چوہدری نثار کو بیٹھے بٹھائے 3 سال بعد حلف اٹھانے کا خیال کیوں آیا ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار نسیم شاہد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔چودھری نثار علی خان اگر 24مئی کو پنجاب اسمبلی کی رکنیت کا حلف اٹھا لیتے ہیں تو سید یوسف رضا گیلانی کے بعد دوسرے بڑے رہنما ہوں گے، جنہوں نے بڑے عہدوں کے بعد ایک چھوٹے عہدے کی ذمہ داری

قبول کی۔ اس سے پہلے سید یوسف رضا گیلانی جب سینٹ میں اپوزیشن لیڈر بنے تو ان پر خاصی تنقید کی گئی کہ ملک کا وزیراعظم رہنے والا ڈپٹی چیئرمین سینٹ بھی نہیں، صرف سینیٹ کا اپوزیشن لیڈر بن سکا۔ چودھری نثار علی خان بھی غالباً اڑھائی تین سال اسی مخمصے میں پھنسے رہے کہ صوبائی اسمبلی کی نشست کا حلف اٹھائیں یا جانے دیں۔ انہوں نے صوبائی اسمبلی کا الیکشن تو کسی اور مقصد کے تحت لڑا تھا، بالکل اسی طرح جیسے شاہ محمود قریشی نے ملتان سے صوبائی نشست پر بھی زورآزمائی کی تھی۔ دونوں کا خواب پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ تھی۔ شاہ محمود قریشی کو صوبائی نشست پر حیران کن شکست ہوئی چودھری نثار علی خان قومی اسمبلی کی نشست ہارے مگر صوبائی نشست آزاد امیدوار کے طور پر جیت گئے۔ شاہ محمود قریشی تو قومی اسمبلی کا الیکشن جیت کر وزارتِ خارجہ پا گئے، مگر نثار علی خان کے پاس سوائے صوبائی نشست کے اور کچھ نہیں رہا، سو انہوں نے حلف ہی نہ اٹھایا۔ اب کہا جا رہا ہے کہ متوقع آرڈیننس کی وجہ سے چونکہ حلف نہ اٹھانے پر نشست خالی ہو جائے گی، اس لئے وہ حلف اٹھانے پر راضی ہو گئے ہیں۔ ان کے ترجمانوں نے وجہ یہ بتائی ہے کہ وہ حلقے کے عوام کی نمائندگی کرنا چاہتے ہیں، اس لئے حلف اٹھا رہے ہیں، اب ان سے کوئی پوچھے کہ تین سال تک آپ نے جو نمائندگی نہیں کی، اس کا ازالہ کیسے ہوگا؟قیاس آرائیاں کرنے والے یہاں بھی سرگرم ہو چکے ہیں۔

دور کی کوڑیاں لا رہے ہیں۔ چودھری نثار علی خان کی کرشماتی شخصیت کا حوالہ دے کر کہہ رہے ہیں کہ پنجاب میں تبدیلی آنے والی ہے۔ میاں شہبازشریف اور چودھری نثار علی خان کی جوڑی پھر متحرک ہونے والی ہے۔ یہ دونوں مل کر کوئی بھی لنکا ڈھا سکتے ہیں۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ چودھری نثار علی خان چونکہ کپتان کے کلاس فیلو رہے ہیں، اس لئے یہ پرانا تعلق بھی کوئی کام دکھا سکتا ہے۔ غرض جتنے منہ اتنی توقعات اور قیاس آرائیاں، حالانکہ زمینی حقیقت یہ ہے کہ سوائے اپنی نشست برقرار رکھنے کے چودھری نثار علی خان کا اور کوئی مقصد نہیں۔ حلف اٹھانے کے بعد وہ ایک بار پھر اپنی پہلی دنیا میں واپس چلے جائیں گے اور اچھے وقتوں کا انتظار کریں گے۔ وہ شاید صوبائی اسمبلی میں حلف اٹھانے کے بعد خطاب بھی نہ کریں۔ ان کا سیاسی قد کاٹھ ایک صوبائی نشست میں سماتا ہی نہیں۔ شاید یہی وہ حجاب تھا، جس کے باعث انہوں نے اتنے عرصے تک حلف نہیں اٹھایا۔ کل کے نوآموز سیاست دانوں کے بیچ وہ بیٹھے ہوئے کیسے لگیں گے۔ وہ تو اپنی راجپوتی میں نوازشریف کو بھی کھری کھری سنا دیتے تھے۔ اب اگر عثمان بزدار کو انہیں کچھ سنانا پڑا تو یہ ان کے لئے ایک معیوب سی بات ہوگی۔مخدوم جاوید ہاشمی نے اپنی کتاب میں ان کے حوالے سے لکھا ہے کہ وہ عہدہ حاصل کرنے کے لئے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں، لیکن یہاں کسی حد تک جانے کا امکان ہی موجود نہیں۔ وہ مسلم لیگ (ن) کی بھی گڈبکس میں نہیں خاص طور پر نوازشریف سے بہت دور ہو چکے ہیں۔

ہاں شہبازشریف سے ان کے ذاتی مراسم ہیں اور اس وقت بھی جب نثار علی خان نوازشریف کو سمجھا رہے تھے کہ وہ پوائنٹ آف نو ریٹرن تک نہ جائیں۔ یہ شہباز شریف ہی تھے جو ان کی باتوں کو درست سمجھتے تھے۔ ویسے بھی حمزہ شہباز کی موجودگی میں پنجاب اسمبلی کے اندر مسلم لیگ (ن) کے کسی اور رہنما کو فوقیت نہیں مل سکتی۔ یعنی یہ بھی ممکن نہیں کہ حلف اٹھانے کے بعد چودھری نثار علی خان کو اپوزیشن لیڈر بنا دیا جائے، جو لوگ یہ توقع کر رہے ہیں کہ چودھری نثار علی خان جوڑ توڑ کرکے پنجاب کے وزیراعلیٰ بن سکتے ہیں، کیونکہ انہیں سلیکٹرز کا اعتماد بھی حاصل ہے، وہ زمینی حقائق سے بالکل نابلد ہیں۔ دوسروں کی بات تو رہی ایک طرف چودھری نثار علی خان کو مسلم لیگ (ن) کی بھی اس حوالے سے حمایت ملنا ناممکن سی بات ہے۔سیاست میں خود کو سب کے لئے قابلِ قبول بنانا کوئی آسان کام نہیں ہوتا۔ اس کے لئے شخصیت کے اندر اتنی لچک اور گہرائی ہونی چاہیے جو دوسروں کے لئے کشش کا باعث ہو۔ چودھری نثار علی خان ہماری سیاست کا ایک ”ناراض“ کردار ہیں۔ وہ خود کو دوسروں سے برتر سمجھنے کے لئے خبط میں مبتلا رہے ہیں، حتیٰ کہ انہوں نے نوازشریف جیسے اپنے دیرینہ محسن کو بھی بوقتِ ضرورت اپنے سے دور کر دیا۔ وہ پیپلزپارٹی کے لئے بھی ایک ناقابلِ قبول شخصیت ہیں، جنہوں نے وزیر داخلہ ہونے کی حیثیت سے پیپلزپارٹی کو نشانہ بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، سو ایسے میں

جب مسلم لیگ (ن) بھی انہیں قبول کرنے کو تیار نہیں اور پیپلزپارٹی کے لئے بھی وہ ناپسندیدہ ہیں تو ان کی پنجاب میں کوئی بڑی انٹری کیسے ممکن ہے۔ ہاں یہ درست ہے کہ ان پر بدعنوانی کا کوئی داغ نہیں، ان کا کوئی سکینڈل کبھی سامنے نہیں آیا، حالانکہ وہ بڑی بڑی اہم وزارتوں میں رہے۔ ایک ایسی جماعت میں رہ کر جس کے اکثر رہنماؤں پر بدعنوانی کے الزامات اور زمینوں پر قبضوں کی کہانیاں سامنے آئیں، چودھری نثار علی خان نے اپنا دامن بچائے رکھا، مگر صرف اس خوبی کی وجہ سے تو وہ سب کے لئے قابل قبول نہیں ہو سکتے۔ اُلٹا یہ وہ خوبی ہے جو انہیں بہت سوں کے لئے ناقابلِ قبول بنا سکتی ہے۔البتہ ایک کردار وہ پنجاب اسمبلی میں ادا کر سکتے ہیں، شعلہ بیان مقرر کا کردار، پنجاب اسمبلی میں ایک دبنگ سیاستدان اور مقرر کی ضرورت ہے۔ وہ اپنے تجربے اور اپنی آزاد فطرت کے باعث پنجاب اسمبلی کے تنِ بدحال میں جان ڈال سکتے ہیں، ان کی ایوان میں موجودگی اسے بھاری بھرکم بنا دے گی۔ اس وقت چودھری پرویز الٰہی پنجاب اسمبلی کو ہیڈماسٹر کی طرح چلا رہے ہوتے ہیں، کیونکہ ایوان میں تجربہ کار پارلیمنٹیرین کی کمی ہے۔ چودھری نثار علی خان کسی سیاسی جماعت میں شامل نہ بھی ہوں تو آزاد حیثیت سے اپنے وجود کومنوا سکتے ہیں۔ چودھری نثار علی خان کے منطر عام پر آنے سے کوئی بڑی تبدیلی نہ بھی آئے تو کم از کم قومی سیاست کو ایک بلند آہنگ آواز اور ایک قدآور شخصیت واپس ضرور مل جائے گی، جس کی فی الوقت اشد ضرورت ہے۔ کچھ لوگ چودھری نثار علی خان کے متحرک ہونے کو تحریک انصاف میں جہانگیر ترین گروپ سے جوڑ رہے تھے۔ اب تو جہانگیر ترین گروپ کے معاملات طے ہو گئے ہیں، طے نہ بھی ہوتے تو چودھری نثار علی خان اس میں شامل ہونے کو تیار نہ ہوتے۔ 2018ء کے عام انتخابات سے پہلے عمران خان نے انہیں تحریک انصاف میں شامل ہونے کی دعوت بھی دی تھی، جسے انہوں نے یہ کہہ کر قبول نہیں کیا تھا کہ وہ مسلم لیگ (ن) نہیں چھوڑ سکتے۔ غالباً اب بھی اسی موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ سیاست میں ان کی واپسی ایک ہلچل ضرور مچا سکتی ہے، تاہم ایسی ہلچل نہیں جو پورے نظام کو اتھل پتھل کر سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *