چوتھے سال میں عمران حکومت کو ناکام اور بے بس ظاہر کیے جانے کے پیچھے کیا کہانی ہے ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور صحافی سید انور محمود اپنے ایک تبصرے میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔عقل مند دوسروں کی غلطیوں سے سیکھتے ہیں۔ کچھ اپنی ہی غلطیوں سے سبق حاصل کرتے ہیں، کچھ صرف دیکھ کر جبکہ کچھ نصیحت سے سیکھ جاتے ہیں اور کچھ دیکھ کر اور سن کر سیکھتے ہیں۔اور کچھ تو بالکل نہیں سیکھتے ۔

میں ٹی ٹونٹی ورلڈکپ کے سیمی فائنل ہارنے کا ذکر نہیں کر رہا۔ یہ شکست دل شکن تھی لیکن ہم نے ہمت نہیں ہاری۔ ہم بہترین کھیلے اور ہمارے حوصلے بلند تھے ۔ ہم نے اب بھی ہمت نہیں ہاری۔ ہماری ٹیم بلندیوں کی تلاش میں اگلے ساحلوں کی جانب بڑھ رہی ہے ۔میں ہوم گراؤنڈکی بات کر رہا ہوں،پاکستان میں گورننس کی جو تیزی سے پریشان کن ہوتی جا رہی ہے ، امیدیں تیزی سے دم توڑ رہی ہیں جبکہ بے یار و مددگار ہونے کا احساس بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے ۔ اور جب کوئی امید کھو دیتا ہے تو وہ راستے میں ہی گر جاتا ہے ۔ہم پھر بے سمت ہیں۔ تقریباً بغیر پتوار کے یا بغیر مقصد کے ۔ وزیراعظم عمران خان بھی اپنے تمام نیک ارادوں اور مالی دیانت کے باوجود بے سمت دکھائی دیتے ہیں۔2018کی تیسری سہ ماہی میں جو امید اور اعتماد پیدا ہوا تھا وہ ماضی بعید کی بات لگتی ہے ۔ تحریک انصاف کی حکومت کچھ معاملات میں کریڈٹ لے سکتی ہے ، جس میں سب سے نمایاں عالمی وبا سے بہتر طریقے سے نمٹنا ہے ۔ اس نے وبا کے بدترین اثرات کے باوجود معیشت کا پہیہ چالو رکھنے کیلئے بہترین کام کیا۔ پاکستان نے خود کو ڈوبنے سے بچایا اور تیرتا رہا۔ لیکن گورننس ایک وسیع کینوس ہے ۔ یہ وہ کینوس ہے جو بہت دھندلا ہے ۔گندم یا چینی کی قیمت کے انتظام کی بات ہو،منافع خور گروہوں کو ٹارگٹ کرنے یا نجکاری کے عمل کو کنٹرول کرنے کا معاملہ ہو، تیل اور توانائی کی انڈسٹری اور اس کی ترسیل کی مینجمنٹ ہو، کمر توڑ گردشی قرضے ہوں،

سی پیک منصوبوں کی تیزی سے تکمیل،کراچی کے معاملات ہوں اور ملک کے سب سے بڑے شہر میں جس نے قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کو کئی ارکان دئیے ، وفاقی فنڈز والے منصوبے ہوں، نیب قوانین میں آرڈیننس کے ذریعے ترامیم ہوں،الیکشن کمیشن اور الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے معاملات سے نمٹنے کیلئے حکومت کا طرز عمل ہو یاتحریک لبیک پاکستان کو ہینڈل کرنے کی بات ہو، ان میں سے کسی بھی معاملے میں کریڈٹ لینے کا دعویٰ نہیں کیا جا سکتا۔ اور ایسا شائستہ ہونا ہے ۔ جہاں تک سیاسی معاملات ہیں، ایک ایسی بے حسی پائی جاتی ہے جس کی سرحدیں تکبر سے ملتی ہیں۔ اگر حکومت ایک اتحاد پر مبنی ہے تو اتحادی، اگرچہ تعداد میں کم ہی ہوں، اہمیت رکھتے ہیں اور توجہ کے مستحق ہیں۔ اس کے برعکس وہ نظرانداز کئے جانے کی شکایت کرتے ہیں۔ اہم معاملات پر مشکل سے ہی ان کے ساتھ مشورہ کیا جاتا ہے ۔ معاملات اس طرح سے تو نہیں چل سکتے ۔ وزیراعظم نے کتنی دفعہ لاہور میں چودھریوں سے ملاقات کی ہے ؟ اگر مجھے یاد ہے تو شاید ایک دفعہ۔ انہوں نے کتنی دفعہ کراچی میں ایم کیو ایم سے ملاقات کی؟ کتنی دفعہ وہ کراچی میں پگارا کے ہاں گئے ؟کتنی دفعہ انہوں نے اس کراچی کا دورہ کیا جہاں سے انہیں غیرمتوقع طور پر پارلیمنٹ کی بہت زیادہ نشستیں ملیں؟نوے کی دہائی کے وسط میں، میں وزارت پانی و بجلی میں جوائنٹ سیکرٹری تھا۔ وفاق میں پیپلز پارٹی کی حکومت تھی۔ آصف زرداری اتحادیوں کے انچارج تھے اور ہدایت یہ تھی کہ مولانا فضل الرحمٰن، نوابزادہ نصراللہ خان اور حامد ناصر چٹھہ کیساتھ بہترین سلوک روا رکھا جائے اور ان کیلئے تمام رکاوٹیں ہٹائی جائیں۔لوگوں کو عمران خان سے بہت امیدیں تھیں اور وہ بجا طور پر سمجھتے تھے کہ یہ شفاف انسان ہے جو ڈلیور کر سکتا ہے ۔ صاف شفاف ہونا بہت بڑی خوبی ہے لیکن کامیاب حکومت کیلئے کافی نہیں ہے ۔ سیاست میں اور بالخصوص

اتحادی حکومت میں وزیراعظم کو سب کی بات سننا پڑتی ہے اور دیکھنا پڑتا ہے ۔اسے اس بات پر توجہ دینا پڑتی ہے کہ اس کے اتحادی کیا کہہ رہے ہیں اور کیا کر رہے ہیں۔ اسے بہترین مشاورت کی ضرورت اور اس پر توجہ دینی ہوتی ہے ۔اسے صرف اپنے گرد وفاداروں کا حلقہ ہی نہیں چاہیے ہوتا بلکہ تجربہ کار اور مخلص پیشہ ور افراد کی ضرورت ہوتی ہے جو اسے سچ بتانے کے قابل ہوں اور مشورہ دیں کہ حکومت اور ملک کیلئے کیا بہتر ہے ۔ اگلے الیکشن میں ڈیڑھ سال باقی ہیں، انہیں جلد ان فوائد یا مثبت باتوں کو لکھنا چاہیے جو بدقسمتی سے زیادہ نہیں ہیں۔ انہیں بھٹکانے والوں اور مخالفوں نے اس ملک کی بہت کم خدمت کی ہے ۔ وہ زیادہ تر خود کی ہی خدمت کرتے رہے ہیں۔ بدعنوان اور بددیانت۔اور یہی چیزموجودہ صورتحال کو تشویشناک بناتی ہے ، کیونکہ یہی لوگ مسٹر کلین کی جگہ لیں گے اور ہمیں دوبارہ سواری کیلئے پکڑ لیں گے ۔اور یہی میری عمران خان کیخلاف سب سے بڑی شکایت ہے ۔ان کا سب کچھ خود ہی کرنے پر اصرار، سنجیدہ مشاورت سے گریز، ملک کے سب سے بڑے صوبے کو سول اور پولیس افسروں کی مسلسل تبدیلی کر کے ہینڈل کرنے اور انتظامی مشینری کو موثر طریقے سے استعمال کرنے کی اہلیت نہ ہونے سے پنجاب میں تمام ترقی کو بریک لگ چکی ہے ۔ایک قدم آگے ، دو قدم پیچھے والی صورتحال نے تبدیلی اور ترقی پر روک لگا رکھی ہے ۔حالت یہ ہے کہ کوئی بھی مولانا سے نہیں پوچھ رہا کہ وہ نوجوان بلاول سے کیسے گلے مل رہے ہیں جبکہ چند ماہ پہلے ہی وہ اس پر پیٹھ پر وار کا الزام لگا رہے تھے ۔اور کوئی بھی پیپلز پارٹی سے نہیں پوچھ رہا کہ وہ کیسے ن لیگ کی میزبانی کر رہی ہے جبکہ چند دن قبل ہی وہ ان پر ان طاقتوں کیساتھ بیک ڈور رابطوں کا الزام لگا رہی تھی۔لیکن بطور ایسے شخص جس نے کئی دہائیوں سے پاکستانی سیاست کو بہت قریب سے دیکھا ہے ، میں اس بات پر حیران نہیں ہوں جسے تبدیلی کی ہواؤں سے تعبیر کیا جا رہا ہے ۔ سب سے اہم اشارہ اس ہفتے وزیراعظم کے ظہرانے پر اتحادی جماعتوں کے کچھ ارکان کی غیرحاضری نہیں تھا بلکہ اس اہم موقع پر ان کی اپنی پارٹی کے ارکان کی غیرحاضری تھا۔ یہ حقیقت کافی پریشان کن ہے کہ انہیں یہ بھی نہیں پتا تھا کہ ان کے اتحادی مشترکہ اجلاس میں اس بل کے حق میں ووٹ نہیں دیں گے ۔بہت شور و غوغا کے بعد ان کی جانب سے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کوعجلت میں ملتوی کرنا ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے ۔ یا یہ آخری تنکا ثابت ہو سکتا ہے ؟ اپنے نتائج خوداخذ کر لیجیے ۔

Comments are closed.