چند منٹوں میں 13 خواتین کو طلاق

لاہور (ویب ڈیسک) 19 سال پرانی بات ہے لودھراں سے میرے دوست ملک عطاء اللہ اعوان نے اطلاع دی کہ نواحی قصبے واہی ویگہ مل کی قریبی بستی میں امام مسجد نے بیک وقت 13 خواتین کو طلاق دلوا دی اور 29 بچوں کو بے آسرا کردیا۔ کئی سال قبل گلبرگ لاہور کے علاقے میں

ایک معروف کاروباری پلازے میں جھگڑا ہوا جو کہ کسی قادیانی کے کسی جملے کے بعد شروع ہوا ‘ نامور کالم نگار میاں غفار احمد اپنے کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔مارکیٹیں بند ہو گئیں اور تمام شرکاء نے لبرٹی چوک تک احتجاجی جلوس نکالا۔ اذان عصر سے تھوڑی دیر پہلے شروع ہونے والا یہ احتجاج نماز مغرب کے بعد تک جاری رہا اور اس دوران سینکڑوں افراد نعرے لگاتے رہے۔ ’’غلام ہیں غلام ہیں رسول کے غلام ہیں‘‘ میں بھی وہیں موجود تھا چند گنتی کے افراد ہی نے ان دونوں اذانوں کے جواب میں لبیک کہہ کر جلوس سے علیحدگی اختیارکی اور نماز ادا کی۔ یہ دونوں نمازیں اس عظیم ترین ہستی کے عاشقوں نے قضا کیں جن کا فرمان ہے کہ نماز مسجد میں جا کر باجماعت ادا کریں اور نماز کے حوالے سے سختی سے ہدایت متعدد بار کی اور پھر قرآن مجید میں بھی تو بارہا نماز کا حکم دیا گیا ہے۔ نبی پاکؐ کی غلامی تو صرف اور صرف عمل سے ہو سکتی ہے نعروں سے نہیں۔ نبی کریمؐ نے تو صلح حدیبیہ بھی کی تو زیادہ تر شرائط کفار کی مان لی تھیں اور وقت نے ثابت کیا کہ اسی میں حکمت تھی۔ سیالکوٹ واقعہ بھی دین سے دوری اور مکمل لاعلمی کا شاخسانہ ہے، ہم پاکستانی دنیا بھر کو کیاپیغام دے رہے ہیں اس طرح سے ہم کفارکے دعوئوں اور پراپیگنڈے کی غیر ارادی طور پر تصدیق کر رہے ہیں۔ حکومت کو چاہئے کہ سیالکوٹ سانحہ کے تمام ملزمان کو کیمرے کے سامنے لائے اور فرداً فرداً دین اسلام کے بارے بنیادی سوال پوچھے‘ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ کچھ بھی کہہ لیں مگر جنرل پرویز مشرف نے دینی مدارس کو پاکستان کے تعلیمی نیٹ ورک میں لا کر یکجا کرنے کی بہت کوشش کی تھی مگر اس کوشش میں رکاوٹ بھی دینی مدارس سے متعلقہ لوگ ہی بنے۔میں یہ سطور لکھ رہا تھا کہ سانحہ فیصل آباد ہو گیا۔ واقعہ میں گرفتار شدگان یقینی طور پر مسلمان گھرانوں سے ہوں گے کسی مسجد سے قرآن مجید بھی پڑھا ہو گا کسی ماں کی گود سے تربیت بھی ضرور لی ہو گی مگر جو پڑھا اور جس قسم کی تربیت لی وہ سب آشکار ہو گیا۔