زندگی شاندار طریقے سے گزارنے کا اصول سمجھا دینے والی تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) صدر کینیڈی کو سود خوروں نے 22 نومبر 1963ء کو زندگی سے محروم کرا دیا۔ خوبروجیکولین کو جوانی میں بیوگی کا صدمہ برداشت کرنا پڑا۔ 1968ء میں جان ایف کینیڈی کے بھائی رابرٹ کینیڈی کو بھی زندگی سے محروم کر دیا گیا تو جیکولین کو اپنی اور بچوں کی حفاظت کی فکر لاحق ہوئی۔

نامور کالم نگار فضل حسین اعوان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ اس نے امریکہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور اُس دور کے دنیائے جہازرانی کی صنعت کے ٹائیکون بادشاہ یونان سے قریبی تعلق رکھنے والے ارسطو اوناسس سے شادی کر لی۔ اوناسس کی عمر اُس وقت 68 سال تھی۔ اس نے شادی پر جیکولین کو تین ملین ڈالر اور اس کے دونوں بچوں کو ایک ایک ملین گفٹ کئے تھے۔ ارسطو اوناسس جس کی دولت کا خود اسے اندازہ نہیں تھا۔ آخری عمر میں اس کی آنکھوں پر اوپر سے ماس ڈھلک آیا تھا۔ کچھ بھی دیکھنے کے لئے اسے آنکھیں ہاتھ سے کھولنا پڑتی تھیں۔ اس سے کسی نے سوال کیا کہ اس قدر دولت رکھنے کے باوجود کوئی ایسی خواہش جو بدستور دل کے نہاں خانے میں موجود ہے؟ اس پر اوناسس کی آواز بھرائی اور آنکھوں کے اوپر چڑھے گوشت کے دبیز پردوں کے کسی کونے سے آنسوئوں کی ڈھلتی ہوئی پتلی سی لکیر نمودار ہو کر رخسار پر آ گئی۔ اس نے کہا ’’میری خواہش ہے، میں آنکھیں جھپک سکوں‘‘۔ سوال کرنے والے نے پھر پوچھا ’’اس کے عِوّض آپ کیا دے سکتے ہیں‘‘ اوناسس نے حسرت بھرے لہجے میں کہا ’’آدھی دولت بلکہ اس سے بھی زیادہ‘‘۔ انسان ہیرے جواہرات سے مرصع کروڑوں کا بیڈ خرید سکتا ہے تختِ طائوس بنوا سکتا ہے۔ اطلس حریر کے بستر لگوا سکتا ہے لیکن نیند نہیں خرید سکتا۔ بڑا دولت مند ہو گا تو مہنگی ترین ادویات تک دسترس پا لے گا، دنیا کے بہترین ڈاکٹروں تک رسائی حاصل کر لے گا۔

بڑے سے بڑا ہسپتال خریدنے کی استطاعت بھی ہو سکتی لیکن صحت قیمتاً نہیں مل سکتی۔اور عزت اس سے سِوا ہے۔ فرعون نے جنت بنا لی،کسی نے چک شہزاد میں قلعہ تعمیر کرا لیا۔ کسی کو بنی گالہ لبھا گیا۔ کسی نے سرے محل اور فرانس میں وائٹ کوئین وِلا بنوا لیا۔متحدہ امارات کے پام سٹی میں بنگلے خرید لئے اور بھی بہت ۔۔۔بہت کچھ !لیکن یہ خدا کی مرضی کہ ان میں ایک دن بھی بسر کرنا نصیب نہ ہویا گھر ہی سے دربدر ہونا پڑے۔ جائیدادیں بے شمار، دولت کے انبار اندرونِ و بیرونِ ملک اکائونٹس کی بھرمار مگر کیا گارنٹی کہ ایک روپیہ بھی استعمال کرنا مقدر میں ہو۔ آج دنیا کا سب سے زیادہ قابلِ احترام شخص وہی ہے جو دنیا کا امیر ترین بھی ہے۔ اس کی زندگی میں کوئی اضطراب ہے نہ بے سکونی۔ یہ بل گیٹس ہے۔ اس کے اثاثوں کی مالیت 80 ارب ڈالر سے زائد ہے۔ اس نے محلات، قلعے، بنگلے اور پلازے کھڑے نہیں کئے۔ وہ فلاحی رفاعی اور سماجی کاموں کے لئے 29 ارب ڈالر کے عطیات دے چکا ہے۔ اس نے اپنی وصیت میں اولاد کے لئے صرف اتنا حصہ مقرر کیا ہے جس سے آسانی سے زندگی بسر کی جا سکے۔ہمارے لئے اس سے بھی بڑی مثالیں موجود ہیں۔حضرت ابو بکر صدیقؓ نے گھر کا سارا اسباب آقائے نامدار ؐکے قدموں میں ڈھیر کردیا تھا۔استفسار پر عرض کیا گھر میں اللہ اور رسول ؐ کا نام چھوڑ آیا ہوں۔ہم قناعت و توکّل کے اس درجے سے تو شاید دور ہیں مگر قائد اعظم کی شخصیت و کردار بھی مشعل راہ ہے۔

انہوں تھوڑی جائیداد اپنے عزیزوں کے گزر اوقات کیلئے چھوڑ کرباقی تمام قوم وطن کے نام کردی تھی۔قائد کی جائیداد کم نہیں تھی۔آج کے سیاسی خانوادوں اورسیاسی امیر زادوں کے مقابلے میں زیادہ اور کہیں زیادہ تھی ۔ صحت اور دولت سے بھی بڑھ کر عزت ہے، عزت نفس ہے خودداری ہے۔کسی نے کہا تھا:”When wealth or health is lost something is lost when character is lost everything is lost”میاں نواز شریف کو توشہ خانہ کیس میں احتساب عدالت نے پیش نہ ہونے پر اشتہاری قرار دیدیا۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی طلب کیا مگر خرابی ٔ صحت کا عذر پیش کیا جارہا ہے۔مشرف بھی یہی کہتے ہیں،ان کی جائیداد کی ضبطی کا حکم جاری ہوچکا ہے۔میاں نواز شریف نے سات ارب بیس کروڑ کا بانڈ جمع نہیں کرایا مگر اب ساری جائیداد داؤ پر لگ سکتی ہے، شاید یہ قید کی سختیوں کے مقابلے میں مہنگا سودا نہ ہو۔ہرکوئی زندگی کی سلامتی اور صحت وتندرستی کی بات کرتا ہے۔مگر ہماری سیاسی ایلیٹ مقدمات سے جاں خلاصی کیلئے بیماری کی دعا کرتی ہے۔لندن میں بغیر بیماری کے نہ ہسپتال داخل ہوا جاسکتا ہے نہ ٹیسٹوں کی من چاہی رپورٹیں بن سکتی ہیں۔اللہ نے تن درُستی دی ہے تو من درُستی بھی دے۔زرداری صاحب کُبڑے ہوکر چلتے ہیں،میاں نواز شریف لندن جائیں تو سفر آسان واپسی پر ناممکن ہے۔حساب چُکتا کر کے جاتے تو نہ کوئی طلب کرتا، نہ ان کے ساتھ گئے معالجین کو پاپڑ بیلنا پڑتے نہ ہی انکے پاکستان میں موجود چاہنے والے بے جواز قسم کے جواز تراشتے ۔صحت و تندرستی ایک نعمت ہے کہیں بیماری ایسی ہی نہ ہوجائے جس کا واویلا کیا جارہاہے۔ اوناسس کی طرح کا یا اُس سے بھی بُراکسی پر بھی وقت آ سکتا ہے۔ جب معمولی بیماری زندگی کا روگ بن جائے۔ جس کا ازالہ پوری دولت سے بھی ممکن نہ ہو سکے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.