۔دونوں کی دوستی ہو جانا، مذاق مذاق میں مخدوم صاحب کا ریڈ لائن کراس کرنا، خاتون کا ان سے دوری اختیار کر لینا، دوری اختیار کرتے ہی خاتون سے وزارت صحت کا گھر، سفری سہولتیں واپس لے لینا، جیسے رحمان ملک کا رات 8بجے اپنی بڑی گاڑی بھجوا کر ویزے کے بہانے اسے اپنے گھر بلانا، خاتون کا پہنچنا۔ملک صاحب کا پھولوں کا گلاستہ، قیمتی موبائل گفٹ دینا (یاد آیا، نواز شریف نے بھی امریکی صحافی ’کم بارکر‘ کو دوستی کی دعوت دے کر تحفتاً موبائل فون ہی دینا چاہا، جو خاتون نے نہ لیا)، ہاں تو سنتھیا بتائے، محدود انگریزی والے رحمان ملک کا مشروب پلانا، مشروب پیتے ہی اس کا بے ہوش ہو جانا، ملک صاحب کا اپنا مقصد پورا کرنا ۔ یہ سنتھیا کہانی، ایک کہانی گیلانی، ملک، مخدوم صاحبان سنا رہے، لیکن ایک کہانی بلکہ کئی کہانیاں اسلام آباد کے باخبرحلقوں، پارٹی بازوں میں گردش کر رہیں، گوکہ ابھی ثبوتوں سے معاملہ دور، مگر جیسے دل یہ ماننے کو تیار نہیں کہ ایک پاکستانی وزیر بے چارہ بااثر امریکی خاتون سے زبردستی، زیادتی کی جرأت کرے۔ناممکن، ویسے ہی دل یہ بھی نہ مانے کہ گیلانی، ملک، مخدوم صاحبان کا سنتھیا رچی سے تعلق صرف سرکاری، لگے یہ، آگ دونوں طرف لگی ہوئی تھی، مگر ابھی کچھ حتمی نہیں، ہاں البتہ یہ بتا دوں، ہر وارداتوں کی کہانیاں بدل دی گئیں اور جو کچھ سامنے آ چکا، چھپا سچ اس سے بھی خطرناک اور اگر یہ سلسلہ یہاں نہ رکا تو بہت سارے اور بھی سفید پوش بے نقاب ہونے والے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.