چودھری صاحب نائی کے پاس شیو بنوانے گئے اور بولے ۔۔

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار علی عمران جونیئر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔دوستو،ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کی بہاریں چل رہی ہیں، ٹی وی اسکرینوں اور اخبارات میں تو تجزیہ کار اپنی اپنی ماہرانہ رائے دے ہی رہے ہیں لیکن سوشل میڈیا میں ایسا لگ رہا ہے سب کے سب ڈان بریڈمین سے کم نہیں،

ہر بندہ ایسے ایسے تجزیئے دے رہا ہے جیسے قومی کرکٹ ٹیم عرب امارات آم لینے گئی ہے۔۔کل شاہین آسٹریلیا پر جھپٹیں گے، اگر پاکستان جیت جاتا ہے تو پھر فائنل تو پکا شاہینوں کا ہی ہوگا۔۔دوسری طرف بھارتی ٹیم جو ورلڈ کپ کو ورلڈ’’گپ‘‘ سمجھ رہی تھی اسی لئے لمبی لمبی ’’چھوڑ‘‘ رہی تھی، خیر سے واپسی کا ٹکٹ کٹا چکی ہے۔۔ چلیں آج ہمارا موڈ بھی کچھ ’’گپ بازی‘‘ کا ہے۔۔لیکن اس سے پہلے آپ سے کچھ ایک دو کام کی باتیں ہوجائیں۔۔سب سے پہلے تو ایک لرزہ خیز واقعہ سن لیں۔۔ پولیس چوکی پر ایک شخص کی تلاشی کے دوران جیب سے کالے رنگ کی ایک ڈبیا نکلی۔پولیس والے نے وہ ڈبیا طلب کی تو بندے نے دینے سے انکار کر دیا، پولیس والے نے ڈبیا چھیننا چاہی تو بندے نے وہ ڈبیا مٹھی میں بھینچ لی۔پولیس والے کا شک اب یقین میں بدل چکا تھا کہ ڈبیا میں کوئی غلط ممنوعہ چیز ہے۔پولیس انسپکٹر کو بلایا گیا اور اس شخص کو تھانے لے جایا گیا اس کے باوجود یہ شخص ڈبیا پولیس کے حوالے کرنے پر کسی طور راضی نہیں تھا۔ انسپکٹر نے ہتھیار سیدھا کیا اور اس بندے سے وہ ڈبیا طلب کی لیکن سارا سٹاف یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ بندے نے اب بھی ڈبیا دینے سے انکار کر دیا۔۔اب یہ چھوٹی سی ڈبیا سب کے لئے ایک راز بن چکی تھی پولیس کی ساتویں حس پھڑک اٹھی تھی اب وہ سوچ رہے تھے شاید ڈبیا میں کوئی قیمتی ہیرا ہو گا بندے کے ہاتھ پاؤں باندھ کر اس سے وہ ڈبیا چھین لی گئی جس پر

مسافر دھاڑ دھاڑ کر رونے لگا۔پولیس والے بندے کولاک اپ میں بند کر کے ڈبیا لیکر باہر آئے اور اسے کھولا تو اندر دیکھ کر سب کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں ڈبیا کے اندر ایک نحیف سا لال بیگ تھا جو غالبا دم گھٹنے کی وجہ اب جان دے چکا تھا۔پولیس انسپکٹر نے سخت لہجے میں پوچھا سچ سچ بتاؤ یہ کیوں رکھا تھا جیب میں ؟؟؟وہ بندہ روتے ہوئے گڑگڑایا۔۔سربیوی کو ڈرانے کے لئے۔ایک پانی سے بھرے برتن میں ایک مینڈک ڈالیں اور پانی کو گرم کرنا شروع کریں – جیسے ہی پانی کا درجہ حرارت بڑھنا شروع ہو گا ، مینڈک بھی اپنی باڈی کا درجہ حرارت پانی کے مطابق ایڈجسٹ کرے گا اور تب تک کرتا رہے گا جب تک پانی کا درجہ حرارت “بوائلنگ پوائنٹ” تک نہیں پہنچ جاتا۔جیسے ہی پانی کا ٹمپریچر بوائلنگ پوائنٹ تک پہنچے گا تو مینڈک اپنی باڈی کا ٹمپریچر پانی کے ٹمپریچر کے مطابق ایڈجسٹ نہیں کر پائے گا اور برتن سے باہر نکلنے کی کوشش کرے گا لیکن ایسا کر نہیں پائے گا کیونکہ تب تک مینڈک اپنی ساری توانائی خود کو “ماحول کے مطابق” ڈھالنے میں صرف کر چکا ہو گا ،بہت جلد مینڈک زندگی سے محروم ہو جائے گا۔ یہاں ایک سوال جنم لیتا ہے ۔۔وہ کونسی چیز ہے جس نے مینڈک کو زندگی سے محروم کیا ؟۔۔ سوچئے، آپ میں سے اکثر یہ کہیں گے کہ مینڈک کو زندگی سے محروم کرنے والی چیز وہ بے غیرت انسان ہے جس نے مینڈک کو پانی میں ڈالایا پھر کچھ یہ کہیں گے کہ مینڈک اْبلتے ہوئے پانی کی

وجہ سے جان سے گیا لیکن،سچ یہ ہے کہ مینڈک صرف اس وجہ سے جان سے گیا کیونکہ وہ وقت پر جمپ کرنے کا فیصلہ نہ کر سکا اور خود کو ماحول کے مطابق ڈھالنے میں لگا رہا۔۔ہماری زندگیوں میں بھی ایسے بہت سے لمحات آتے ہیں جب ہمیں خود کو حالات کے مطابق ایڈجسٹ کرنا پڑتا ہے لیکن ایسا کرتے ہوئے خیال رکھیں کہ کب آپ نے خود کو حالات کے مطابق ڈھالنا ہے اور کب حالات کو اپنے مطابق۔۔اگر ہم دوسروں کو اپنی زندگیوں کے ساتھ جسمانی، جذباتی، مالی، روحانی اور دماغی طور پر کھیلنے کا موقع دیں گے تو وہ ایسا کرتے ہی رہیں گے اس لیے وقت اور توانائی رہتے جمپ کرنے کا فیصلہ کریں۔۔اور ہر دفعہ کنوئیں کا مینڈک بننے سے پرہیز کریں۔۔چودھری صاحب نائی کے پاس شیو بنوانے گئے اور بولے میرے گالوں پر گڑھے ہیں جس کی وجہ سے شیو ٹھیک نہیں بنتی، بال چھوٹ جاتے ہیں۔۔نائی نے دراز سے لکڑی کی چھوٹی سی گیند نکالی اور کہا اسے دانتوں کے درمیان گال کی طرف دبا لو۔۔ چودھری صاحب نے ایسا ہی کیا۔۔ ایک طرف شیو بننے کے بعد لکڑی کی گیند دوسری گال کی طرف کرتے ہوئے چودھری صاحب نے نائی سے شک کا اظہار کیا ۔۔اگر یہ گیند پیٹ میں چلی گئی تو ؟ ۔۔نائی نے چودھری صاحب کی بات بڑی تسلی سے سنی اوربڑے آرام سے جواب دیا۔۔تو کیا!کل واپس کر دینا، جیسے دوسرے لوگ واپس کر جاتے ہیں ۔۔۔ نجانے کیوں چودھری صاحب کو اس وقت سے اُلٹیاں لگی ہوئی ہیں۔

Comments are closed.