چند لطیفے پڑھ کر آپ دیر تک مسکراتے رہیں گے

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار ارشاد بھٹی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ایک مرتبہ ملا نصر الدین گدھے پر الٹا بیٹھ کر جا رہے تھے، کسی نے پوچھا، ملا جی گدھے پر الٹا سوار، کیوں؟ ملا بولے، اس لئے الٹا بیٹھا ہوں تا کہ پیچھے کے حالات، خطرات پر نظر رکھ سکوں،

اس شخص نے کہا، سامنے کون نظر رکھے گا، ملا نے جواب دیا، وہ گدھے کی ذمہ داری ہے، وہ دیکھ رہا ہے۔ایک جوئے کے اڈے پر پولیس کا چھاپہ پڑا، ایک جواری پولیس کے پکڑنے سے پہلے ہی بھاگ کر پولیس کی وین میں جا کر بیٹھ گیا، یہ دیکھ کر ایک پولیس اہلکار نے کہا، لگدا اے تینوں بوہتی جلدی اے، (لگتا ہے تمہیں بہت جلدی ہے) جواری بولا، سر جی گل جلدی دی نئیں، میں پچھلی واری وی کھلو کے گیا سی، (سر بات جلدی کی نہیں، پچھلی مرتبہ بھی مجھے بیٹھنے کی جگہ نہیں ملی تھی، وین میں کھڑا ہو کر گیا تھا)۔دوستو! یہ دونوں محض لطیفے، ان کا حکومت یا اپوزیشن سے کوئی تعلق نہیں، یہ اس لئے بتا رہا ہوں کہ آج کل کوئی لطیفہ سنا دیں، یار لوگ ایک منٹ میں اسے حکومت یا اپوزیشن سے جوڑ دیتے ہیں، جیسے ابھی کل ہی ایک دوست کو جب یہ لطیفہ سنایا کہ ایک سردار ایک جوتے کی دکان پر جا کر بولا ’’بڑیاں گارنٹیاں دے رے سی، جُتی نے تے دو دن وی نئیں کڈے، (بڑی گارنٹی دے رہے تھے، جوتے نے تو دو دن بھی نہیں نکالے) دکاندار حیران ہوکر بولا، دو دن بھی نہیں نکالے، کیا ہوا؟سردار بولا، چُکی گئی اے، (چوری ہو گئی ہے)۔ یہ لطیفہ سن کر دوست بولا، واہ بھائی واہ، تبدیلی کی اس سے بہتر تعریف ہو ہی نہیں سکتی، اسے بہت سمجھایا، اس لطیفے کا تبدیلی یا تبدیلی سرکار سے کوئی تعلق نہیں، مگر دوست تھا کہ سر دھنے جا رہا تھا اور میری حسِ لطافت کی تعریف کیے جا رہا تھا۔

مجبوراً تھوڑی دیر بعد میں نے بھی تعریف انجوائے کرنا شروع کر دی لیکن جب اس نے دیکھا کہ میں نے بھی انجوائے کرنا شروع کر دیا ہے تو ظالم نے تعریف چھوڑ کر کوئی اور بات شروع کر دی۔ موضوع ہی بدل دیا۔لطیفوں سے یاد آیا، محکمہ ماحولیاتی تبدیلی کی وزیر زرتاج گل کے پھر چرچے، وہی زرتاج گل جنہوں نے ایک بار کہا تھا کہ اس بار پاکستان میں اتنی زیادہ جو بارشیں اور برفباری ہوئی، اس کا کریڈٹ عمران خان کو جاتا ہے، مطلب یہ کپتان کی برکتیں کہ بارشیں اور برفباری ہوئی۔یہ بھی زرتاج گل ہی جنہوں نے کپتان کی تعریف کرتے ہوئے کہا، ہمارے وزیراعظم کی کیا بات، عین بحران میں جس انداز سے وہ چل کر آتے ہیں، جو ان کی کِلر سمائل (مسکراہٹ) سے ہم اپنی پریشانیاں بھول جاتے ہیں۔ یہ بھی زرتاج گل ہی جنہوں نے فرمایا، کورونا نے اِن ڈائریکٹ میری وزارت کو بہت فائدہ پہنچایا۔یہ بھی زرتاج گل ہی جنہوں نے کہا، ماسک ضرور پہننا چاہیے مگر ان لوگوں کو جن کو کورونا وائرس لگ چکا ہو، یہ بھی زرتاج گل جنہوں نے قوم کو آگاہ کیا کہ ڈینگی کی طرح اب کورونا وائرس ہر سال آیا کرے گا، اس بار زرتاج گل کی کورونا تعریف کے چرچے، کورونا کی ایسی تعریف کی کہ خود کورونا بھی شرما گیا بلکہ ابھی تک شرمایا شرمایا پھر رہا، ابھی پچھلی اتوار کو شیخو سے ملنے گیا، آدھا کلو یخنی پی کر، ماسک ٹھوڑی پر ٹکائے سگار پیتے شیخو کو باتوں باتوں میں جب یہ لطیفہ سنایا کہ

جب چار پٹھان جنازہ اٹھائے تیزی تیزی میں قبروں کے اوپر چلنے لگے تو کسی نے کہا، بھائی کچھ خیال کرو، نیچے قبریں، مردے ہیں، ایک پٹھان بولا، ہم نے اوپر کون سا ورلڈ کپ اٹھایا ہوا ہے۔ یہ سن کر شیخو تلخ لہجے میں بولا، شرم کرو، کبھی تو کپتان کی بدتعریفی سے پرہیز کر لیا کرو۔میں نے کہا، محترم، اس لطیفے میں کپتان کہاں سے آگیا، شیخو بولا، مجھے بچہ سمجھتے ہو، ورلڈ کپ کس نے جیتا تھا، تم نے اس لطیفے میں یہ بتایا کہ جس نے ورلڈ کپ اٹھایا، اب وہ تبدیلی کا مردہ اٹھائے پھر رہا، میں نے کہا، میرے بھائی، لطیفے کو کہاں سے کہاں ملا دیا، اس ’دور اندیشی‘ پر مبارکباد قبول کریں، مگر یقین کرو، جو کچھ آپ فرما رہے، میرے وہم و گمان میں بھی نہیں، اس سے پہلے شیخو میری بات کا جواب دیتا، میں نے کہا، چھوڑیں یہ جلی کٹی باتیں، آپ چین سے ہو کر آئے کچھ وہاں کی سنائیں، میرا یہ کہنا تھا کہ شیخو کا ایک دم موڈ بدلا، چہرے پر رونق آئی، خوشگوار لہجے میں بولا، چین کی کیا بات، جو پھینٹی بھارت کو لگا چکا، دل خوش کر دیا، نریند رمودی کو سرنڈر مودی بنا دیا۔ابھی تو فوجی چائنہ کے تھے، اگر اصلی ہوتے تو بھارت کو لگ پتا جاتا، میں نے کہا، کیا مطلب، سمجھا نہیں، میری بات نظر انداز کرتے ہوئے شیخو نے کہا، مجھے تو چینی قیادت کا یہ وژن بہت پسند آیا کہ بھارتی فوجیوں کی سرحدی خلاف ورزیوں کی مذمت نہیں بلکہ ان کی مرمت کرنی ہے، شیخو کی یہ بات میرے دل کو بھی لگی کیونکہ لاتوں کے بھوت، باتوں سے نہیں مانتے۔(ش س م)

Comments are closed.