چٹکلوں سے سجی ایک دلچسپ تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار علی عمران جونیئر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔آٓج بہت ہی پیارا دوست مجھے قائل کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ پاکستان کا وزیراعظم عمران خان ملک کی تقدیر بدل دے گا۔ ۔آدھا گھنٹہ بولتا رہا میں چپ کر کے سنتا رہا میں نے کوئی جواب نہیں دیا،

آخر وہ خود ہی بولا ۔۔تم بولتے کیوں نہیں؟؟۔۔ میں نے کہا کہ۔۔۔ کتنا اعتبار کرتے ہو میرا  ؟؟۔۔کہنے لگا، اپنے آپ سے بھی زیادہ۔۔پھر میں نے کہا۔۔یار مجھے دس ہزار روپے کی اشد ضرورت ہے۔۔وہ پھٹاک سے بولا۔۔یار تم بے شک بیس ہزار روپے لے لو،لیکن واپس کب کروگے؟؟ ۔۔میں نے کہ۔۔جب عمران خان  ملک کی تقدیر بدل دے گا تو واپس کر دوں گا۔۔میری بات سن کر اس کے چہرے کا رنگ اچانک فق ہوگیا۔۔ مایوسانہ انداز میں گردن جھکا کر کہنے لگا۔۔اے تے ناں دین والی گل ھوئی ناں،میں کوئی بچہ واں۔۔ہم اکثر اپنی تحریروں میں ایک آدھ پنجابی جملہ ’’ٹانک‘‘ دیتے ہیں۔۔ اکثر دوست شکوہ کرتے ہیں کہ ترجمہ بھی لکھا کریں، ایسے احباب سے وعدہ ہے کہ جب ہمیں لگا کہ ہم مشکل پنجابی لکھ رہے ہیں تو لازمی ترجمہ بھی لکھیں گے۔۔ایک دوست نے پوچھا کہ آپ پنجابی تو نہیں؟ ان کو ہم نے میل کا رپلائی تو نہیں دیا لیکن یہاں بتادیتے ہیں کہ ہم ’’کٹر‘‘ پٹھان ہیں، یہ جو ہم کبھی کبھار پنجابی جملے کا تڑکا لگادیتے ہیں اس سے آپ قطعی یہ نہ سمجھئے گا کہ۔۔۔لگدا لہور دا اے۔۔۔ لاہور میں چا ر سال گزارے ،وہاں کے پانی کا اثر آہستہ آہستہ ہی جائے گا۔۔پنجابی زبان کا ذکر چل نکلا ہے تو کچھ بات اس پر بھی ہوجائے۔۔پنجابی میں زیادہ تر ’’یااللہ‘‘ کی جگہ۔۔ہائے او میریا ربا، کہاجاتا ہے، جوزیادہ جذباتی بھی لگتا ہے۔۔اردو میں ہم کسی پر طنز کچھ اس طرح کرتے ہیں کہ۔۔ اب آپ خوش ہیں؟؟ اگر پنجابی میں طنزکیا جائے توکہیں گے۔۔ پے گئی ٹھنڈ تینوں؟؟میرا پیچھا چھوڑدو کو ہم پنجابی میں کہتے ہیں۔۔ مگروں لہہ جا۔۔جسے سمجھ آجاتی ہے وہ بھی مگروں لہہ جاتا ہے۔۔اکثر فون پر کہتے ہیں۔۔اور سناؤ؟؟ لیکن پنجابی کہتے ہیں۔۔ہور کوئی نویں تازی۔۔اس کے بعد باتوں کا سلسلہ چل پڑتا ہے۔۔ آپ اپنے آپ میں رہیں کو پنجابی زبان والا بولے گا۔۔ اوئے بندے دا پتر بن۔۔چھوڑو یار کی جگہ مٹی پاؤ۔۔ اپنے کام سے کام رکھو ۔۔اردو میں کتنا طویل جملہ ہے، لیکن اسے پنجابی زبان والے بولیں گے تو۔۔ تینوں کی؟؟۔۔ خوش آمدید کو جی آیانوں کہتے ہیں تو جی بھی خوش ہوجاتا ہے۔۔پنجابی میں ہم یہ نہیں کہتے کہ فاصلہ رکھیں۔۔بلکہ کہتے ہیں۔۔پراں مر۔۔

Comments are closed.