چچا بھتیجی کی عداوت کی اصل کہانی

لاہور (ویب ڈیسک) گزشتہ ونوں وارث شاہ کا عرس منایا گیا۔ داستان ہیر رانجھا کے شاعر وارث شاہ دنیائے ادب میں ایک بلند مقام رکھتے ہیں جبکہ ان کا قصہ ’’ہیر‘‘ ایک غیر فانی شاہکار اور عالمی سطح کا ادب پارہ ہے۔ اس قصے میں ایک کردار ’’کیدو‘‘ کا ہے۔ جسے وارث شاہ نے ولن کے

نامور کالم نگار تنویر ظہور اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔روپ میں پیش کیا ہے۔ ہر دور میں کیدو کا کردار ادا کرنے والے موجود رہے ہیں۔ اس کردار کے بارے میں بعض دانشوروں نے حق اور بعض نے خلاف لکھا۔ وارث شاہ نے کیدو کو ہیر کا چچا لکھا ہے۔ کیدو نسلی اعتبار سے ہیر کا چچا نہیں تھا۔ پنجاب کے عام رواج کے مطابق والد کے ہم عمر دوست کو ازراہِ ادب اس لفظ سے خطاب کرتے ہیں۔ بہر کیف کیدو، ہیر کی برادری ہی کا فرد تھا۔ ہیر کے والد چوچک سے اسکے تعلقات اچھے تھے۔ کوئی حقیقی چچا اپنی بھتیجی کے ساتھ ایسے بُرے سلوک کو روا نہیں رکھتا۔ لغت میں کیدو کے معنے چغل خور، چالاک، مکار اور لنگڑا لکھے گئے ہیں۔ چغل خور اس لیے لکھا گیا ہے کہ کیدو، ہیر کے والد کو ہیر اور رانجھا کی خفیہ ملاقاتوں کے بارے میں آگاہ کرتا رہتا تھا۔ ’’کید‘‘ کی چارہ سازی اور حیلہ جوئی کو کہتے ہیں۔ یہ اچھے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے اور برے معنوں میں بھی۔ بالعموم بُرے معنوں میں آتا ہے۔ قرآن کریم میں دشمنوں کی خفیہ یا عام تدبیر کو ’’کید‘‘ کہا گیا ہے۔ ساحرین فرعون کی شعبدہ بازی کو بھی ’’کید‘‘ کہا گیا ہے۔ سورہ طور میں ’’مکیدن‘‘ آیا ہے یعنی وہ جو سازش کا شکار ہو جائیں۔ سکے دار (مرحوم) نے فلم انڈسٹری میں اپنا نام اور مقام بنایا۔ انہوں نے فلم کیلئے نہ صرف کہانیاں، مکالمے اور گیت لکھے بلکہ بعض فلموں میں اداکاری بھی کی۔ ان سے میری دوستی رہی۔ سکے دار کا کیدو کے بارے میں نظریہ

وارث شاہ سے مختلف تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’کوئی باپ یا چچا ایسے چال چلن کو برداشت نہیں کر سکتا، جو ہیر کا تھا۔ رانجھا ایک نکما اور نکھٹو نوجوان تھا۔ ہیر کے والد چوچک نے اپنی عزت بچانے کے لیے اپنی بیٹی ہیر کی شادی کسی اور کے ساتھ کردی۔ مگر رانجھا نے پھر بھی ہیر کا پیچھا نہ چھوڑا۔ وارث شاہ کی شاعری بلند درجے کی ہے۔ داستان گوئی بھی خوبصورت ہے مگر ’’کیدو‘‘ کے کردار کے بارے وارث شاہ کے موقف سے میں اتفاق نہیں کرتا‘‘ 9 ستمبر 1980ء کو ’’نوائے وقت‘‘ میں پنجابی کی معروف افسانہ نگار اور کالم نگار رفعت (رفعت قادر حسن) کا مضمون شائع ہوا۔ جس کا عنوان تھا ’’ہیر وارث شاہ۔ فصاحت و بلاغت کے پردے میں ہندو سوچ اور اکبر کے دین الہی کا پرچار‘‘۔ محترمہ رفعت (اب مرحومہ) نے اس مضمون میں لکھا ’’وارث شاہ نے کیدو کو شیطان کا نام دیا ہے۔ غور کیا جائے تو یہ نام اس پر سجتا نہیں کیونکہ کیدو تو لڑکیوں کو بُری حرکتوں سے روکتا تھا۔ اس کا کردار تو ٹھیک تھا بالکل گاؤں کے بڑے بوڑھوں جیسا کہ وہ اپنے گاؤں کی لڑکیوں کو حد سے تجاوز کرنے سے ٹوکتے ہیں‘‘ جب یہ مضمون چھپا تو چودھری ظہور الہی نے اسی اخبار میں جوابی مضمون لکھا جو 14 اکتوبر 1980ء میں شائع ہوا۔ چودھری ظہور الہی نے لکھا ’’پنجاب کی ایک بیٹی رفعت صاحبہ نے اپنے مضمون میں نہ صرف ہیر وارث شاہ پر بحیثیت اس قصے پر تنقید کی ہے بلکہ وہ کچھ تحریر کیا ہے جس سے پنجاب کے لاکھوں لوگوں کو دلی صدمہ ہوا ہے۔ محترمہ نے جس بے دردی سے پنجاب کے ورثہ اور ثقافت پر چوٹ ماری ہے، یہ پنجاب کیلئے ایک بہت ناقابل تلافی نقصان اور پنجاب کے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہی نہیں بلکہ ظلم ہے۔ وارث شاہ کی تعریف الفاظ میں جتنی بھی کی جائے، اس کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ محترمہ رفعت کو معلوم ہونا چاہیے کہ وارث شاہ پنجاب کا ورثہ ہی نہیں بلکہ بجا طور پر ان کا نام پنجاب کے وارث ہونے کے ناتے ہی سے وارث شاہ رکھا گیا تھا مگر یہ صرف محترمہ رفعت ہی نہیں، پہلے بھی ہر شعبے میں پنجاب کے ساتھ زیادتی ہمیشہ پنجابیوں ہی نے کی ہے‘‘

Sharing is caring!

Comments are closed.